’اس کے بعد تو یہی بات رہ گئی کہ  ہر کتا بلا عدالتوں پر بھونکنا شروع کردے ‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

’اس کے بعد تو یہی بات رہ گئی کہ  ہر کتا بلا عدالتوں پر بھونکنا شروع کردے ‘ ...
’اس کے بعد تو یہی بات رہ گئی کہ  ہر کتا بلا عدالتوں پر بھونکنا شروع کردے ‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم
سورس: Wikimedia Commons

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)  لاہور ہائیکورٹ نے سول جج ساہیوال اوراسسٹنٹ کمشنرکےتنازع سےمتعلق درخواست پرسماعت کرتے ہوئے  اسسٹنٹ کمشنر فتح جھنگ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ سرکاری لا آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ اے سی فتح جھنگ عظیم شوکت اعوان نے ایک ٹویٹ کیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ  اسسٹنٹ کمشنرعظیم شوکت نے عدالتوں کیخلاف توہین آمیز الفاظ لکھے، اس کے بعد تو یہی بات رہ گئی ہے کہ  ہر کتا بلا عدالتوں پر بھونکنا شروع کردے، سوشل میڈیاپرافسران عدالتوں پرتنقیدکرتے ہیں،ایف آئی اےہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھی ہے ،ڈی جی ایف آئی اے ہر سماعت پر تحقیقات کی رپورٹ پیش کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ افسران عہدے لینے کیلئےحکومتی عہدیداروں کے چمچے بنے ہوئے ہیں، وزیراعلیٰ کے گھر کے باہر زمین پر قبضے کیخلاف احتجاج کیلئےگئے، وزیراعلیٰ نے نہ انکوائری کی اور نہ ان کی بات سنی، بغیر وجہ پولیس افسرتبدیل کردیے۔

چیف جسٹس نے عدالتوں کو تالے لگانے کا بیان دینے والے اے سی حیدر علی پر سخت اظہار برہمی کیا اور کہا کہ آپ کو بتاتا ہوں عدالتوں کو تالے کیسے لگائے جاتے ہیں،  اب تک تو ایسے بندے کو ملازمت سے فارغ کردینا چاہیے تھا، اس اسسٹنٹ کمشنر کو سزا ملے گی تو باقی بیوروکریٹ ٹھیک ہو جائیں گے، چیف سیکرٹری نے ابھی تک اس کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟ چیف جسٹس نے اے سی حیدر علی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 25 مارچ کی تاریخ مقرر کردی۔

مزید :

اہم خبریں -علاقائی -پنجاب -لاہور -