لانگ مارچ اور عوام کے اندازے 

لانگ مارچ اور عوام کے اندازے 
لانگ مارچ اور عوام کے اندازے 

  

حکومت کے چوتھے سال میں آخر حزب اختلاف جماعتوں پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن جمعیت علماء اسلام اور دیگر کو بظاہر قوم کی بے بسی، مہنگائی، لوٹ مار سمیت حکومت کے بہت سے اقوال و افعال سے اختلاف پیدا ہوگیا پیپلز پارٹی نے توقع سے زیادہ تعداد میں عوام کو لے کر کراچی سے سفر شروع کیا۔جمعیت علماء  اسلام ڈی آ ی خان سے اپنا سفر شروع کرنے کو تیار ہے لیکن منزل سب کی شہر اقتدار ہی ہے اپوزیشن جماعتوں کی سرتوڑ کوشش رہے گی کہ کسی طرح عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے معزول کر دیا جائے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس اراکین پارلیمنٹ پورے ہیں لیکن بظاہر ایسا نظر نہیں آتا پی ڈی ایم کی اچانک حکومت  کے خلاف محاذ آرائی بہت سے سوالوں کو جنم دے رہی ہے ایک عوام کی بے بسی دو  اقتدار کی پیاس تین غیر ملکی سازش ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن سوال یہ بھی ہے کہ چار سال سے عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں عوام سے کیا گیا کوئی وعدہ وفا نہیں ہو سکا بے روزگاری میں اضافہ ہوچکا ہے ایکسپورٹ،سٹاک ایکسچینج انڈسٹری ہر ادارہ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے تو کیا حزب اختلاف  جماعتوں کو یہ عدم اعتماد لونگ مارچ  بہت پہلے نہیں کرنا چاہیے تھا یا پھر پرانے آقاؤں کو اپنے غلاموں کی آزادی تکلیف دے رہی ہے عین ممکن ہے کہ موجودہ حکومت کا چین اور روس کے ساتھ لگاؤ پرانے دوستوں کے وارے میں نہ ہو عین ممکن ہے حکومت گرانے کے لیے غیرملکی طاقتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہو ں خیر ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا یہ تو محض عوام کے اندازے ہیں جو غلط بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات تو صاف نظر آرہی ہے کہ لانگ مارچ نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں عوام نے اتنا ہارا ہوا عمران خان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا عوام کے لئے تو اس وقت بھی کوئی خاطر خواہ ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا تھا جب عوام لاک ڈاؤن میں دو وقت کی روٹی سے بھی عاجز آچکے تھے تو اب یہ پیکیج بھی اپنی جگہ پر بہت سے سوالوں کو جنم دے رہا ہے حکومت کا یک دم پٹرول دس  روپے اور بجلی پانچ  روپے سستی کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے اور ساتھ ہی ایل پی جی ستا ئیس روپے فی کلو بڑھا دینا یہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں ہے کیونکہ حکومت پہلے بھی بہت دفعہ ایسے کارنا مے  انجام دے چکی ہے  اس سے عوام کو ریلیف ملے نہ ملے لیکن ایک بہت بڑا پٹرول بحران سر پر کھڑا ہے  ملکی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم کرنا اس وقت ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ  عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں نہ سبسڈی دینے کے لیے حکومت کے پاس پیسے ہیں اس صورتحال میں ایک نیا بحران سر پر کھڑا ہوگیا ہے ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ بھی ہو کیونکہ عوام کے اندازے ہی غلط بھی ہو سکتے ہیں اس کے باوجود بھی حالات بہت پیچیدہ نظر آرہے ہیں اگر وزیراعظم کو خود چوہدری برادران کی خیریت دریافت کرنے کے لئے ان کے گھر جانا پڑا تو یہ عام حالات کی نشاندہی نہیں ورنہ وزیراعظم تو آپنے بہت سے قریبی ساتھیوں کے جنازوں میں بھی شریک نہیں ہوئے  جنہوں نے انہیں وزیراعظم بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کرنے کے لئے جانا کوئی مروت نہیں تھی کیوں کہ خان صاحب تو مروت پر یقین ہی نہیں رکھتے  یقین رکھتے تو شاید میڈم کلثوم  نواز کے جنازے میں شرکت کر لیتے لگتا ہے کہ خان صاحب کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا ہے شاید وہ یہ یقین کرنے کے لئے چوہدری برادران کے گھر پہنچے کہ کہیں انہوں نے اپوزیشن سے ہاتھ تو نہیں ملا لیا لیکن چودھری سیاست کے بڑے پکے کھلاڑی ہیں جب تک انہیں یقین نہیں ہوجاتا کہ حکومت جانے کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں ان کو کیا حصہ ملے گا تب تک وہ کسی صورت حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے خیر  یہ  تو عوام کے اندازے ہیں غلط بھی ہو سکتے ہیں کوئی بھی محب وطن پاکستانی یہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ اگر اس لانگ مارچ کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ شامل ہیں اور تو اپوزیشن جماعتیں کامیاب ہو ں اگر انہیں عوام کا خیال آگیا ہے اور وہ عوام کے لئے سڑکوں پر نکلے  ہیں تو عوام  ان کا خیر مقدم کریں گے شاید عوام یہ بھی مان لیں کہ دیر آئے درست آئے لیکن پھر بھی کچھ عوامی حلقے یہ نہیں چاہتے کہ حکومت گرائی جائے اور پی ٹی آئی اپوزیشن میں چلی جائے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انہیں  پی ٹی آئی سے محبت ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ پانچ سال پورے کریں  اور ہمیشہ کے لئے ان کا حال ق لیگ جیسا ہو جائے خیر یہ تو عوام کے اندازے ہیں جو غلط بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -