سورہ یوسف کا ہمارے معاشرتی پس منظر میں ایک اجمالی جائزہ

سورہ یوسف کا ہمارے معاشرتی پس منظر میں ایک اجمالی جائزہ
سورہ یوسف کا ہمارے معاشرتی پس منظر میں ایک اجمالی جائزہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اپنے بچپن اور زمانہ طالب علمی میں محراب و منبر سے قرآن کریم کی ایک بڑی خوبصورت سورہ یوسف کو عمومی طور پر یوسف زلیخا کے ایک رومانوی قصہ کے طور پر خوش الحانی سے ہی سنا مگر جب اسی سورہ یوسف کو شعور کی آنکھ سے دیکھا تو اسمیں عقل و خرد اور بصیرت و بصارت کے کئی در کھلے دیکھے،اس سورہ میں  توحید اور توکل علی اللہ کے اٹل پیغام کے ساتھ  کئی معاشرتی مسائل کے ساتھ معیشت اور کچھ دیگر اہم باتوں کا بھی ادراک ہوا۔                             بنیادی طور پر سورہ یوسف حضرت یوسف علیہ السلام کی پر کشش، ہمہ جہت، صابر و شاکر،عالی ہمت اور باوقار شخصیت کے گرد گھومتی ہے، اس میں کن  معاشرتی مسائل کا ذکر ہے انکا ذرا تفصیل سے احاطہ کرتے ہیں۔ 
حضرت یوسف علیہ السلام ایک جلیل القدر نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کے انتہائی خوبرو اور سعادت مند بیٹے تھے اور انکے والد محترم ان سے بے پناہ پیار اور وارفتگی رکھتے تھے اور یہ واحد وجہ ہی انکے سوتیلے بھائیوں کے دلوں میں یوسف علیہ السلام کے لیے حسد اور بغض کی تھی۔ حسد کوئی نئی بیماری نہ ہے بلکہ یہ ہابیل اور قابیل کے درمیان بھی وجہ تنازعہ بنی اور روئے زمین پر پہلے انسانی خون سے اسکی آبیاری ہوئی۔ ہمارے معاشرے میں حسد چہار سو اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے، حسد کی سادہ ترین تعریف تو خدائی تقسیم سے انکار ہے اور شاید ہی کوئی دل اس خوفناک مرض سے بچا ہو۔ ایک مفہوم حدیث مبارک ہے کہ " ہر صاحب نعمت سے حسد کیا جاتا ہے، یہ حسد آپکے دنیاوی جاہ و جلال سے ہو سکتا ہے، آپکے عہدہ سے، مال و دولت سے، کاروبار سے، رہائش سے، اچھی گاڑی سے، آپکی اچھی شکل و صورت سے، آپکی اولاد کی کامیابیوں سے، غرض آپکے پاس ہر نعمت اور آسائش سے ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ہمارے خیال میں جب انسان شکل و صورت،قدو قامت،جسمانی ساخت،قوت و توانائی،ذہانت و فطانت،ذہنی استعداد اور جاہ و منزلت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہ یقیناً خدائی تقسیم ہے تو پھر حسد کس بات کا۔حضرت یوسف علیہ السلام کو اندھے کنوئیں میں انکے سوتیلے بھائیوں کا پھینکنا حسد کی آگ ہی تو تھی ورنہ اس معصوم کمسن یوسف نے کونسا جرم کیا تھا کہ اسکے سوتیلے بھائی اسکی جان کے درپے تھے۔ 
اس سورہ میں ایک اور بڑا معاشرتی سبق ہے کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائی انہیں کنویں میں پھینک کر ایک عجب طرح کے احساس تفاخر میں مبتلا تھے مگر قدرت نے انہیں ذلیل و رسوا کرکے مصر میں یوسف علیہ السلام کے قدموں میں آ گرایا۔ پھر تاریخ کا ایک عظیم سبق کہ بدلہ لینے کی قدرت رکھتے ہوئے یوسف علیہ السلام نے اپنے انہی سوتیلے بھائیوں کو کمال فراخدلی سے معاف کر دیا، کچھ اس قسم کا منظر چشم فلک نے فتح مکہ کے موقع پر بھی دیکھا۔ سورہ یوسف ہجرت مدینہ سے کچھ ہی عرصہ قبل نازل ہوئی جب کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانی طور پر نقصان پہنچانے کے درپے تھے، اس سورہ میں حضرت یوسف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے مخالفین، حاسدین اور ناقدین کے ساتھ نہایت اعلی اور عفو و درگزر والے سلوک کی وہ دلکش اور دلپذیر جھلک نمایاں ہے کہ تاریخ تا ابد انکی نظیر پیش نہ کر سکے گی۔یہ وسیع القلبی، یہ تسامح،یہ عفو و درگزر ان عالی شان لوگوں کی ہی سنت تھی اور یہ تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جو ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے گا۔ 
اسی سورہ میں  ایک عبرت انگیز سبق یہ بھی ہے کہ قدرت لوگوں کے درمیان دن بدلتی ہے۔آج کے شہنشاہ کل کے گدا ہو سکتے ہیں، جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو اندھے کنوئیں سے نکال کر مصر کی فرمانروائی بخشی اس میں بڑا گہرا سبق پنہاں ہے کہ وہ مالک کائنات اس ارض و سما کے لیل و نہار، بحر و بر اور شمس و قمر پر پوری دسترس رکھنے والا جب چاہے کسی کو سلطنت بخش دے اور جب چاہے اختیار و اقتدار سے محروم کر دے۔
 سورہ یوسف میں جس رومانوی قصہ یوسف زلیخا کو مرچ مصالحہ لگا کر بیان کیا جاتا ہے اسکے اندر بھی کئی عقل و خرد کے در کھلے ہیں۔ اس قصہ میں عزیز مصر کی خوبرو بیوی زلیخا کا حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے جال میں پھانسنے کی والہانہ کوشش اور حضرت یوسف علیہ السلام کا کمال کا ضبط، حوصلہ اور کردار کی پختگی اور پھر جب اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے دست درازی کی کوشش کی اور آپکی قمیض بھی پھاڑ دی تو خاندان کے ایک جہاں دیدہ بزرگ نے معاملہ اس طرح سمیٹا کہ اگر یوسف علیہ السلام کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو یوسف قصور وار اور اگر یہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت قصور وار۔ کرتہ پیچھے سے پٹھا تھا اسلئیے سبھی کو اندازہ ہوگیا کہ اس عورت نے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کی تھی، اس واقعہ میں قانون کے طالب علموں کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے کہ واقعاتی شہادت کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے۔۔                                            حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی کے باوجود انہیں عزیز مصر نے قید خانہ میں ڈال دیا اور وہ وہاں کئی برس پڑے رہے مگر پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی اور جب قید خانہ سے رہائی کا حکم ہوا تو آپ نے اپنی بے گناہی کی تصدیق تک جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اسی ز لیخا نامی عورت نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی اور معصومیت کا بر ملا اقرار کیا۔ یہ ہے وہ کردار کی بلندی اور عظمت جو اللہ کے نبیوں ہی کی سنت ہے۔ اس موقع پر حضرت یوسف علیہ نے قرآن کی زبان میں جو کہا وہ اہل عقل و شعور کے لیے بصیرت کا اک جہاں لیئے ہوئے ہے،اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام کسی غرور و تکبر کا اظہار نہیں کرتے بلکہ فرماتے ہیں " مجھے اپنی پاکدامنی کا دعویٰ نہیں۔نفس کا کام ہی برائی کا حکم دینا ہے مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔بے شک میرا پروردگار غفور و رحیم ہے۔"" کیا شان ہے اس تواضع اور تمکنت و وقار کی اس انکسار میں۔۔۔ بیشک ارباب عزیمت نفس کی ان چالوں میں نہیں آتے۔یہ کم ہمت اور کم ظرف سالک ہیں جو نفس کے ان ہتھکنڈوں کے سامنے آسانی سے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔                                    اس سورہ میں معیشت کا یہ پہلو بھی عیاں ہوا کہ جب قحط یا غذائی قلت کا  واضح اندیشہ ہو تو اچھے دنوں میں کچھ غلہ یا کھانے پینے کی اشیا  حکومتی سطح پر محفوظ کر لیں کہ قحط سالی میں کام آ سکیں مگر اس کو ذخیرہ اندوزی کا متبادل نہ سمجھ لیں۔
سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، بھروسہ اور توکل ایک کمال شان سے عیاں ہے۔ کہ اندھے کنوئیں سے، قید خانہ اور پھر مصر کی حکمرانی ہر موقع پر اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس قدر بھروسہ اور توکل کہ قید خانہ میں بھی دیگر دو قیدیوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں " کہ اے میرے زندان کے ساتھیو کیا ایک اللہ کی عبادت ٹھیک ہے یا بہت سے متفرق خداؤں کی۔۔ایک اور بڑی گہری اور خوبصورت بات بھی سورہ یوسف میں کچھ یوں بیان ہوئی ہے کہ ہر صاحب علم کے اوپر بھی کوئی علم والا موجود ہے  اور صاحب علم  اور اہل عقل و خرد ہی اس بات کا صحیح لطف اٹھا سکتے ہیں۔ 
سورہ یوسف میں ایک اور بڑا سبق یہ بھی ہے کہ بعض اوقات دنیاوی مشکلات، مصائب اور آزمائشیں کسی بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں، دشمنوں کی چالوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت عملی زیادہ موثر اور کامیاب ہوتی ہے اور کامیابی ملنے کی صورت میں اللہ کے بندے غرور و تکبر اور انتقام کی بجائے جانی دشمنوں سے بھی عفو و درگزر، بردباری، تحمل، برداشت اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آخری فتح طاقت کے نشہ یا گھٹیا چالوں کی بجاے انسانی ضبط، برداشت اور اعلیٰ کردار کو ہی ملتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -