خالی جگہ پُر کریں 

  خالی جگہ پُر کریں 
  خالی جگہ پُر کریں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 مطالعہ پاکستان کے پرچے میں ”خالی جگہ پُر کریں“ والے حصے میں ہمیں یہ سوال سب سے زیادہ آسان لگتا تھاکہ پاکستان ایک (زرعی) ملک ہے یہی وجہ ہے کہ ”پاکستان خوراک کے معاملے میں (خود کفیل) ہے“۔تاہم آج کل کے بچے اس ”سدا بہار“ سوال سے نا واقف ہونگے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک تو ہے لیکن اس زرخیز دھرتی پر دھڑا دھڑ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں اور بد قسمتی سے اب پاکستان خوراک کے معاملے میں بھی ”خود کفیل“ نہیں رہا۔اس لئے رواں سال کے دوران پاکستان کو گندم کے 9 فیصد شارٹ فال کاسامنا ہوگا اور خوراک کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمیں بیرون ملک سے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا ہوگی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گندم کی مجموعی طلب30 ملین ٹن ہے جبکہ مجموعی ملکی پیداوار 26 ملین ٹن تک رہنے کا امکان ہے جبکہ  ایک ملین ٹن گندم کا ”کیری فارورڈ“ ہے، لہٰذا مجموعی ملکی پیداوار اور طلب کے درمیان30 لاکھ ٹن گندم کا خسارہ موجود ہے۔ وزارت فوڈ سکیورٹی کے مطابق شارٹ فال کی وجہ گندم کے زیر کاشت رقبے میں 15 لاکھ ایکڑ کمی ہے۔دوسری جانب اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نئی فصل کی خریداری کے لئے گندم کی امدادی قیمت3900 روپے فی40کلو گرام مقرر کر دی ہے۔ وفاقی حکومت 80 لاکھ ٹن گندم خریدے گی،اس کے علاوہ پنجاب 35 لاکھ ٹن، سندھ حکومت 14 لاکھ ٹن جبکہ پاسکو کو تقریبا ً 18 لاکھ ٹن گندم خریداری کا ہدف دیا گیا ہے۔


دنیا بھر میں فوڈ سکیورٹی بہت اہمت مسئلہ ہے، پہلی جنگ عظیم میں طاقتور ملکوں کے پاس موجود وافر جنگی ہتھیارہونے کے باوجود فیصلہ کن کردار گندم نے کیا، اسی طرح انقلاب فرانس اور کمیونسٹ انقلاب کے تانے بانے بھی اسی بھوک سے جا ملتے ہیں،پاکستان میں بھی گندم اور آٹا عام آدمی کی خوراک ہے اس وجہ سے خطے کے مخصوص معاشی اور مالی حالات کے پیش نظر گندم،آٹے اور روٹی کو خاص اہمیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو غیر معمولی پذیرائی ملتی رہی۔علاوہ ازیں پاکستان میں گندم اور آٹے کا بحران کئی حکومتیں نگل چکا ہے،یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گندم ایک ”پولیٹیکل کموڈیٹی“ بن چکی ہے۔رواں برس الیکشن کا سال ہونے کے باعث گندم کی امدادی قیمت میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تا کہ دیہی ووٹرز کو اپنے حق میں کیا جا سکے،ماضی قریب میں پاکستان میں گندم کی امدادی قیمتیں بڑھا کرکسانوں کا ووٹ پکا کرنے کا رو اج ملتان کے زرعی خاندان سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ڈالا تھا، انہوں نے 2008 ء میں اپنے اقتدار کے پہلے برس ہی گندم کی امدادی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ کر کے ایک برس کے دوران قیمتیں 510 روپے فی من سے 950 روپے فی من تک پہنچا دی تھیں۔ مارچ 2008 ء میں اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد یوسف رضا گیلانی نے گندم کی امدادی قیمت 510 روپے سے بڑھا کر 625 روپے فی من کر نے کا اعلان کیا، جبکہ اسی سال کے آخر میں انہوں نے امدادی قیمت 625 روپے فی من سے بڑھا کر 950 روپے فی من مقرر کر دی تھی، اس وقت بھی پاکستان کو گندم کی مجموعی طلب و رسد کے درمیان شارٹ فال کا سامنا تھا اور اس سے ایک برس  قبل یعنی 2007 ء میں پاکستان نے بیرون ملک سے تقریباً 60ارب ڈالر کی گندم درآمد کی تھی، تاہم یوسف رضا گیلانی جنہوں نے پہلی مرتبہ امدادی قیمت پر سیاست کرتے ہوئے قیمتوں میں بڑا”جمپ“ دیا تھا،ان کے قیمتوں میں 510 روپے فی من سے 950 روپے فی من تک پہنچانے کا فائدہ یہ ہوا کہ اگلے برس گنا، مکئی،چارہ اور دیگر سبزیات کاشت کرنے والے کاشتکاروں نے بھی گندم کاشت کر لی جس کے نتیجے میں ”بمپر کراپ“ ہوئی اور اگلے کچھ ہی برسوں میں وہ ملک جو گندم کی قلت کا شکار تھا وہ اضافی گندم کے ”بحران“ کا شکار ہو گیا۔2010 ء سے لے کر تقریبا ً2019 ء تک پوری ایک دہائی میں پاکستان اضافی یعنی ملکی ضرورت سے زائد گندم کے بحران کاشکار رہا۔ وفاق اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے پاس اس قدر مقدار میں گندم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت  نہ ہونے باعث گندم کھلے آسمان تلے گٹھیاں بنا کرسٹور کی گئی، گندم کے ان ذخائر میں ہر گزرتے سال نئی فصل آنے تک کئی ملین ٹن کا اضافہ ہوتا رہا، سرکاری اور کرایے پر لئے گئے گودام فل ہونے کے باعث نجی گودام کرائے پر لئے گئے اور 70فیصد گندم گنجیوں میں ذخیرہ کی گئی، جو کئی دفعہ سیلاب کی نظر ہوئی، جبکہ تین سال سے زیادہ پرانی ذخیرہ شدہ گندم انسانی خوراک کے قابل نہ رہنے کے باعث اسے فیڈ ملوں کو مرغیوں کی خوراک بنانے کے لئے سستے داموں فروخت کیا گیا، علاوہ ازیں پرانی گندم فروخت نہ ہونے کے باعث ایک تو گوداموں میں نئی گندم رکھنے کی گنجائش نہ رہی اور دوسری طرف گندم خریدنے کے لئے رقم بھی دستیاب نہ ہوئی جس کے بعد پاکستان کی اضافی گندم کو عالمی منڈیوں میں ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن آج حالت یہ ہے کہ ملک میں ڈالروں کی شدید قلت کے باوجود پاکستان کو ملکی ضرورت پوری کرنے کے لئے نسبتاً کم معیار کی گندم تقریباً 9 ہزار روپے فی من کے حساب سے امپورٹ کرنا پڑے گی،کیونکہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جوسال کے بارہ مہینوں میں تین مہینے سیلاب کا شکار رہتا ہے جبکہ چھ مہینے یہاں خشک سالی رہتی ہے اور فصلوں کے لئے بھی پانی درکار نہیں ہوتا۔بالکل اسی طرح چندسال پہلے پاکستان اضافی گندم کے بحران کا شکار تھا تاہم آج 30 لاکھ ٹن کا خسارہ ہے، اب ایک مرتبہ پھر گندم کی پیداوار بڑھانے کے لئے امدادی قیمتوں میں بڑے اضافے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے اور نئی فصل کے لئے گندم کی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کی گئی ہے جس سے کسانوں کو تو فائدہ ہوگا تاہم شہر وں میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کی جیبوں پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گاکیونکہ پاکستان میں گندم کی قیمتوں نے پہلے ہی 75 برس کا ریکارڈ توڑ رکھا ہے۔ پاکستان میں پالیسیوں کے عدم تسلسل اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث کبھی قحط کے خطرات منڈلانے لگتے ہیں اور کبھی اتنی گندم ہوتی ہے کہ سنبھالی نہیں جاتی، پاکستان کو اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر ملکی طلب کی روشنی میں گندم کی بوائی کے سیزن میں مطلوبہ رقبے پر کاشت یقینی بنانا چاہئے تا کہ طلب و ر سد میں توازن کے باعث قیمتیں مستحکم رہیں اور کاشتکار کو اس کا جائز حق بھی ملے۔

مزید :

رائے -کالم -