بین الاقوامی تجارت ڈرونوں کی زد میں 

      بین الاقوامی تجارت ڈرونوں کی زد میں 
      بین الاقوامی تجارت ڈرونوں کی زد میں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پاکستان کے گنجلک داخلی سیاسی حالات کی تنگ نائے سے باہر نکل کر دیکھیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ ایسے ایسے موضوعات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چشمِ بینا اور گوشِ ہوش کے سارے فطری تقاضے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا  ہے کہ اس کی ابتداء تو خالقِ کائنات کے حکم پر ہوئی تھی۔ خدا نے لفظ ”کُن“ کہا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ ”فیکون“ میں ڈھل گیا تھا۔ لیکن آج رفتہ رفتہ اس خدائی صفت کے بہت سے راز بھی اس کی اس عظیم تخلیق (یعنی انسان) پر عیاں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ 

جنگ و جدال کی تدریجی ڈویلپمنٹ پر نظر ڈالیں تو دشنہ و خنجر جیسے ابتدائی ہتھیاروں سے بات چل کر ان ڈرونوں تک آ پہنچی ہے جو شاید جوہری بم سے بھی زیادہ تباہ کن ویپن بننے والے ہیں۔ ڈرون کا پیشرو ہوائی جہاز تھا جسے ایجاد ہوئے ابھی تقریباً ایک صدی ہی گزری ہے۔ لیکن  اس ایجاد نے باقی عسکری ایجادات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ ابھی گویا کل کی بات ہے۔ اس جنگ میں جو جو بھاری ہتھیار استعمال ہوئے ان میں توپ، ٹینک، طیارے اور سمندری جنگی جہاز وغیرہ پیش پیش تھے۔جہاں ٹینک اور توپ ”وابستہ بہ زمین“ ہتھیار تھے وہاں آبدوزیں اور جنگی بحری جہاز ”وابستہ بہ بحر“ ہتھیار شمار کئے جاتے تھے۔ لیکن جہاں زمین اور بحر کی حدود و قیود مقرر ہیں اور انسان کی برہنہ آنکھ یا سائنسی آنکھ ان کو دیکھ سکتی ہے وہاں فضا کی کوئی حد مقرر نہیں۔ چنانچہ جب 1903ء میں ہوائی جہاز ایجاد ہوا تو یہ سب سے آخری اور نودریافت شدہ ہتھیار ہونے کے باوجود سب بھاری ہتھیاروں پر بازی لے گیا۔

اول اول لڑاکا، بمبار اور ٹرانسپورٹ طیارے ایجاد اور استعمال ہوئے اور پھر اس ٹیکنالوجی کے تحت انسان نے دوسرے سیاروں پر جا کر چہل قدمی کا آغاز کر دیا۔ خلائی شٹل ابھی کل کی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کے بطن سے دورِ حاضر کی ایک اور حیران کن ڈیوائس نے جنم لیا جس کو ہم موبائل فون یا سیل فون کا نام دیتے ہیں۔ لیکن انسان کی طبعِ ایجاد کی داد دیجئے کہ اس نے ہوائی جہاز کا ایک ایسا متبادل بھی دریافت کرلیا جو ایسی بے شمار اور بے پناہ صفات سے متصف ہے کہ اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ میرا مطلب ہے کہ اسی ہوائی جہاز کا اگلا ورشن بغیر پائلٹ کا ہوائی جہاز (UAV) کہلایا۔ اب لوگ UAV کو بھول کر صرف ڈرون سے وہی مطلب نکالتے ہیں جو ہمارا آج کا موضوع ہے۔

اس بغیر پائلٹ جہاز یعنی ڈرون کی وہ صفات آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی ہیں جو ناقابلِ یقین ہیں۔7اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی غزہ کی جنگ نے ایک ایسا پردہ بھی فاش کر دیا ہے جو ہنوز دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ تھا اور وہ پردہ بین الاقوامی تجارت کو لاحق خطرے کا پردہ ہے۔ آپ آج کل دیکھ اور پڑھ رہے ہوں گے کہ بحیرۂ احمر (Rea Sea) میں اس ڈرون نے عالمی تجارت کو ایک خوفناک مستقبل سے دوچار کر دیا ہے۔

دنیا کی 70فیصد تجارت سمندر کے وساطت سے ہوتی ہے۔ بڑے بڑے بحری جہاز اور ٹینکر دنیا کے تین بڑے سمندروں (بحرالکاہل، بحراوقیانوس اور بحرہند) پر رواں دواں رہتے ہیں۔ ان بحری جہازوں پر دنیا بھر کی درآمدات اور برآمدات کا انحصار ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر یہ بحری تجارت آنے والے کل میں رک کے رہ جائے تو کیا دنیا کے بیشتر ممالک کی آبادیاں زندہ بھی رہ سکیں گی یا موت کے قریب جا پہنچیں گی۔ امریکہ کے ریڈ انڈین اور آسٹریلیا کے اس مقامی اور اجنبی انسان کو یاد کیجئے جو ہزارہا برس تک اپنے اپنے براعظموں تک محدود رہا اور اس کا انجام ہم سب کو معلوم ہے۔ آج وہ قدیم انسان اکّا دکّا نظر آتے ہیں۔ دنیا کے پیش منظر پر جدید انسان نے نمودار ہو کر قبضہ کرلیا ہے۔

اگر بحری تجارت آج رک کے رہ جائے تو کہا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک سو برس تک انسان اس ساکن صورتِ حال میں کچھ نہ کچھ گزر بسر کرلے گا لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ ریڈ انڈین کی طرح اپنے ہی خطے کے خول میں گم ہو کے رہ جائے گا۔

اور یہ خبریں تو آج کل بڑے تواتر سے آ رہی ہیں کہ بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو حوثی ڈرون نشانہ بنا رہے ہیں۔کچھ روز پہلے ایک ایسا جہاز ان ڈرونوں کی زد میں آکر غرقاب ہو گیا جس پر 21000میٹرک ٹن یوریا کھاد لدی ہوئی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کھاد جب سمندر میں بیٹھ کر پھیلی تو آبی حیات کو رفتہ رفتہ بھسم کر دے گی اور اس کے بھیانک اثرات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

بحیرۂ احمر کے نقشے اورآبی گزرگاہوں پر نگاہ ڈالیں۔ یورپ اور امریکہ کے بحری جہاز بحرِ اوقیانوس سے بحیرۂ روم میں داخل ہوتے ہیں اور پھر وہاں سے نہر سویز کے راستے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن سے ہوتے ہوئے بحرِہند میں آ جاتے ہیں۔ بحیرۂ احمر کا جنوبی سرا ایک تنگ آبنائے پر جا کر ختم ہو جاتا ہے جسے باب المندب کہا جاتا ہے۔ اس آبی تنگ نائے سے ایک وقت میں صرف ایک بڑا جہاز ہی گزر سکتا ہے۔ بحیرۂ احمر کے ساحل پر سعودی عرب (جدہ وغیرہ) کی ایک طویل آبی پٹی موجود ہے اور پھر جوں جوں جنوب کی طرف جائیں تو یمن کا ملک نظر آتا ہے جس کے ساحلوں پرحوثیوں کا قبضہ ہے۔

یہ حوثی ایک جنگجو قوم ہے۔ کچھ برس پہلے تک یہ بہت پس ماندہ شمار ہوتی تھی لیکن آج اس میں ڈرون کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔ ان ڈرونوں کو یہ حوثی بحیرۂ احمر میں سطح آب پر تیرتے غیر ملکی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نہ کوئی شپ ان ڈرونوں کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ ڈرون ہر طرح سے مسلح ہیں۔ آج  ان میں میزائل بھی نصب ہیں، راڈار بھی اور درست نشانوں پر لگنے والے پری سیژن بم بھی موجود ہیں جو گلوبل تجارت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان ڈرونوں کی ٹیکنالوجی ان حوثیوں کو ایران کی طرف سے مل رہی ہے۔ ایران کو اس کی ٹیکنالوجی روس اور چین سے مل رہی ہے اور اس طرح حوثی ایرانی پراکسی لڑ رہے ہیں۔

آج اگر بحیرہ احمر کا آبی راستہ بند ہو جائے تو یورپ اور امریکہ سے آنے والے بحری جہازوں کو جنوبی افریقہ کا ایک طویل چکر کاٹ کر بحرہند کی طرف آنا پڑے گا۔ یہ سفر نہ صرف بہت طویل ہے بلکہ بہت مہنگا بھی ہے۔ مثال کے طور پر یوکرین سے بحرہند میں داخل ہونے والے بحری جہاز کو 8دن لگتے ہیں اور اگر جنوبی افریقہ کا چکر کاٹنا پڑے تو 38دن درکار ہوں گے۔ اسی طرح برطانیہ سے بحرہند میں آنے والے بحری جہازوں کو براستہ بحیرۂ احمر 19دن لگتے ہیں جبکہ براستہ راس امید (جنوبی افریقہ)34دن لگتے ہیں۔

آئے روز حوثیوں کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ان کا توڑ کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے یورپی یا ایشیائی اتحادی اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں لیکن ان کو اس میں ہنوز کامیابی نہیں ہوئی۔

قارئین گرامی کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ابھی اس بحری تجارت کے اثرات بظاہر کم کم نظر آ رہے ہیں لیکن جوں جوں وقت گزرے گا ان حوثی ڈرون حملوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ بحری تجارت (درآمدات اور برآمدات) سکڑتی چلی جائے گی اور مہنگائی کا عفریت جو پہلے ہی پاکستان کو نگل رہا ہے مزید خوفناک ہو کر ہمارے گلے کا ہار بن جائے گا۔یہ موضوع بڑا وسیع ہے۔ عام پاکستانی قاری کو وہ جغرافیائی معلومات اور ڈیٹا حاصل نہیں جو بحیرۂ روم کے راستے تجارت بند ہونے سے ہم جیسے ممالک کو متاثر کرے گا۔

آج حوثی بظاہر اکیلے ہیں۔ لیکن آنے والے کل میں اگر یہ تنازعہ پھیلتا ہے تو اس کی رسائی راس امید والے راستے کو بھی مسدود کر سکتی ہے۔ امریکہ لاکھ سپریم پاور سہی لیکن ڈرون کی پروڈکشن اتنی سہل اور اتنی ارزاں ہے کہ یہ مستقبل میں دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار بن سکتا ہے…… ایک ایسا ہتھیار جو عالمگیر بربادی میں جوہری بموں کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا…… اس کا مزید ذکر انشاء اللہ اگلے کسی کالم میں!

مزید :

رائے -کالم -