11مئی2013ئ:شب ِ انتظار کا انتظار

11مئی2013ئ:شب ِ انتظار کا انتظار
11مئی2013ئ:شب ِ انتظار کا انتظار

  

آج کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے۔.... امیدوں اور آرزﺅں کا دن.... اور ساتھ ہی اندیشوں اور خطرات کا دن۔ جب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا ہے، بہت سے انہونے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان واقعات/حادثات کے پس منظر میں آج رات تک پاکستان میں اور کیا کچھ ہونے والا ہے، اس کی پیش گوئی کوئی بھی نہیں کر سکتا۔

گزشتہ جمہوریت کے مسلسل پانچ برسوں میں پاکستان کو جن بیرونی چیلنجوں کا سامنا رہا اور جن قابل ِ روک (Containable) سانحوں کو ہم نے عمداً وقوع پذیر ہونے کے مواقع اور گنجائش(Space) مہیا کئے رکھی اس کے ذمہ دار وہ چند لوگ تھے، جن کو ہم صاحبانِ اقتدار کہتے رہے، لیکن خود بے بس ہو کر تماشا دیکھتے رہے۔ ان پانچ برسوں میں نجانے کتنی بار نادیدہ قوتوں، پوشیدہ ہاتھوں اور اصل بادشاہ گروں کا ڈراوا سن سن کر ہم انتظار میں بیٹھے رہے کہ شائد پردہ¿ غیب سے کچھ نہ کچھ ظاہر ہو ہی جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔....تن بہ تقدیر ہو کر اور ہاتھ پاﺅں توڑ کر بیٹھنے والوں کے ساتھ فطرت یہی کچھ تو کیا کرتی ہے!

نادیدہ قوتوں نے بھی قسم کھائی ہوئی تھی کہ اپنے اوپر اس الزام کو دھو کر ہی دم لیں گے جو سچا تھا یا جھوٹا تھا، قابل ِ دخل اندازی تھا یا نہیں تھا لیکن جس کی وجہ سے عوام کے فکرو خیال میں ایک بہت بڑی تبدیلی جڑ پکڑ گئی تھی۔ اس پراسس میں سب سے غالب اور بڑی حد تک مو¿ثر رول آزاد میڈیا کا تھا جس نے قوم کی عاقبت سنوارنے کے نام پر اپنی عاقبت بھی سنوارے رکھی اور الیکٹرانک میڈیا اور پریس میڈیا کی ایک پوری نئی کھیپ تیار ہو گئی۔ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا چینل ”آن ائر“ ہوتا رہا اور ایک نیا اخبار پاکستان کی30فیصد خواندہ آبادی کو ”باخبر“ رکھتا رہا۔

ان گزشتہ پانچ برسوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے فائر برانڈ ترجمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی منظر عام پر آنے لگی۔ اس تعداد میں دھیمے مزاج والوں کی گنتی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے لیکن شعلہ فشانی کرنے والوں کا کوئی شمار اور حساب کتاب نہیں ر کھا جا سکتا۔....صبح ہو کہ شام کہ شب، یہ شعلہ نوا مقررین (خواتین اور مرد) بن سنور کر سٹیج پر نمودار ہوتے اور اپنے سیاسی مخالفین کی تکا بوٹی کرتے رہے۔ اینکر صاحبان اُس ٹاک شو یا مناظرے کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو کانٹے کا ہو اور جو ناظرین کی تعداد میں اضافے کے علاوہ اشتہاری وقفوں کی تعداد بھی اضافہ کر سکے۔.... یہ سب کچھ گویا موجودہ اور آئندہ سیاسی منظر ناموں کا وہ مواد بنتا رہا جس کے نتائج آج شب قوم کے سامنے آ جائیں گے۔

تاہم اس حوالے سے دیکھا جائے تو وہ ایک سبب جو آج کے انتخابات کی اصل کسوٹی بنا، وہ ہمارا یہی آزاد میڈیا تھا.... مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میڈیا درخت (Madia Tree) کی وہ شاخیں جو گزشتہ پانچ بہاروں میں برگ و بار لاتی رہیں اُن کی شاخ تراشی کا سارا منظر آج کھل کر ہمارے سامنے آ جائے گا۔ صرف وہ درخت سلامت رہیں گے جن کی جڑیں مضبوط ہوں گی، تنا طاقتور ہو گا، شاخیں اور ڈالیاں تناور ہوں گی اور جن کی چھاﺅں گھنی ہو گی۔ باقی سارا میڈیا جنگل ٹُنڈ مُنڈ ہو جائے گا۔

گزشتہ پانچ برسوں میں قیادت کے بحران نے پاکستان کے وجود کو جس طرح کھوکھلا کر دیا ہے، وہ اہل ِ فکر کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔.... یہ ایک ایسا سیلابِ بلا ہے جو نصف عشرہ تک جمع ہوتا رہا ہے اور اس کو نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا ہے لیکن آج کی شب جب وہ روائتی رکاوٹوں کا حصار توڑ کر نکلے گا تو سارے اگلے پچھلے بند ٹوٹ جائیں گے۔.... لیکن قارئین گرامی! یہ ایک ایسا سیلاب بھی ہو گا جس کو روکنے کے لئے نئے اور جوان خون کی ضرورت ہو گی، پرانے لوگ صرف کف ِ افسوس ملتے رہ جائیں گے اور عین ممکن ہے کہ ان ”پرانے لوگوں“ کے اپنے محل اور ماڑیاں بھی اس سیلاب کی زد میں آ جائیں۔ .... اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہو گی کیونکہ جب بھی کسی نئی عمارت کی تعمیر کی جاتی ہے تو پرانی تعمیر کو ڈھانا ہی پڑتا ہے۔

میرے نزدیک تجزیہ نگاروں کی دو بہت نمایاں ”اقسام“ ہیں۔.... ایک وہ جو پاکستانی سیاست کی تاریخ کو الف سے لے کر یا ئے مجہول تک جانتے ہیں۔ گزشتہ الیکشنوں میں پارٹی پوزیشنوں کے حافظ ہیں، شہری اور دیہاتی نشستوں پر ہر سیاسی پارٹی کے ماضی ¿ بعید سے پوری پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ اعداد و شمار کی جداول (Tables) اور دوسرے متعلقہ گوشواروں سے خوب خوب واقف ہیں اور جب زبان کھولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے تمام سیاسی مناظر ان کو ازبر ہیں۔ .... لیکن ایک بات جو اِن حضرات کے حق میں نہیں جاتی وہ پاکستان کی نئی نسل کی ان ”بزرگوں“ سے شدید نفرت ہے، اور اس نفرت کا علم ان کو بالکل نہیں ہے۔ آج کی نژادِ نو، آثارِ قدیمہ کی اہمیت سے تو انکار نہیں کرتی، لیکن موجودہ دور میں ان کھنڈرات کی افادیت جانتے اور سننے کی قائل نہیں۔

”بہارِ عرب“ (Arab Spring)کے آثار اگرچہ واضح ہو کر سامنے نہیں آئے، مگر ان کے اثرات سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔ جن عرب بادشاہتوں پر ابھی اس ”بہادر“ کی پرچھائیاں زیادہ گہری نہیں پڑیں، وہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ زیادہ دیر تک گلوبل بہار کے اثرات سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہو گا۔.... پاکستان میں بھی ”پاکستانی بہار“ کی مہک قریہ قریہ اور شہر شہر محسوس کی جا رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے آہستہ آہستہ ان گلہائے بہار کے بیجوں کی آبیاری کی ہے اور وہ دن دُور نہیں جب یہ پھول بن کر زمین کا سینہ چاک کر دیں گے اور باہر نکل آئیں گے۔.... آج شب آپ کو نظر آ جائے گا کہ کس زمین سے کتنے بیج اُگ کر باہر پھوٹتے ہیں اور کتنے پرانے برگدوں کی چھاﺅں تلے دبے رہتے ہیں اور اُگ نہیں سکتے۔

دوسری قسم وہ ہے جو فاعلاتن فاعلات نہیں جانتی مگر شعر، قند و نبات سے زیادہ شیریں کہہ سکتی ہے۔ معاشرہ جتنا زیادہ باشعور ہو گا، وہاں دوسری قسم کا گروہ اتنا ہی زیادہ مقبول ِ عام ہو گا اور یہی ”مقبولیت ِ عامہ“ جمہوریت کی اساس بھی ہے! .... تجزیہ نگاروں کا یہ گروہ مشہور انگریزی شاعر، جان کیٹس(John Keats) کے الفاظ میں پھول کو چیڑ پھاڑ (Dissection) کر اسے ضائع کر بیٹھتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس طرح پھول کی پتیاں بکھر جاتی ہیں بلکہ اس کی خوشبو بھی اُڑ جاتی ہے۔ کیٹس تو اسے پھول کا ”قتل“ کہتا ہے:

 We murder to dissect

 امید ہے کہ آج کی شب قسم اول کے تجزیہ نگاروں کا تجزیہ روایتی اور قدامت پرستانہ ہو گا، جبکہ قسم دوم کے تجزیہ نگار پھول کی پتتیاں، اس کا زردانہ اور اس کی خوشبو برقرار رکھنے کے غیر روایتی اور جدت پرستانہ تجزیوں کا ڈول ڈالیں گے۔

پاکستان کے گزشتہ الیکشنوں میں یہ ہوتا تھا کہ ان کے نتائج جب میڈیا کے توسط سے نشر ہوتے تھے یا اخباروں کی شہ سرخیاں بنا کرتے تھے تو ان میں بعض فقرات اور تراکیب کی ایک سکہ بند زبان ہوتی تھی.... مثلاً فلاں پارٹی کے فلاں بڑے بڑے برج زمین بوس ہو گئے....فلاں فلاں ہیوی ویٹ چاروں شانے چت .... فلاں فلاں کی ضمانتیں ضبط.... نووارد اور نو منتخب شدہ امیدواروں کا بائیو ڈیٹا وغیرہ۔.... مگر آج شب نہ صرف یہ کہ ان شہ سرخیوں اور بریکنگ نیوز کی ایک نئی طرز ایجاد ہو گی بلکہ وہ بڑے بڑے برج جو میڈیا چینلوں کے بڑے بڑے مناصب پر فائز ہیں اور گزرے کل تک دعوے کرتے رہے تھے کہ فلاں پارٹی کو اتنے ووٹ ملیں گے اور فلاں کو اتنے، فلاں کلین سویپ کرے گی اور فلاں سیاسی منظر سے غائب ہونے کی راہ پر گامزن ہو جائے گی، وہ برج خود بھی مسمار ہو جائیں گے اور ساتھ ہی اُن کے ماضی ¿ قریب کے سارے اندازوں، سروے گوشواروں اور ٹاک شوز میں کئے گئے دعوﺅں کی قلعی بھی کھل جائے گی۔ ستارے یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں بعض حضرات کو شائد ہمیشہ کے لئے میڈیا سے رخصت ہونا پڑے گا۔

پچھلے پانچ برسوں کے دوران عوام کے ساتھ جو جو بیتی ہے، جس جس طرح سے ان کو اصل مسائل سے لاتعلق کر کے لایعنی اور فضول قسم کے ثانوی مسائل کی طرف متوجہ کئے جانے کا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے، اس کے دم توڑنے کے لئے بھی آج کی شب ایک فیصلہ کن شب ثابت ہو گی۔

لیکن جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو اگرچہ پاکستان میں انشا اللہ ایک نئی صبح طلوع ہو گی اور تبدیلی کا نیا دور شروع ہو گا لیکن جو حکومتیں بھی مرکز اور صوبوں میں بنیں گی، ان پر ذمہ داریوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے، لوگوں کی امیدیں اور خواہشات بہت جوان اور بے لگام ہوں گی، ان کی تکمیل کے لئے جو لوگ حکومتی مناصب پر فائز ہوں گے، ان کو اپنے وعدوں سے انحراف کرنے کے نتائج بھگتنے کے لئے آئندہ پانچ برس کا ٹائم پریڈ نہیں ملے گا۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی ہوں گے کہ ان کی انتخابی مہم کے دوران تقریباً1500لوگ لقمہ ¿ اجل بنائے گئے۔ بعض قوتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پاکستان کسی نئے دور میں داخل ہو۔ ایسی قوتوں کے دین و مذہب کو کون نہیں جانتا؟ یہ لوگ قدامت پرستی کو اسلام پرستی کا نام دیتے ہیں۔ جہاں اسلام اجتہاد کا درس دیتا ہے وہاں وہ اس کے بطلان کے لئے ہزاروں تاویلیں سامنے لاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی اپنی فکر، فرسودہ ہو چکی ہے یا کر دی گئی ہے۔ یہ تقلیدی فکر، جدت ِ افکار سے انکار کرتی ہے اور اپنی غلط روش کو اسلام کی اصل روح قرار دیتی ہے۔

ان قوتوں نے پاکستان پر قبضہ کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا، مقامِ مسرت ہے کہ اسے سوادِ اعظم نے تسلیم نہیں کیا۔ نئی نسل کے نوجوان جو پہلے الیکشنوں میں یوم انتخابات کو گھر میں بیٹھ کر یوم ِ بیزاری کے طور پر منایا کرتے تھے، اب اپنے وجود کا احساس اور اپنی اہمیت کا عرفان پا چکے ہیں۔ اس نئی فکر کو کیش کرانے اور پاکستانی معاشرے میں عام کرنے کے لئے روایتی سیاست کی نہیں، انقلابی سیاست کی ضرورت تھی، ہے اور رہے گی۔ آج شب معلوم ہو جائے گا کہ اس نوجوان نسل کی بیداری نے ہماری سوسائٹی کو کتنا متاثر کیا ہے۔.... جوانوں کو پیروں کا استاد کرنا جتنا مشکل ہے اس سے زیادہ مشکل پیروں کو جوانوں کے حقوق تسلیم کرنے پر مائل کرنا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ انتخابات قدامت اور جدت کے مابین ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے اہم ترین ہیں۔ نوجوان پاکستانی نسل اگر امشب قومی دھارے میں اپنی اہمیت منوانے میں ناکام ہوئی تو یہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کوئی نیک فال ثابت نہیں ہو گی! ٭

مزید : کالم