ایل ڈی اے پلازہ کی آتشزدگی.... حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت

ایل ڈی اے پلازہ کی آتشزدگی.... حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت

شہر کی معروف سڑک ایجرٹن روڈ پر بلند و بالا عمارتوں کے جھرمٹ میں واقع ایل ڈی اے پلازہ میں خوفناک آتشزدگی سے آخری اطلاعات کے مطابق22افراد جاں بحق ہو گئے، شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ پانچ منزلوں تک پھیل گئی اور بہت سے لوگ پلازے کی مختلف منازل میں پھنسے رہے، جو لوگ چھت پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، اُنہیں آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچا لیا گیا۔ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر بھی آپریشن میں مصروف رہے، آگ بجھانے کی کوششیں کافی وقت لے گئیں۔ رات بھر آگ بجھائی جاتی رہی، جس میں بالآخر صبح کے وقت کامیابی حاصل ہوئی۔

ایل ڈی اے پلازہ جب تعمیر ہوا تو یہ لاہور کی بلند ترین عمارت تھی۔ یہ پلازہ اگرچہ خوبصورت طرز تعمیر کا شاہکار تھا اور لاہور کے ترقیاتی ادارے نے اس کی تعمیر میں اپنے حسن ِ ذوق کا ثبوت دیا تھا، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اتنی بلند عمارت میں حفاظتی اقدامات اِس طرح نہیں، جس طرح کے ایسی عمارتیں تقاضا کرتی ہیں۔ بالائی منزلوں پر جانے کے لئے لفٹیں اور سیڑھیاں تھیں جو ظاہر ہے آگ لگنے جیسے حادثے کی صورت میں کارآمد نہیں رہ جاتیں۔ دُنیا بھر میں جہاں ایسی عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں عمارت کے باہر لوہے کی سیڑھیاں اِس انداز میں بنائی جاتی ہیں کہ اُن کے ذریعے بلند و بالا عمارت سے بآسانی نیچے کی منزل پر آیا جا سکتا ہے۔ یہ سیڑھیاں تقریباً آٹھ فٹ کی بلندی پر آ کر ختم ہوتی ہیں، جہاں سے پانچ چھ فٹ کا آدمی آسانی سے کود کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔ پاکستان میں اِس طرح کی سیڑھیوں کا کوئی تصور نہیں اور اگر ہے تو عملاً اِس کا کہیں وجود نہیں، پاکستان میں بلند عمارتیں تو تعمیر ہو رہی ہیں اور اِن کے نقشے بھی منظور ہوتے ہیں، لیکن تعمیرات کرتے وقت نقشوں کو نظر انداز کردیاجاتا اور قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اول تو جو نقشہ منظور کرایا جاتا ہے تعمیرات کرنے والے اِس میں من پسند تبدیلیاں کر لیتے ہیں اور جب عمارت تعمیر ہو جاتی ہے تو اثرو رسوخ استعمال کر کے یا زر کو قاضی الحاجات بنا کر عمارت کی تکمیل کا سر ٹیفکیٹ حاصل کر لیا جاتا ہے، لیکن ایل ڈی اے تو خود نقشے پاس کرنے والا ادارہ ہے اِس کی اپنی عمارت تو ہر لحاظ سے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئے تھی، لیکن ملاحظے میں آیا ہے کہ عمارت کے اندر آگ بجھانے کا سامان تک نہیں تھا۔ یہ معاملہ کسی ایک عمارت تک محدود نہیں، شہر بھر میں سروے کرایا جائے تو بیشتر عمارتوں میں اِسی طرح کی ”بے سرو سامانی“ نظر آئے گی، اکثر عمارتوں میں آگ شارٹ سرکٹ سے لگ رہی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وائرنگ کرتے وقت ناقص میٹریل استعمال کیا جاتا ہے؟ اور یوں انسانی جانوں کے لئے خطرے کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ ایل ڈی اے پلازہ کی آتشزدگی کا سبق یہ ہے کہ بلند و بالا عمارتوں کو تعمیر کرتے وقت اِس کی آخری منزلوں تک ہنگامی حالت میں پہنچنے اور اُترنے کے راستے بھی بنائے جائیں، حادثے روز تو نہیں ہوتے، لیکن اِس طرح کے حادثات یہ سبق ضرور دے جاتے ہیں کہ انتظامات سے کوتاہی خطرناک ثابت ہوتی ہے، لیکن ہم چند روز واویلا کر کے خاموش ہو جاتے ہیں اور پھر روایتی ڈگر پر چل پڑتے ہیں۔ فول پروف انتظامات نہ ہوں گے تو پھر یونہی ہوتا رہے گا۔ ٭

مزید : اداریہ