اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا دن

اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا دن

انتخابی مہم کا آخری دن دہشت گردی کی متعدد وارداتوںاور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے صوبائی اسمبلی کے حلقہ 200 سے امیدوار علی حیدر گیلانی کے اغوا کے ساتھ ختم ہوا۔ پنجاب ، بلوچستان اور سندھ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے فون پر مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اورڈاکٹر طاہر القادری کو اُن کی سیکیورٹی کے متعلق اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے اور اُن کے حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کے لئے کہا ہے۔

 سیکیورٹی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر ملک بھر میں 12717پولنگ سٹیشنوں کو انتہائی حساس اور 19644کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ اِس موقع پر آرمی نے مکمل امن و امان قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پولنگ کے لئے اپنی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ”اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں ۔انتخابات ووٹ کے ذریعے عوامی طاقت کا مظاہرہ ہے ۔ تمام لوگ اپنے ووٹ کا استعمال کریں تو ملک کا مستقبل بدل سکتا ہے“۔

11مئی2013ءکی پولنگ ہر لحاظ سے ہماری قومی زندگی کا ایک اہم موڑ ہے۔ ایک طرف قوم جمہوریت مخالف دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کے لئے ووٹ دے کر اپنے عزم کا اظہار کرے گی، دوسری طرف ہر طرح کے تعصبات اور ذاتی مفاد ات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ہم نے بہتر کے حق میںاپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔ غیر جانبداری صرف یہی نہیں کہ ہم کسی فریق کے معاملے میں درست فیصلہ کر دیں، بلکہ حقیقی غیر جانبداری یہ ہے کہ کچھ وقت کے لئے ہم خود کواِس دُنیا کا حصہ تصور نہ کریں ۔ اپنی ذات تک کے معاملے میں غیر جانبدار ہو جائیں۔ یہ تصور کریں کہ ہمارے اپنے ذاتی یا گروہی کوئی مفادات ہی نہیں، جو کچھ بھی ہے سب قوم و ملک کا اجتماعی مفاد ہے۔ ان تصورات کے تحت ہم اپنے ووٹ کے سلسلے میں جو فیصلہ بھی کریں وہی درست فیصلہ ہوگا، جس طرح روزہ رکھتے وقت ہم خالصتاً اللہ کی خوشنودی کو پیش نظر رکھتے ہیں، روزہ کے دوران اس لئے پرہیز اور تقوی سے کام لیتے ہیں کہ اللہ ہماری نیتوں کو جاننے والا ہے ، وہ نیت کے مطابق اجر دیتا ہے۔ اِسی طرح مکمل راز داری میں ووٹ دیتے وقت ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ چھوٹے موٹے ذاتی مفاد کے برعکس اگر ہم نے اپنے وسیع تر قومی اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ووٹ دیا تو اس کا اجر اللہ کی طرف سے نہ صرف ہمارے ملکی استحکام کی صورت میںسامنے آئے گا،بلکہ ذاتی طور پر بھی ہماری یہ نیک نیتی اللہ بزرگ وبرتر کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پائے گی۔ اللہ اپنے بندوں کو بہتر اجر دینے والا ہے۔

ووٹ کا استعمال قوم سے ہماری وفا کا اظہار ہے ۔ یہ ہمارا اخلاقی، قانونی اور مذہبی فرض ہے کہ سامنے آنے والے امیدواروں سے سب سے زیادہ مستحق شخص کے حق میں فیصلہ دیں، اس کے نام کے سامنے اس کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں۔ تمام پولنگ سٹیشن ووٹرز کی رہائش کے قریب بنائے گئے ہیں ، ووٹ کے لئے جانے کی خاطر نہ کسی کے کہنے سننے کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے نہ کسی کی طرف سے آنے والی سواری کا منتظر رہنا چاہئے۔ ووٹ قوم کی امانت ہے اسے قوم کو لوٹانے کے لئے ہمیں خود احساس فرض کے ساتھ گھر سے نکلنا اور اِس کا درست استعمال کرنا ہوگا۔ پاکستان بلا شبہ اسلامیان برصغیر کے لئے اللہ کی بہت بڑی عنایت اورنعمت ہے۔ ہم نے اسے اللہ کے نام پر حاصل کیا اور اس سے وفاداری اور اخلاص کا ثبوت بھی ہم نے اللہ کی رضا کے لئے دینا ہے۔ اِس نعمت عظیم کی حفاظت کے لئے اس کے لوگوں کی بھلائی ، خوشحالی اور ترقی کے لئے اِس اہم دن کے موقع پر ہمارا کچھ تکلیف کرکے یہ ذمہ داری پوری کرنا اپنی قوم اور اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونے کے لئے ضروری ہے۔ ہر سچے پاکستانی کو اللہ کے نام کی تسبیح کرتے ہوئے اِس سے صحیح اور درست فیصلے کی طاقت اور صلاحیت دینے کی دُعا کے ساتھ گھر سے نکلنا چاہئے۔ شہریوں نے اپنا یہ بظاہر معمولی، لیکن حقیقتاً بے حد اہم اور بنیادی کام نیک نیتی سے درست سمت میں کر دیا، تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور اہل پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گی۔ عام زندگی کے مسائل بھی آسان ہو سکیں گے، ہمارے ہاں سرگرم دہشت گرد بھی دھوئیں کی طرح فضا میں اُڑ جائیں گے۔

جہاں سیاست دانوں ، سیاسی ورکروں اور عام ووٹروں سب کے لئے یہ دن اہمیت کا حامل ہے وہاں متعلقہ حکومتی اداروں اورسیکیورٹی ایجنسیزکے لئے بھی بہت بڑی آزمائش کا دن ہے۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کے پھیلے ہوئے سلسلوں کے باوجود خصوصی اور انتہائی انتظامات کے ذریعے پولنگ کے عمل کو تحفظ دے کرسیکیورٹی اداروں نے ملک میں جمہوریت کو تحفظ بخشنا ہے۔ میڈیا نے اور سابق حکمرانوں کے طرز عمل اور رویوں نے قوم کو بہت کچھ سکھا دیا ہے۔

 پُرامن پولنگ ڈے اقوام عالم میں ہمیں عزت اور وقار مہیا کرے گا۔ اِس روز امن و امان قائم کئے جانے سے خود ہمیں اور پوری دُنیا کو بھی معلوم ہو سکے گا کہ جس چیز کا نام حکومت ہے وہ پاکستان میں بھی کہیں نہ کہیں پائی ضرور جاتی ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ سیاسی ورکروں اور عام لوگوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے سے تعاون اور رواداری سے پیش آئیں ۔ ہر صورت جھگڑے سے اجتناب کریں۔ دہشت گردوں کے گماشتوں پر نظر رکھیں اور قوم و ملت کے دشمنوں کو قانون کے سپرد کرنے کے لئے سیکیور ٹی ایجنسیز کے ساتھ مکمل اور فعال تعاون کریں۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جمہوری عمل کے اس اہم مرحلے میں ایک طرف پوری قوم ہے اور دوسری طرف مٹھی بھر دہشت گرد ہیں، جو اپنی کارروائیوں سے مسلسل ہماری سلامتی اور ہمارے جمہوری نظام کے درپے ہیں ، جنہیں ہمارا امن وخوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ آج کے دن ہمیں ان پر آنکھ رکھنی ہے۔ یہ دن قوم کے ہر فرد کے ہشیار اور مستعد رہ کر اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنے کا دن ہے۔ آج ہم سب نے اِسی احساس کے ساتھ گھروں سے نکلنا ہے۔

مزید : اداریہ