,ماں کا عالمی دن....11مئی

,ماں کا عالمی دن....11مئی
,ماں کا عالمی دن....11مئی
کیپشن: ch m a shida

  

مَیں جب سوچتا ہوںکہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے، تو فوراً یہ خیال آتا ہے کہ دنیا کی خوبصورت ترین ہستی صرف ایک ماں ہی ہے، جو بے حد پاکیزہ اور محبت کرنے والی ہوتی ہے۔ ماں جنت جانے کا ایک راستہ ہے، جو ایسی ہستی ہے، جس کی تعریف کے لئے دنیا میں الفاظ نہیں ملتے۔ جنت نے کہا، ماں وہ ہستی ہے کہ مَیں اس کے قدموں تلے ہوں۔ اسلامی تہذیب کی پوری عمارت ماں کی تعظیم اور اطاعت پر قائم ہے۔ مَیں جب اپنی ماں کی یاد میں روتا ہوں، تو فرشتے میرے آنسو پونچھتے ہیں۔

پاکستان سمت دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو ماﺅں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ دن اس سال ماہ مئی کی11تاریخ کو آتا ہے۔ متعدد ممالک میں اس عالمی دن کو منانے کے لئے الگ دن مقرر ہیں۔ افغانستان اور چند دوسرے ممالک میں8مارچ، جبکہ برطانیہ میں مئی کے آخری اتوار کو منایا جاتا ہے۔ کئی دیگر ممالک نے اس دن کو منانے کے لئے اپنے من پسند دن مقرر کر رکھے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر منائے جانے والے خاندان کا عالمی دن15مئی، نوجوانوں کا عالمی دن12اگست، امن کا عالمی دن ستمبر کا تیسرا منگل،بچوں کا عالمی دن20نومبر، خصوصی افراد کا عالمی دن3دسمبر، انسانی حقوق کا عالمی دن10دسمبر کو منایا جاتا ہے ،جبکہ بزرگ شہریوںکا عالمی دن یکم اکتوبر کو.... یعنی سال کے تقریباً ہر مہینے میں یہ دن مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، جس کا واحد مقصد عالمی سطح پر ماں کے مقدس رشتے کی اہمیت کو عقیدت اور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ اجاگر کرنا ہے، اس حقیقت کو فروغ دینا ہے کہ ماں جیسی ہستی اولاد کے لئے زندگی، سایہ¿ محبت، حوصلہ، سکون، ہمت اور جنت ہے۔

ماں کی عظمت اور قدر کا اس وقت شدت سے احساس ہوتا ہے،جب ماں دنیا سے چلی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لئے کوہِ طور پر جا رہے تھے، راستے میں ٹھوکر سے گرنے لگے، تو غیب سے آواز آئی: ”اے موسیٰ ذرا سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دُعا کرنے والی ماں نہیں ہے“۔ دنیا میں جتنے بھی رشتے ہوں اور ان رشتوں میں جتنی بھی محبت ہو، وہ اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں، مگر ماں کا رشتہ دنیا میں واحد ایسا رشتہ ہے، جو آپ کو کچھ دیتا ہی ہے ، اس کے بدلے میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا۔ سر سید احمد خان نے ”سیر فریدیہ“ میں تذکرہ کیا ہے کہ اچھی ماں ہزار استادوں سے بہتر ہے۔ انہوں نے اچھی ماں کی تعریف کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ میری ماں اعلیٰ خیال، عمدہ اخلاق، نیک صفت، دانش مند، دور اندیش، فرشتہ سیرت عورت تھی۔ اس کی مثال دیتے ہوئے سر سید نے لکھا ہے کہ ان کی والدہ محترمہ عزیز النساءو بیگم نے سر سید کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جہاں جہاں تم جانا لازمی سمجھتے ہو اور ہر حالت میں تمہیں جانا لازمی ہو تو کبھی سواری پر جایا کرو اور کبھی پا پیادہ، کیونکہ زمانے کا کوئی اعتبار نہیں ہے،کبھی کچھ ہے اور کبھی کچھ۔ پس ایسی عادت اپناﺅ کہ ہر حالت میں اسے نبھا سکو۔

ایک بار سر سید نے اپنے نوکر کو تھپڑ مار دیا، اس پر اُن کی والدہ محترمہ نے انہیں گھر سے نکال دیا کہ جب تک اس نوکر سے سر سید اپنا قصور معاف نہیں کروا لیتا، مَیں اسے معاف نہیں کروں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص دنیا میں جنت پانا چاہتا ہے تو ایک بار ماں کی عزت، پاکیزگی، دور اندیشی، دُعا اور محبت کو سمجھ لے، تو تمام زندگی اپنی ماں کے احسانوں اور ایثار کا بدلہ نہیں چکا سکے گا۔ ماں کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے۔ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے، کیونکہ ماں کا رشتہ اپنی اولاد سے ڈائرکٹ ہے، جبکہ باپ کا رشتہ اس سے اِن ڈائرکٹ ہوتا ہے۔ ماں نے اپنی اولاد کے لئے بہت سی مشقتوں، صعوبتوں اور قربانیوں کو برداشت کیا ہوتا ہے۔ ماں کی دعاﺅں سے ہر مشکل گھڑی آسان ہو جاتی ہے، جو اولاد کے لئے ٹھنڈی چھاﺅں کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب اولاد کو دنیا میں کہیں بھی سکون نہ ملے اور وہ اپنی ماں کی آغوش میں آ کر اپنی آہوں اور سسکیوں کو نثار کر دے تو ایسی راحت محسوس کرے گا، جو اس کو کہیں بھی نہیں ملی ہو گی۔

اس حقیقت سے بھی انکار ناممکن ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر گھروں کی صورت حال بھی بدل رہی ہے، ہماری اولاد کی شخصیت سازی میں گھر کا ماحول ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جہاں ہمارے بچوں کی شخصیت اور کردار کی عمارت تعمیر ہوتی ہے، باپ کی نسبت ماں اپنے بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور بچے کا مستقبل ماں کی گود میں پرورش پاتا ہے۔ مَیں جب ماضی کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھتا ہوں تو دور کہیں مجھے ایسی ماں دکھائی دیتی ہے، جو بسم اللہ پڑھ کر اپنے بچے کو دودھ پلاتی تھی اور کلمہ طیبہ کی لوری دے کر اُسے سُلاتی تھی۔ سونے سے قبل اپنے مشاہیر اور بہادروں کے کارنامے سنا کر بہادری کے نغمے اس کے جسم و ذہن میں پیوسٹ کرتی تھی، جس سے بچے کی عادات و خصائل میں قومیت اور حب الوطنی کے نغمے پھوٹ پڑتے، جس پاکیزہ ماں نے فرنگی دور میں بھی اپنے دوپٹے، چادر چار دیواری سے رشتہ نہیں توڑا تھا، چنانچہ مَیں آج کی جدید ماں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ماں کی گود اگر پہلی درس گاہ ہے تو آج کا بچہ اس درس گاہ میں کیا سیکھ رہا ہے؟

مزید :

کالم -