صدر حسن روحانی کے دورمیں ایرانی خارجہ پالیسی

صدر حسن روحانی کے دورمیں ایرانی خارجہ پالیسی
صدر حسن روحانی کے دورمیں ایرانی خارجہ پالیسی
کیپشن: m jawad zareef

  

موجودہ صدر حسن روحانی نے ایران کی نئی خارجہ پالیسی تشکیل دی ہے،جس کے خدوخال مندرجہ ذیل ہیں:

قومی ریاستوں میں خارجہ پالیسی عوام کی زندگیوں، کارکردگی اور حکمرانی کا ایک نہایت اہم جزو ہے، لیکن حالیہ برسوں میں جب بین الریاستی تعلقات کہیں زیادہ پیچیدگیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ خارجہ پالیسی اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے نے جن میں کہ ملٹی نیشنل تنظیمیں، غیر ریاستی عناصر، حتیٰ کہ انفرادی طور پر بعض منفرد لوگ بھی شامل ہیں، ان سب نے مل ملا کر پالیسی سازی کو اور زیادہ پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے، جبکہ عالمگیریت کے عمل نے بھی، جسے خواہ سراہا جائے یا اس کی تنقیص کی جائے، تمام ریاستوں کی خارجہ پالیسی کی تشکیل پر خواہ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر، اپنا بوجھ ڈال دیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران 1979ءمیں عوامی انقلاب کے بعد سے ان تمام چیلنجوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔انقلاب کے بعد سے ایران کی خارجہ پالیسی ملک کے آئین میں شامل اہم نظریات اور مقاصد کو بروئے کار لانے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ان میں ایران کی آزادی کی حفاظت، علاقائی یکجہتی، قومی سلامتی اور دیرپا قومی تعمیر و ترقی کا حصول شامل ہے۔اپنی سرحدوں سے باہر ایران اپنا علاقائی اور عالمی تاثر بہتر بنانا چاہتا ہے، تاکہ اس کے تصورات کو پذیرائی مل سکے۔ بالخصوص اسلامی جمہوریت کو تاکہ وہ اپنے پڑوسی مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ اور غیر وابستہ ریاستوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو بڑھاوا دے سکے نیز ڈائیلاگ اور ثقافتی روابط کے ذریعے بین الاقوامی مفاہمت کو فروغ دیا جا سکے۔خطے میں کشیدگی کو کم کرایا جا سکے تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو مثبت روابط کے ذریعے فروغ حاصل ہو سکے اور ثقافتی تعلقات اور ڈائیلاگ کے ذریعے بین الاقوامی افہام و تفہیم میں اضافہ کیا جا سکے۔

ایران کثیر الجہت دور میں سرد جنگ کے خاتمے اور 1990ءکے عشرے کے ابتداءمیں دو قطبی دنیا کے خاتمے کے بعد عالمی منظر نامے میں بہت اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں، لیکن ابھی تک کوئی مستحکم و مربوط نیا ڈھانچہ کھڑا نہیں کیا جا سکا، جیسا کہ ماضی میں بھی دیگر تبدیلیوں کے دوران ہوتا رہا ہے۔آج بین الاقوامی امور میں جو غیر یقینی کی فضاءپائی جاتی ہے وہ بہت پیچیدہ اور چیلنجنگ ہے۔ماضی میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں، ان کو فوجی آویزشوں کے ذریعے، حتیٰ کہ وقت کی بالادست قوتوں کی طرف سے براہ راست جنگ کے آغاز سے بھی حالات کو خراب کیا گیا ہے۔آج دشمنیاں اور مخالفتیں زیادہ پیچیدگی اختیار کر چکی ہیں، لیکن اب عالمی صورت حال بدل چکی ہے جس کے نتیجے میں طاقت کا مزاج بھی تبدیل ہوگیا، جبکہ ریاستی اور غیر ریاستی عوامل نے مل جل کر صورت حال کو زیادہ گنجلک بنا دیا ہے، تاہم آج جو مسابقت اور مقابلے کی جو فضا ہے وہ غیر فوجی انداز کی ہے۔آج طاقت کو پرکھنے کا واحد پیمانہ فوجی طاقت نہیں ،بلکہ اب اقتصادیات ،ٹیکنالوجی اور ثقافت بھی اپنی اثرپذیری رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے طاقت کے پھیلاﺅ میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔اس وقت عالمی منظر نامے میں بھی بنیادی تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے والے ماضی کے ڈھانچے سے بدستور مستفید ہونے کی کوشش میں ہیں۔

1980 ءکے آخر میں اور 1990ءکی دہائی کے اوائل میں امریکہ نے نئے نظریوں کا پرچار شروع کیا، جن میں ”تہذیبوں کے تصادم“ کا نظریہ بھی شامل تھا، جسے ”تاریخ کے خاتمے“ سے بھی تعبیر کیا گیا۔امریکہ روس سرد جنگ کے خاتمے کے خوف ظاہر کرنے والی تحریکیں بھی شروع ہوئی، جن کے لئے ”اسلامو فوبیا“ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔بعض مغربی ممالک نے اسلامی برادری کو عالمی سطح پر نظریاتی دشمن قرار دیا، لیکن اب دنیا باہمی طور پر ایک دوسرے پر خود انحصاری کی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے،جبکہ ماضی میں طاقتور ممالک نے اپنی ہٹ دھرمی کے باعث ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کر رکھا تھا، تاہم آج دنیا کی تمام قومی ریاستوں نے اپنے بڑے چھوٹے حجم سے قطع نظر اس امر کا احساس کرلیا ہے کہ الگ تھلگ رہنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔نیا دور قوموں کے باہمی تعاون کی اہمیت کو پوری شدت سے محسوس کرتا ہے۔اب عمومی مسائل کو اجتماعی مساعی سے علاقائی اور بین الاقوامی طور پر حل کرنے کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے، حتیٰ کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ وہ انفرادی طورپر اپنے مفادات کماحقہ حاصل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی یکطرفہ کوششوں سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بتدریج ایک دوسرے کے تعاون سے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے،جس میں کامیابی حاصل کرنا نسبتاًآسان ہو جاتا ہے۔اس طرزعمل سے مختلف اقوام میں کشیدگی میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے، تاہم اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کے مطابق صرف اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جس سے بیشک دوسروں کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہو، اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،لیکن اس روش کو قبولیت عام کا درجہ حاصل نہیں اور یہ بھی بعید نہیں کہ اس قسم کی خود غرض طاقتوں کو بالآخر بھاری نقصان اٹھانا پڑے۔

اس وقت امریکہ کی فوجی طاقت کے بارے میں تو کوئی ابہام موجود نہیں،لیکن اس کے باوجود دنیا کے جن خطوں میں امریکہ براہ راست مداخلت کرتا ہے، جس میں کہ عظیم تر مشرق وسطیٰ بھی شامل ہے، نیز ایران کے قریبی ہمسایوں میں بھی امریکہ کا عمل دخل نمایاں ہے،حتیٰ کہ علاقائی طاقتیں جن میں کہ چین، بھارت اور روس شامل ہیں اور جن کے درمیان اپنے طور پر زبردست مسابقت جاری ہے۔بالخصوص مغربی بلاک کے ساتھ جو زیادہ نمایاں عالمگیری کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔بڑی طاقتیں اور ابھرتی ہوئی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ باہمی اختلافات کوفوجی ذرائع سے حل کرنے کی بجائے پرامن ذرائع کا استعمال ہر لحاظ سے زیادہ بہتر ہے۔اس بناءپر کئی ممالک نے اپنی خارجہ پالیسی میں اساسی نوعیت کی تبدیلیاں کی ہیں۔قومی ریاستیں اپنی موجودہ پوزیشن اور طاقت سے قطع نظر اپنے اہداف محتاط اور متوازن تعاون اور مسابقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ماضی کے سخت دشمن جو کہ وحشیانہ قوت اور ٹھوس طاقت کا استعمال کرتے رہے ہیں، اب انہوں نے بتدریج ثقافتی میدان میں مثالیت پسندی کے ذریعے مقابلے کی راہ ہموار کرلی ہے۔عالمگیری اقدار میں جو غیر یقینی کی کیفیت ہے، اس میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔اگر ریاستیں اپنی طاقت کے بارے میں غلط اندازہ لگا کر اور دوسروں کی اہلیت کو بھی غلط طور پر کم تر سمجھ لیں تو اس سے سب کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔اس صورت حال میں جو خطرات پوشیدہ ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا معروضی تجزیئے کے ذریعے درست نتیجہ نکالنا چاہیے اور دوسروں کے بارے میں بھی غلط اندازے قائم نہیں کرنے چاہئیں۔گزشتہ چند عشروں میں بالخصوص سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے جن ریاستوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں مناسب تبدیلیاں کی ہیں، وہ علاقائی اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ کامیاب رہی ہیں، لیکن جن ریاستوں نے عالمی ماحول کی جزویات کو درست طور پر نہیں سمجھا اور غلط اندازے قائم کرکے پیشرفت کرنے کی کوشش کی ہے، وہ اپنی پہلی حیثیت سے بھی محروم ہو کر اپنی ہئیت میں محدود ہو گئی ہیں۔

(جاری ہے )

مزید :

کالم -