انتخابات کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستان والا مسئلہ پید اہو گیا اور یہ مسئلہ دھاندلی نہیں

انتخابات کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستان والا مسئلہ پید اہو گیا اور یہ مسئلہ ...
انتخابات کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستان والا مسئلہ پید اہو گیا اور یہ مسئلہ دھاندلی نہیں

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران ہی بوگس ووٹوں کی اطلاعات آنے لگی تھیں، نتائج آنے کے بعدانتخابی سسٹم پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے مطالبات سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ مطالبات یو کے انڈیپنڈنس پارٹی (یو کے آئی پی) کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔ یو کے آئی پی کے رہنماءنگیل فراگ، جو انتخابات میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے ملک بھر سے 3.9ملین ووٹ حاصل کیے لیکن انہیں ایک سیٹ ملی جبکہ کنزرویٹو پارٹی محض ایک تہائی ووٹ لے کر سب سے زیادہ سیٹیں لے اڑی۔

مزیدپڑھیں:میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہو تو شادی کامیاب ہونے کا امکازیادہ ہوتاہے؟تحقیق سے جواب مل گیا

نکلیل فراگ کا کہنا تھاکہ یہ ہمارے انتخابی سسٹم کی ناکامی ہے کہ ہم لیبر پارٹی سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو سکے۔ گرین پارٹی اور ڈیموکریسی کیمپینرز نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں متناسب انتخابی نظام رائج کیا جائے تاکہ ہاﺅس آف کامنز میں ایم پیز کی تعداد قوم کے دیئے گئے ووٹوں کی صحیح عکاسی کر سکے۔یاد رہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے حالیہ انتخابات میں حیران کن فتح حاصل کی اور ہاﺅس آف کامنز میں واضح اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی نے 331ایم پیز کی سیٹیں جیتیں جو ہاﺅس آف کامنز کا 50.9فیصد ہے جبکہ انہوں نے 36.9فیصد ووٹ حاصل کیے۔اسی طرح ایس این پی نے بھی 4.7فیصد ووٹ لے کر ہاﺅس میں46سیٹیں یعنی 8.6فیصد نمائندگی حاصل کی۔اس کے بالکل برعکس یوکے آئی پی کو ہاﺅس میں 0.2فیصد نمائندگی ملی جبکہ اس نے 12.6فیصد ووٹ لیے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں بھی 2013ءکے الیکشن کے بعد بھی اسی طرح کا معاملہ درپیش تھا اوراپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے واویلا کیا گیا تھا کہ انہیں کثیر تعداد میں ووٹ ملے لیکن ان کی سیٹیں ووٹوں کی تناسب سے بہت کم ہیں۔2013ءکے انتخاب میں نواز لیگ نے ایک کروڑ 48لاکھ 74ہزار ووٹ حاصل کئے تھے اور اس کی سیٹوں کی تعداد183تھی، تحریک انصاف نے 76لاکھ 80ہزار ووٹ کئے تھے اور اس کی سیٹوں کی تعداد 30،پیپلز پارٹی نے 69لاکھ 11ہزار ووٹ لئے تھے اور کے حصہ میں 41سیٹیں آئیں تھیں۔ان اعدادوشمار کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے کہا تھا کہ انتخاب میں یہ طریقہ کافی مسائل رکھتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس