پولٹری کی برآمدات میں رکاوٹیں

پولٹری کی برآمدات میں رکاوٹیں

تحریر: ڈاکٹرمطفیٰ کمال

چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن

حلال فوڈ خاص طور پر حلال گوشت کے لیے پاکستان مصدقہ اور مسلمہ ملک ہے ۔ مسلمان ملکو ں اور دنیا میں جہاں کہیں مسلمان ہیں انہیں یقین ہے کہ پاکستان میں حرام گوشت کو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان سے جو گوشت آئے گا وہ حلال ہی ہو گا۔ اس لیے وہ پاکستان سے گو شت منگوانے اور خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن پاکستان کے حکومتی ادارے فیسوں اور ٹیکسوں میں اضافوں کی صورت کی صورت میں گوشت کی برآمدات کی راہ میں مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں انڈیا کے گوشت کے بارے میں بیرون ملک ایسا سچا اور کھر ا تصور نہیں ہوسکتا اس لیے اس نے قیمتوں میں کمی پیدا کرکے گاہکوں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے بیرونی منڈیوں پر قبضہ جمانے کے لئے بھارت نے ایکسپورٹ ہونے والے پولٹری اور جانوروں کے گوشت پر کوارنٹائن فیس ختم کر دی ہے تاکہ اس کی قیمت فروخت کم ہو سکے ۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ بھی اپنی فیسوں اور ٹیکسوں میں کمی کرکے ایکسپورٹ ہونے والے گو شت کی قیمت نیچے لاتے لیکن پاکستانی بیوروکریسی کا مزاج ہی نرالا ہے اس نے فیسوں میں کمی کی بجائے کورانٹائن فیس میں کئی گنااضافہ کردیا ہے ۔ جہاں ایک جانور کی فیس پہلے 240 روپے تھی بڑھا کر اسے 600روپے کردیا گیا ہے اسی قسم کی صورت حال پولٹری کے بارے میں کی گئی ہے حکومت پاکستان کے افسران کو کوئی غرض نہیں کہ ان اضافوں کی وجہ سے گوشت اور جانوروں کے لیے بیرون ملک مارکیٹ انڈیا کے ہاتھ میں چلی جائے گی ۔انڈوں کی ایک پیٹی پر جو فیس 125 روپے تھی اسے بڑھاکر 250 روپے کر دیا گیا ہے یعنی 20 ہزار فیصداضافہ کوئی اس ملک کے خلاف سازش نہیں کہیے گا تو کیا کہیے گاحکومت پاکستان کے افسران کو کوئی غرض نہیں کہ ان اضافوں کی وجہ سے گوشت اور جانوروں کے لیے ملک مارکیٹ انڈیا کے ہاتھ میں چلی جائے گی ۔اندرون ملک پولٹری انڈسٹری جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہے تباہ ہو جائے گی انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے ۔عام آدمی سستے گوشت اور پروٹین سے محروم ہو جائے گا ۔اس صنعت پر 700 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اس کا کیا بنے گا۔مزیدسرمایہ کاری رک جائے گی فوڈسیکوریٹزکا یہ عالم ہے کہ ملک میں گوشت کی وجس قدرضرورت ہے اس کا 28 فیصد صرف پولٹری انڈسٹری پورا کرتی ہے ہے اس گیپ کو کیسے اور کس چیزسے پورا کریں گے ۔ان سارے قومی نقصانات کے پس منظر میں پولٹری انڈسٹری کے موجودہ حالات کو ر یویو کرنے اور اسے بحال رکھنے کے لیے اہم فیصلوں کی اشد ضرورت ہے برآمدات اور زرمبادلہ کے لیے حکومتوں کا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل پر چلا آرہا ہے پولٹری جیسے پوٹینشیل شعبوں کو ترغیبات دے کر ایکسپورٹ کے لیے توانا بنانے کی بہت کم کوشش کی گئی ہے۔ہمارے خیال میں پولٹری انڈسٹری برآمدات بڑھانے میں کافی سود مندثابت ہو سکتی ہے پاکستان کے پالیسی میکرزنے اگراس شعبے کے لیے خصوصی پالیساں تشکیل دی ہوتیں تواس سے بے روزگاری پر قابوپانے میں بڑی مدد ملتی اس کے علاوہ ہماری برآمدات 25 ارب ڈالر کے اردگرد رہتی ہیں ۔ حالانکہ خطے کے دیگر ملک برآمدات بہت کر چکے ہیں ساز گار ماحول اور پالیسیاں دیتے تو پاکستان کی پولٹری انڈسٹری دنوں میں برآمدی ہندسے کو پچاس ارب ڈالر تک پہنچادیتی اس لیے ضروری ہے کہ میاں محمدشہباز شریف پولٹری انڈسٹری سے متعلقہ کاروباری افراد سے ملاقات کا وقت دیں جو تجاویزمرتب ہوں ان پر حکومتی مشینری سے عملدرآمدکرائیں اس میں کچھ شک نہیں وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف پنجاب میں سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں ۔اس مقصد کے لیے حال ہی میں انہوں نے پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ٹریڈکی چیئرمین شپ پر نجی شعبہ کی اہم شخصیت کو تعنیات کیا ہے تاکہ کارو باری لحاظ سے معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے اس کے بعد ایف بی آر اور وزارت تجارت کے افسران کو پابندکرنا ضروری ہے کہ ایکسپورٹ سیکٹر اور سرمایہ کاری کے سلسلے میں فیصلوں سے پہلے پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سے مشاورت کرلیا کریں جب تک تمامتعلقہ سرکاری محکمے ایک پیج پر یکسو نہیں ہوں گے ۔اپنے اپنے فیصلے کرتے رہیں گے اس وقت تک سرمایہ کاری یابرآمدات بڑھانے میں صحیح کامیابی نہیں ملے گی پولٹری انڈسٹری اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے جب تک وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف ذاتی طورپران میں دلچسپی لے کر انہیں حل نہیں کرائیں گے حلال گوشت اور پولٹری کی ایکسپورٹ بڑھانے میں مدد نہیں ملے گی پہلی بات یہ کہ اس پر کورانٹائن فیس بڑھادی گئی اسے کم کرنا ضروری ہے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انڈسٹری کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہاہے ۔گرمی سے مرغی اور چوزے مرجاتے ہیں جو بھاری نقصان کاباعث بنتے ہیں ۔جنریٹر چلاتے ہیں توپیداواری اخراجات میں کئی گنااضافہ ہو جاتا ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2