پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اور مستحکم ہوتی معیشت!

پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اور مستحکم ہوتی معیشت!

عرفان یوسف

پاک چین معاشی راہداری کے منصوبہ پاکستان کو اس خطے میں اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے ایک مرکزی حیثیت دیتا ہے راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک فریم ورک ہے، یہ بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے جس میں بجلی گھر، صنعتی زون، ثقافتی منصوبے اور حتیٰ کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو اسٹیشن تک شامل ہیں۔ گوادر پاکستان کے اندر اور باہر مختلف منڈیوں کے لیے ایک ماڈرن بندرگاہ کے طور پر کام کرے گی، اس لیے اسے ایک سے زیادہ راستوں کے ذریعے ملکی اور علاقائی منڈیوں سے جوڑا جائے گا۔’مغربی روٹ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے گزرے گا، مرکزی روٹ سکھر اور انڈس ہائی وے کو قرا قرم ہائی وے سے جوڑے گا اور مشرقی روٹ اسلام آباد سے فیصل آباد اور ملتان موٹر وے کو سکھر کے راستے گوادر تک لے جائے گا۔‘گوادر کو خضدار سے لانے والی سڑک پر تعمیر کے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ سڑک کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتی ہوئی شاہراہ قراقرم تک پہنچے گی اس سڑک کو اگلے سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائیا سب سے پہلے مغربی روٹ اس کے دو سال بعد مشرقی روٹ اور سب سے آخر میں مرکزی روٹ پر کام مکمل کیا جائے گاصوبہ بلوچستان میں ہونے کے باعث گوادر کی بندرگاہ اور اس سے متعلق تمام منصوبوں میں بلوچوں کا اہم حصہ ہے۔ تاہم بلوچستان میں جاری مزاحمتی تحریک میں شامل عناصر اپنے صوبے میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے خلاف ہیںیہ مزاحمت کار الزام لگاتے ہیں کہ مرکزی حکومت ان کے وسائل پر قبضہ کر کے انھیں محروم رکھنا چاہتی ہیبلوچستان کے وزیراعلیٰ بدالمالک بلوچ کہتے ہیں کہ جب تک بلوچوں تحفظات دور نہیں کیے جاتے، بلوچستان میں اس طرح کے میگا منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے صوبہ بلوچستان میں ہونے کے باعث گوادر کی بندرگاہ اور اس سے متعلق تمام منصوبوں میں چوں کا اہم حصہ ہے’یہ منصوبہ بہت زبردست ہے لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ بندرگاہ ہو یا سڑکوں کی تعمیر، ان ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ سب سے پہلے گوادر کے رہنے والوں اور پھر بلوچستان کے رہنے والوں کو پہنچنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بلوچستان کے لوگ اس منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ منصوبے ترتیب دیتے ہوئے اس پہلو کو خاص طور پر پیش نظر رکھا ہے۔’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس راہداری سے وابستہ جتنے بھی ترقیاتی منصوبے ہیں، وہ تمام صوبوں میں پھیلے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہوں کی تعمیر ہو یا بجلی گھروں اور صنعتی زونز کا قیام، چھوٹے صوبوں کو فوقیت دی جا رہی ہے پاکستان میں، خاص طور پر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکروں پر متعدد بار شدت پسندوں کی جانب سے حملے کیے جا چکے ہیں ہزاروں کلومیٹر پر پھیلی سڑکیں اس منصوبے کا اہم ترین جزو ہیں، اور ان پر کام کرنے والے ہزاروں چینی کارکنوں کو تحفظ کی ضمانت کے بغیر اس منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہو گی’سڑکوں کی تعمیر اصل چیز ہے۔ اگر یہ سڑکیں تعمیر ہو جاتی ہیں تو پھر باقی ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر بھی ممکن ہو سکے گی۔ اگر یہ سڑکیں نہ بن سکیں تو اس راہداری منصوبے پر کوئی اور کام بھی نہیں ہو سکے گا اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان چند سڑکیں بنانا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے پاکستان کی اقتصادی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے چین نے ایسے وقت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کی جب دنیا خطے کے حالات کی وجہ سے لوگ یہاں سرمایہ کاری نہیں کر رہے تھے جبکہ پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اور ہائر روبا گروپ کے سربراہ شاہ فیصل آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان بنائی جانے والے اقتصادی راہداری کے روٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی ۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے 46ارب ڈالر کے معاہدوں سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی اور پاکستان کو ایشین ٹائیگربننے سے کوئی نہیں روک سکے گا اگر حکومت نے چین کے ساتھ ہونے والے 46ارب ڈالر کے منصوبوں کو مکمل کر لیا تو پاکستان کی جی ڈی پی 7سے9فیصد تک پہنچ سکتی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی چشمہ نیوکلیئر پاور کے نئے منصوبے سے ایک ہزار میگاواٹ جبکہ قائداعظم سولر پاور منصوبے سے بھی ایک ہزار میگاواٹ بجلی مختصر مدت میں حاصل ہو گی جبکہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور ڈیموں کے ذریعے طویل المدت بجلی کے منصوبے مکمل کئے جا سکتے ہیں۔چین نے پوری دنیا میں 8سپیشل اکنامک زون بنائے ہیں جن میں سے دو سپیشل اکنامک زون پاکستان میں ہوں گے ایک اکنامک زون ہائر روبا اور دوسرا سپیشل اکنامک زون گوادر میں بنایا جائے گا ۔ان اکنامک زونوں میں مختلف شعبوں کیلئے چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گی کریڈٹ ریٹنگ کے بین الاقوامی ادارے سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ آؤٹ لک مستحکم سے اپ گریڈ کر کے مثبت (پازیٹو) کر دی۔ ادارے کی طرف سے اس موقع پر جاری بیان میں پاکستان کی اقتصادی نمو اور مالیاتی کارکردگی میں بہتری کا خاص طور پر ذکر کیاگیا ہے۔ معروف امریکی اقتصادی ادارے بلوم برگ نے اس حوالہ سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مثبت کریڈٹ ریٹنگ آؤٹ لک سے آئندہ ایک سال کے دوران پاکستان کی بہتر اقتصادی نمو، مالیاتی اور ایکسٹرنل پرفارمنس اور غیر ملکی ڈونرز کے تعاون پر مبنی تعلقات میں بہتر توقعات کی عکاسی ہوتی ہے۔ سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے 2015ء تا 2017ء کی مدت کیلئے پاکستانی معیشت کی نمو کا تخمینہ 3.8 فیصد سے بڑھا کر 4.6 فیصد کر دیا ہے۔ قبل ازیں کریڈٹ ریٹنگ کے ایک اور عالمی ادارے موڈیز نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی ہے ۔ پاکستان کی اقتصادی کارکردگی میں بہتری کا یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیراعظم محمد نواز شریف پاکستان میں بجلی کی قلت پر قابو پانے اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضے کے نتیجہ میں تقریباً سو فیصد اضافے کے ساتھ 12.6 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ رواں سہ ماہی کے دوران پاکستان کی سٹاک مارکیٹوں کارکردگی کے لحاظ سے ایشیا کی بہترین سٹاک مارکٹیس میں شامل ہوگئی ہیں۔ گزشتہ ماہ چینی صدر شی چن پنگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سڑکوں، بندرگاہوں و ایئر پورٹس اور بجلی گھروں سمیت مختلف منصوبوں میں 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے 2016ء اور 2019ء کے درمیان وفاقی بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کی اوسط سطح پر رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ ادارے نے اس عرصہ کے دوران انٹرسٹ کاسٹس کم ہو کر محصولات کا 25.5 فیصد کی شرح پر رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ رواں سال کے دوران اس شرح کے 30.6 فیصد کی سطح پر رہنے کا تخمینہ ہے۔ لمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ سال4.7فی صد کی شرح سے ترقی کرے گی اور یہ شرح نموگزشتہ 8سالوں کی شرح نموسے بھی تیز ترین شرح نمو ہے ۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں تیزی ،مستحکم کرنسی اور افراط زر میں کمی کے باعث اب پاکستانی معیشت کی ترقی کے حوالہ سے بڑی امید یں پیدا ہو گئی ہیں ۔ اس سال مرکزی بینک نے دو مرتبہ سود میں تاریخی کمی کی اور کچھ اشارئیے پاکستان کی معیشت میں تیزی کو ظاہر کر رہے ہیں ۔ گزشتہ ایک سال کے مقابلہ میں اس سال جولائی سے مارچ تک سیمنٹ کی فروخت میں 5.5فی صد اضافہ ہوا جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں تعمیراتی سر گرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسی عرصہ کے دوران کاروں کی فروخت میں 22فیصد اضافہ ہوا ۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں پانچ مرتبہ کمی عطیہ خدا وندی رہی ۔ پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زیادہ تر برآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے اور اس عرصہ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے ادائیگیوں کے توازن کو پورا کرنے میں مدد ملی۔ ملک کا درآمدی تیل کابل ٹیکسٹائل کی برآمدات اور یورپ و مشرق وسطٰی میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر سے بآسانی طور پر پورا ہو سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 2013-14ء میں پاکستان کا تیل کا کل در آمدی بل12.6ارب ڈالرتک مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے)5(فی صد کے برابر رہا تاہم اگر تیل کی قیمتیں کم رہتیں تو پاکستان آئندہ تین سالوں کے دوران تیل کے درآمدی بل کی مد میں کل12ارب ڈالرز بچا سکتاتھا اور بچائی گئی یہ رقم ملک میں مقامی طور پر خرچ ہوتی جس سے پاکستان کی معیشت بلندیوں کی طرف گامزن ہوجاتی۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت کے مستحکم اور مثبت ہونے کا کریڈٹ بلا شبہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت کو جاتا ہے جو کہ 2013ء میں دئیے گئے آئی ایم ایف کے پروگرام پر سختی سے کاربندرہی ۔ اب پاکستان میں زر مبادلہ کے ذخائر دوگنابڑھ کر 17ارب 70کروڑ ڈالرز ہو چکے ہیں ۔ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا اور غیر ادا شدہ بجلی کے بلوں کی وصولی کی گئی جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی بوجھ میں کمی ہوئی۔ ملک میں ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا اور ڈیڑھ لاکھ ٹیکس نا دہندگان کو ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز جاری کئے گئے اور زیادہ سے زیادہ پرچون فروشوں کو بالواسطہ ٹیکس ادائیگی کے نیٹ میں لایا جا رہا ہے اور پاکستان میں آئندہ یعنی2015-16ء کے بجٹ کا مقصد بھی بجٹ خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے 4فی صد سے بھی نیچے لانا ہے جو کہ اس وقت8فی صد سے بھی زائد ہے ۔ گزشتہ سال جون میں تعطل کا شکار ہونے والی نجکاری اب اپریل میں اس وقت دوبارہ شروع ہوئی ہے جب حکومت نے حبیب بینک میں اپنے حصے کو ایک ارب ڈالرز میں فروخت کیا ۔ جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اور کئی ترقی پذیر ممالک جس کے وسائل پاکستان کی طرح ان ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے زرعی شعبے کے پیداوار کم ہے ملک کی بڑھتی آبادی اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا اضافہ ہو رہا ہے وسائل کی کمی ، کمزور سرمایہ کاری ، پرانے تیکنیکی مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے ۔ ان ضروریات کو پورا کرنے سے زرعی پیداوار میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ حکومت نے یہ عزم کیا ہوا ہے کہ ملک میں زرعی شعبے میں چھوٹے درجے کے زمیندار کو خصوصاً اور زرعی شعبے کو ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی ترقی کی شرح کو 2017 تک 7 فیصد تک لے جائیں گے گزشتہ سال حکومت نے تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کو شروع کیا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے ملک کی معاشی حالت میں بہتری آئی ۔ زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے کام کریں گے ۔ زرعی شعبے کے 325 بلین روپے سے بڑھا کر 500 بلین تک کا قرضہ بڑھایا جا چکا ہے ملک کو معاشی صورت حال خراب ہونے سے بچانے کے لئے بہت سے اصلاحی کام کئے ہیں ۔ زرعی شعبے میں ترقی کے لئے کریڈٹ گرنٹی سکیم شروع کی جائے گی انہوں نے کہا کہ جون 2013 میں ہمیں حکومت ملی تھی تو اس وقت ملک کی معاسی حالت بہت خراب تھی حکومت نے زرعی شعبے میں اصلاحات کر کے 2017 تک 7 فیصد شرح نمو حاصل کریں گے ۔ زرعی شعبہ میں بہت پوٹینشنل ہے اس کو بہتر بنانے کے لئے آئندہ بجٹ میں خصوصی رقم رکھی جائے گی ۔

مزید : ایڈیشن 2