ایران میں کرد دوشیزہ کی مبینہ عصمت دری کے واقعے کے خلاف ہڑتال

ایران میں کرد دوشیزہ کی مبینہ عصمت دری کے واقعے کے خلاف ہڑتال

تہران(آئی این پی )ایران کے کرد اکثریتی شہر مہا باد میں ایک کرد دوشیزہ کی مبینہ عصمت ریزی کے واقعے کے بعد شہر بھر میں ہڑتال اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ایرانی پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 70 سے زائد افراد ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مہا باد میں سینکڑوں کرد شہریوں نے سڑکوں پر نکل کرحکومت کی امتیازی پالیسیوں اور پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کرد خاتون کی عصمت دری میں ملوث سرکاری اہلکار کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔دوسری جانب ایرانی حکومت نے کسی سرکاری عہدیدار کے کرد خاتون کی عصمت دری کے واقعے میں ملوث ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ محکمہ سیاحت کا کوئی اہلکار کسی کرد خاتون پرجسنی تشدد میں ملوث نہیں ہے۔

کرد خاتون پر جنسی حملے میں ایک کرد شخص ہی ملوث ہے جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ مہاباد شہرمیں کرد شہریوں کا احتجاج غیر ملکی سازش ہے جس کا مقصد ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔ نیز کرد مظاہرین کو بیرون ملک سے رقوم مل رہی ہیں۔درایں اثنا کردوں کی ایک دیرینہ سیاسی جماعت’کوملہ‘ نے حکومتی موقف مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایک خاتون کی مبینہ عصمت ریزی میں ایک سرکاری اہلکار ہی ملوث ہے۔ حکومت کرد شہریوں کے ساتھ دانستہ طورپر امتیازی سلوک کررہی ہے اور خاتون پرجنسی تشدد میں ملوث اہلکار کو بچاتے ہوئے الزام ایک کرد شہری پرڈال دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ حالیہ چند ہفتوں سے مہا باد شہرمیں حکومت کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ ایران کے مہاباد شہر میں کردوں کی نمائندہ جماعت ’’کوملہ‘‘ دنیا بھر کی کرد تنظیموں کی ’ماں‘ سمجھی جاتی ہے۔ کوملہ کی بنیاد 1946ء میں رکھی گئی تھی۔ اس کے بعد دنیا کے دیگر خطوں میں کرد جماعتیں قائم ہونا شروع ہوئیں جو دراصل کوملہ ہی کی بطن سے پھوٹی تھیں۔

مزید : عالمی منظر