شہر لاہور میں شیر

شہر لاہور میں شیر
شہر لاہور میں شیر

  

’’جنگل میں مور ناچا کس کس نے دیکھا ‘‘ یہ تو پتہ نہیں ، لیکن لاہور شہر میں شیر تو بے شمار دنیا نے دیکھ لیا،ہمیں بھی یقیناًحیرت ہو ئی ۔ حیرت اس لئے ہوئی کہ ہمیں بھی لاہور شہر میں رہتے ہوئے مدت ہو گئی ، لیکن ہم آج تک ایسے خوبصورت نظارے سے محروم رہے ، تاہم قابل تحسین ہے پنجاب حکومت کی عوام کے لئے کاوشیں۔ہم جس جگہ کی بات کرنے جا رہے ہیں ، وہ جگہ بھی حکومت پنجاب کی آشیر باد سے ہی آباد ہوئی اور نہ صرف آباد ہوئی ،بلکہ عوام کے لئے معیاری تفریح گاہ بھی بنی ۔۔۔ جی ہاں دوستو! ہم آپ کو سفاری زو کے متعلق بتانے جا رہے ہیں جو راولپنڈی میں کامیابی کے بعد اب لاہور میں بھی عوام کو تفریح فراہم کر رہا ہے ،جی ہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ سفاری زو لاہور شہر کے نزدیک رائیونڈ روڈ پر بنایا گیا ہے۔ وہاں عوام کی تفریح کے لئے جنگل آباد کیا گیا ہے،جہاں ٹائیگر اور شیر رکھے گئے ہیں ، جنہیں دیکھنے کے لئے عوام جوق در جوق سفاری پارک پہنچ رہے ہیں۔ ابتدا میں سفاری پارک کا وہ حصہ عوام کے لئے کھولا گیا تھا ،لیکن اب وہ حصہ بند کر کے اندر خصوصی جیپ چلائی گئی ہے، جس کے ذریعے عوام سفاری زو کے اندر جہاں شیر ہوتے ہیں ،اس جگہ کی سیر بھی کر سکتے ہیں اور مخصوص جیپ کے اندر بیٹھ کر انتہائی قریب سے شیروں کی تصاویر بھی بنا سکتے ہیں ۔ہمیں بھی سفاری زو دیکھنے کا موقع ملا۔

ہم اپنی بیگم صاحبہ اور بچوں مصطفی اور اسد کے ہمراہ سفاری زو پہنچ گئے ، ہفتہ کا روز تھا اس لئے عوام کا بہت رش دیکھنے میں آیا ۔سفاری زو میں واٹر بوٹس کے ساتھ ساتھ بطخیں اور بڑے سے جنگلے میں ہزار ہا اقسام کے پرندے رکھے گئے ہیں ، ہمیں بھی عوام کی طرح سفاری پارک میں داخل ہونے کے لئے ٹکٹ خریدنا پڑے ، اسلام آباد سے آنے والے بہت ہی پیارے دوست بھی ہمارے ہمراہ تھے ہم نے بھی سفاری پارک تک پہنچنے کے لئے گاڑی پر طویل سفر طے کیا اور جب ہم سفاری پارک پہنچے اور سامنے جنگل میں شیروں کو گھومتے دیکھا تو سفر کی ساری تکان اترگئی۔ ہم سفاری پارک پہلی بار گئے تھے ،اس لئے سفاری پارک پہنچنے کے لئے ہمیں بے شمار افراد سے راستہ پو چھنا پڑا ۔ طو یل انتظار کے بعد ہمیں بھی جیپ میں بیٹھنے کا موقع ملا۔شیروں کو قریب سے دیکھ کر عجیب سا لطف بھی آیا اور ایک انجانا ان دیکھا سا خوف بھی ،بہر حال ہم بھی جیپ میں بیٹھ کر شیروں کا نظارہ کرتے رہے ،تقریباً پندرہ سے بیس منٹ تک ہم جیپ میں بیٹھ کر سفاری زو جنگل کے نظارے کرتے رہے،پھر ہماری جیپ واپس دروازے کی طرف جنگل سے باہر نکلنے کے لئے بڑھی تو اچانک ایک بہت بڑا شیر جو کہ جنگلے کے قریب تھا اُٹھ کر دروازے کی طرف آیا تو جیپ میں بیٹھے چھوٹے بچوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ۔

جیپ کی سیر کر نے کے بعد ہم کچھ دیر جنگلے کے باہر سے شیروں کی تصاویر بنانے لگے ،بیگم صاحبہ مصطفی کی تصاویر شیروں کے ساتھ بنواتی رہیں ، اس اثنا میں خاصی دیر ہو چکی تھی ۔ہمیں وقت کا بھی احساس تھا اور اس بات کا بھی کہ ہم نے واپس لاہور پہنچنا ہے اور وہ بھی اندھیر ا ہو نے سے پہلے بالاخر ہم سب گاڑی میں بیٹھے اور واپسی کے لئے روانگی اختیار کی تو مصطفی نے شور مچا دیا کہ ابھی نہیں جانا ،تاہم ہمیں دیر ہو رہی تھی ، اس لئے مصطفی کو زبر دستی گاڑی میں بٹھایا ، جس نے تمام راستے رونا جاری رکھا ،بالآخر طویل مسافت کے بعد ہم گھر تو پہنچ گئے ، لیکن دل میں یہ خیال ضرور تھا کہ ایسی معیاری اور اعلیٰ تفریح گاہ لاہور میں ہوتے ہوئے ہماری نظروں سے اوجھل رہی ،بہر حال ایک دعا حکومت پنجاب کے افسران کے لئے بھی تھی کہ اللہ کرے ،وہ اسی لگن اور محنت سے مزید دلکش منصوبے تیار کرتے رہیں ، تاکہ نہ صرف شہر لاہور ، بلکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کی شان و شوکت میں بھی اضافہ ہو تا رہے۔۔۔اجازت پیارے دوستو! آپ سے ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد ،تو چلتے چلتے اللہ نگہبا ن ،رب راکھا ۔ *

مزید : کالم