کچھ اور شعبوں میں بھی چین کی مدد چاہئے !!

کچھ اور شعبوں میں بھی چین کی مدد چاہئے !!
کچھ اور شعبوں میں بھی چین کی مدد چاہئے !!

  

چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان پر اربوں ڈالر کی بارش کی ہے،جس کے نتیجے میں پورے ملک میں عالی شان منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تو انقلابی کام ہونے کو ہے خاص طور پر آزاد تجارت کی راہداریاں کھلنا تو بالکل اسی طرح ہے جیسے ۔۔ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔آنے والے وقت میں اس کے ثمرات اور نتائج قابل رشک ہوں گے۔ ملک کی سماجی اوراقتصادی ترقی میں اس کے دور رس اثرات نظر آرہے ہیں۔بڑی اچھی بات ہے بحیثیت پاکستانی ہمیں اس پر فخر ہونا چاہئے ۔ چین کی یہ والہانہ محبت موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار بھی ہے ۔اس سے وزیراعظم محمد نواز شریف کے قد و قامت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن بہت سے شعبے ایسے بھی ہیں جن میں ہمیں چین کی مددکی اشد ضرورت ہے ۔

چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں کئی دوسرے شعبوں میں بھی ترقی اور اصلاح کے راستے نکالنے چاہئیں۔مثال کے طور پرسستی اور کاہلی ہماری قوم کی رگ رگ میں سرایت کر گئی ہے۔ چین کے تجربات کی روشنی میں ہمیں قوم کی اس ہڈ حرامی کو ختم کرنے کے لئے فوری مدد لینی چاہئے۔خود چین نے جس طرح سستی اور کاہلی کے خلاف جنگ جیتی چین کے تعاون سے ہمیں بھی اس جنگ کو جیتنے کے لئے چین کی معاونت سے استفادہ کرنا چاہئے۔کہتے ہیں چین کی ترقی کا ایک رازیہ بھی ہے کہ انہوں نے وقت کی اہمیت سے فائدہ اٹھایا۔وقت ضائع کرنا اب ان کی عادت نہیں ،جبکہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ آسانی سے ضائع ہونے والی چیز’’ وقت‘‘ ہے۔وقت کو کس طرح استعمال میں لانا ہے،وقت کی پابندی کو اپنے معاشرے میں کس طرح نافذ کرنا ہے؟سرکاری ملازمین کو وقت پر آنا اوروقت پر جانا ہے اس فارمولے کو سیکھنے کے لئے جتنی جلدی ہو چین سے ہاتھ جوڑ کر مدد لی جائے، کیونکہ وقت کی پہچان ہی ہمیں ترقی کے زینے کی طرف لے جاسکتی ہے۔ایک انتہائی اہم شعبہ جس پر چین نے ریکارڈ وقت میں کامیابی حاصل کی ہے وہ آبادی کا بڑھتا ہوا طوفان تھا۔یقین مانیئے پاکستان کو توانائی سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج کا سامنا ہے۔

چین کے متعلقہ اداروں سے مشاورتی اجلاس کئے جائیں جن کی روشنی میں بے ہنگم آبادی کو روکنے کے لئے ایک جامع پروگرام شروع کیا جائے اور اس کی کامیابی کے لئے چینی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ہمارے ہسپتالوں کی جو مخدوش صورتحال ہے نہ ڈاکٹر ہے نہ دوائی ہے اور مریض علاج کے لئے انتہائی اذیت ناک صورت حال سے گزر رہے ہیں۔چین کے محکمہ صحت سے معاہدہ کیا جائے کہ وہ اپنی طرز پر ہمارے ملک کے شہروں اور قصبوں میں جدید ترین ہسپتال قائم کرنے کے لئے ہماری مدد کریں۔ طب کی تعلیم کے لئے ہمارے ملک میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے چین کے تعلیمی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔چین میں میڈیکل کی تعلیم کے لئے جو سستا اور معیاری نظام تعلیم رائج ہے اسی سے ملتا جلتا نظام تعلیم یہاں بھی متعارف کرایا جائے۔

ایک اور مسئلہ ہماری قوم کو پریشان کر رہا ہے وہ ملاوٹ کا ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً ہر چیزمیں ملاوٹ پائی جاتی ہے اور تو اور زندگی بچانے والی دوائیں بھی ملاوٹ سے محفوظ نہیں ۔چین کس طرح اپنی چیزوں کی گارنٹی دیتاہے کہ ان میں ملاوٹ نہیں ہوتی۔ ہمیں اس مسئلے کے حل کیلئے بھی چین کی خصوصی توجہ چاہئے۔ انجینئر نگ کے شعبے میں چین ہمارے ملک میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کرنے میں مدد دے اور چین کے اشتراک سے ایسے تعلیمی ادارے بنائے جائیں جہاں جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو فنی تعلیم دی جا سکے۔ ہمارا ٹریفک کا نظام سالہا سال سے ناقابل اصلاح چلا رہا ہے۔چین سے مدد لی جائے کہ شاہراہوں پر چلتی ہوئی ہماری گاڑیوں میں بھی ترتیب آجائے۔چینی قوم لائن میں لگ کر جس کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے ہمارے ملک میں بھی چین کے تعاون سے اپنی لائن اپنا راستہ کے اصول کو اپنا یاجائے۔زراعت کے میدان میں ہمارے پاس وہی روایتی طریقے ہیں۔کاشتکاروں کو بہتر فصل کے حصول میں چین کی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے بھی معاہدے کئے جائیں۔ہمارے دریا ہرسال ارد گرد کناروں پر تباہی مچا دیتے ہیں۔ دریاؤں پر پشتے باندھنے کے لئے بھی چین کی تکنیکی معاونت حاصل کی جائے۔ میرٹ کی بالادستی کے لئے دوست ملک چین سے رہنمائی حاصل کی جائے اور اسے اسی انداز میں رائج العمل کیا جائے جو پالیسی چین کے ارباب اختیار نے اپنائی ہوئی ہے۔

چین کی بنیادی ترقی کا راز ان کی گڈ گورننس بھی ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں گڈ گورننس کو بہتر بنانے کے لئے چین کے ارباب اختیار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تھنک ٹینک ہونا چاہئے جو ایک عام چینی اور عام پاکستانی کی ورکنگ میں توازن پیدا کرے ۔تعمیر و ترقی کے منصوبے اپنی جگہ، لیکن ہم چین کی اخلاقی اور سماجی اقدار سے بھی سیکھنے کی کوشش کریں تو ہم دنیا کے نقشے پر صرف ایک ہجوم کے طور پر نہیں ،بلکہ ایک پرامن اور ترقی یافتہ قوم کے طور پر نمایاں ہو سکتے ہیں ۔ *

مزید :

کالم -