ہیلی کاپٹر سانحہ: دہشت گردی نہیں حادثہ تھا

ہیلی کاپٹر سانحہ: دہشت گردی نہیں حادثہ تھا
ہیلی کاپٹر سانحہ: دہشت گردی نہیں حادثہ تھا

  

پاک فوج کا ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر جمعہ کو گلگت کے علاقے نلتر میں حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں سات افراد زندگی کی بازی ہار گئے، ان میں ہیلی کاپٹرز کے دو پائلٹ ، ایک چیف انجینئر،جبکہ ناروے اور فلپائن کے سفیر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سفیروں کی بیگمات بھی شامل ہیں، بعض سفیروں سمیت11افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ تمام افراد نلتر میں پاک فضائیہ کے سکی انگ ریزورٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ روسی ساخت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز پر تھا اور اس پر 11 غیر ملکی اور چھ پاکستانی سوار تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر اُترنے کے عمل کے دوران نلتر کے آرمی پبلک سکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں مرنے والے 7 افراد کی میتیں نورخان ائربیس پر لائی گئیں، جن میں فلپائن اور ناروے کے سفیروں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے سفیروں کی بیگمات اور پاک فوج کے تین جوان شامل تھے۔ دونوں پائلٹ اور چیف ٹیکنیشن کو آبائی علاقوں میں سپردخاک کیا گیا۔ قومی پرچم میں لپٹی ہوئی سفارت کاروں کی میتوں کو فوجی جوانوں نے سلامی دی۔ حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر نو افراد کو بھی سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے نور خان ائر بیس پہنچا یا گیا اور حادثے میں ہلاک ہونے والے سفارت کاروں کی میتیں پورے اعزاز کے ساتھ متعلقہ سفارت خانوں کے حوالے کر دی گئیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو ٹیل روٹر میں خرابی کے باعث حادثہ پیش آیا، جس سے ہیلی کاپٹر کے دہشت گردی کے شکار ہونے کے خدشات ختم ہو گئے، تاہم حادثہ اپنی جگہ پر المناک اور انتہائی افسوسناک ہے۔ ائرچیف مارشل سہیل امان نے گلگت میں نلتر کے مقام پر پیش آنے والے واقعہ سے متعلق کہا ہے کہ وادی نلتر میں ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کررہا تھا۔ایم آئی 17 کے پائلٹ اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت رکھتے تھے۔ ہم دن رات اس ہیلی کاپٹر پر سفر کرتے ہیں۔ لینڈ کرنے سے قبل ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے بے قابو ہوگیا تھا۔ اس طرح کے حادثے میں لوگوں کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے دعویٰ (ہم نے ہیلی کاپٹر کو ہٹ کیا ہے) کو ’’بوگس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ تھا۔دُکھ کی اس قیامت خیز گھڑی میں بھی مغربی اور بھارتی میڈیا تواتر اور تسلسل کے ساتھ اس حادثے کو طالبان کا ’’کارنامہ‘‘ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر پاک افواج کے امیج کو مسخ کرنا اور پاکستان کی کردار کشی کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان سیاحوں کے لئے ایک خطرناک ملک ہے۔ اِسی تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ حادثہ کسی تخریب کاری کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ لینڈنگ سے چند لمحے قبل فنی خرابی کے باعث پیش آیا، جبکہ دو ہیلی کاپٹروں نے بحفاظت لینڈنگ کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے گلگت ہیلی کاپٹر حادثے پر اپنی اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے غم و دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا قومی سانحہ ہے، پاکستانی حکومت اور عوام مرنے والوں افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور دُکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو فون کر کے تعزیت کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ان میتوں کے ساتھ وفاقی کابینہ کے ارکان احسن اقبال ملائیشیا اور انڈونیشیا، خرم دستگیر خان فلپائن اور عبدالقادر بلوچ ناروے جائیں گے۔ جنرل راحیل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس حادثے میں میجر التمش، میجر فیصل، نائب صوبیدار ذاکر سمیت غیر ملکی سفیروں کی جانوں کے ضیاع پر گہرا دُکھ اور صدمہ ہے ، یہ ہم سب کے لئے ایک غمناک اور افسردہ دن ہے اور ہمارے دل دُکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

نلتر حادثے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد سفارت کاروں نے کہا ہے کہ پاک فوج کے جوانوں نے بڑی جواں مردی کا مظاہرہ کیا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی کئی زندگیاں بچا لی گئیں۔ ہیلی کاپٹر کا حادثہ دہشت گردی کا نتیجہ نہیں، اس پہلو کو مسترد کرتے ہیں۔ حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے بہتر دیکھ بھال کی۔ یقین تھا کہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ہیلی کاپٹر میں موجود جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ لینڈنگ سے ذرا پہلے سب کچھ معمول پر تھا، یہ ایک ناگہانی حادثہ تھا،جو دُنیا میں کہیں بھی رونما ہو سکتا ہے۔ حادثے میں زخمی سفارت کاروں نے پھر گلگت اور نلترجانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ملائیشین سفیر نے کہا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو حادثے میں مرتے وقت دیکھا۔مَیں نے حادثے کے بعد باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر ہر طرف آگ تھی اور ہیلی کاپٹر میں دھواں بھر گیا تھا۔ ہالینڈ کے سفیر کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد جب میری آنکھیں کھلیں تو ہر طرف آگ تھی، میرا بچ جانا خوش قسمتی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں موجود جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر نے مختلف چکر لگائے، کبھی اوپر اور کبھی نیچے آیا۔ ایسا حادثہ دُنیا میں کہیں بھی رونما ہو سکتا تھا۔ نلتر کا علاقہ گلگت سے 45کلومیٹر دور واقع ہے۔یہ ایک جنت نظیر وادی اور پُر فضا مقام ہے۔ اس علاقے میں چیئر لفٹ منصوبہ پاک فضائیہ نے مکمل کیا ، جس کا افتتاح وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کے روز کرنا تھا۔ تیس ممالک کے سفیروں نے چیئر لفٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ یہ ایک روایت ہے کہ دفتر خارجہ ہر سال غیر ملکی سفیروں کے لئے سیاحتی دورے کا اہتمام کرتا ہے۔ اس دورے کا اہتمام سفیروں کی خواہش پر کیا گیا تھا، جس کی انہوں نے باقاعدہ درخواست کی تھی۔ دورے کا مقصد سفارت کاروں کو پاکستان کی خوبصورتی سے روشناس کرانا اور فروغ سیاحت کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ 30ممالک کے سفارت کار، ان کے اہلِ خانہ، اعلیٰ پاکستانی حکام کے ہمراہ ایک سیاحتی دورے پر اسلام آباد سے گلگت کے لئے روانہ ہوئے،جہاں سے انہیں چار ہیلی کاپٹروں میں گلگت کے ایک سیاحتی مقام نلتر پہنچایا جا رہا تھا کہ بدقسمتی سے چار میں سے ایک ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔ *

مزید : کالم