سعودیہ اور ایران یمن میں امن قائم کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،قاضی عبدالقدیر

سعودیہ اور ایران یمن میں امن قائم کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں،قاضی ...

لاہور (خبر نگار خصوصی ) اسلامی یکجہتی کونسل کے چیرمین قاضی عبدالقدیر خاموش نے خبر دار کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران اپنی انا کا مسئلہ چھوڑ کر یمن میں امن قائم کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ اسلامی دنیا کو مزید تقسیم نہ کریں۔تنازع کو مزید الجھانے کی بجائے سلجھانے پر کام کریں۔ توسیع پسندانہ عزائم ایران کے ہوں یا سعودی عرب کے خطے کے لئے نقصان دہ ہوں گے۔جمعیت علما اہل حدیث پنجاب کے وفد سے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ سابق یمنی صدر علی صالح کا امن فارمولے کو قابل عمل بنایا جائے لیکن سعودی عرب نے بمباری جاری رکھی تو حشر روس اور امریکہ جیسا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یمن پر فضائی حملے جاری رکھنا سیاسی اور اسلامی اخلاقیات کے منافی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ایران اور سعودی عرب عالم اسلام کو تقسیم نہ کریں۔ امت مسلمہ پہلے ہی فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ اب عرب اور فارس کی تقسیم بھی نقصا ن دہ ہوگی۔قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ تنازع یمن کے حل کے لئے سابق یمنی صدر علی صالح کا فارمولا قابل عمل نظر آتا ہے۔ اسے تسلیم کرکے فریقین مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرکے سیاسی ڈھانچے پر بات چیت کریں۔سعودی عرب اور یمن کے سیاسی گروہوں کو چاہیے کہ آپس کے مذاکرات سے مسئلے کا پرامن حل نکالیں۔ تاکہ خطے میں خوشحالی اور ترقی لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یمن پر مسلسل بمباری جاری رہی تو وسائل اور اسلحہ رکھنے کے باوجود سعودی عرب کا یمن میں حشر وہی ہوگا جو روس کا افغانستان اور امریکہ کا ویتنام میں ہوا تھا۔ اسلامی یکجہتی کونسل کے چیرمین نے افسوس کا اظہار کیا کہ ابھی تک یمن کی جنگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ کیونکہ امت مسلمہ کے اتحاد کا شیرازہ بکھیرنے والے خوش ہیں اس لئے فریقین کی طرف سے سیاسی بلوغت کا اظہار بہت ضروری ہے۔ جس کے لئے علی صالح کے فارمولے پر عملدرآمد کرکے آئندہ نسلوں کو آگ اور خون سے بچا کر امن کے راستے پر لایا جاسکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1