ماڈل ریان علی کی خوبصورتی، نظام کی بدصورتی

ماڈل ریان علی کی خوبصورتی، نظام کی بدصورتی
ماڈل ریان علی کی خوبصورتی، نظام کی بدصورتی

  

مَیں ملتان کچہری میں اپنے دوست وکلاء وسیم شہاب اور سلیم اللہ آرائیں سے ملنے گیا۔ راستے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت پر نظر پڑی، جہاں مَیں نے لیڈی پولیس کے ہمراہ خواتین قیدیوں کو دیکھا۔ دو نے اپنے معصوم بچے اُٹھائے ہوئے تھے، باقی چار انتہائی بُری حالت میں کھڑی تھیں۔ کپڑے میلے کچیلے، چہروں پر خوف اور ملامت کے ساتھ ساتھ گرمی اور غربت کے آثار، پاؤں میں گِھسی ہوئی چپلیں، یعنی پنجابی محاورے کے مطابق اُن کی حالت ’’بُرے حال باونکے دہاڑے‘‘ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ خیر میرے لئے یہ کوئی نیا منظر نہیں تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ایک بار مَیں نے وویمن جیل کا دورہ کیا تھا۔ ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میرے دوست تھے۔ ایک روز وہ معمول کے دورے پر گئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ مَیں نے وہاں خواتین قیدیوں کی جو حالتِ دیکھی، کئی روز تک اُس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار رہا۔ انتہائی گرمی میں تندور نما کمروں کے اندر وہ بند تھیں، مُنہ دھونے کے لئے شاید انہیں پانی بھی روزانہ نہیں ملتا تھا، اس لئے اُن کے چہروں پر میل کی چادر صاف نظر آتی تھی، مَیں نے اپنے دوست جج صاحب سے پوچھا کہ آپ کے دورے کا مقصد کیا ہے اور اس کا اِن مظلوم قیدیوں کو کیا فائدہ پہنچے گا، تو انہوں نے کہا جیل والوں کے لئے یہ دورے معمول کی بات ہوتی ہے۔ کوئی قیدی ان کی موجودگی میں زبان نہیں کھولتا، کیونکہ بعد میں وہ انہی کے رحم وکرم پر ہوتا ہے، اس لئے کوئی بہتری نہیں آنے والی، بس یہ ایک ڈیوٹی ہے جو ہم کرتے ہیں۔

مَیں اپنے دوست وکلاء کے چیمبر میں پہنچا تو وسیم شہاب اخبار پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو بغیر سلام دعا کے اخبار کا وہ صفحہ میرے سامنے رکھ دیا، جس میں ریان علی کی تصویر اور خبر چھپی ہوئی تھی۔اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ریان علی جیل میں ہے وہ پاکستان کے عدالتی اور پولیس نظام کا بیڑہ غرق کرتی رہے گی، آپ ایک کالم لکھ کر حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کو مشورہ دیں کہ وہ جلد سے جلد ریان علی کو رہا کر کے اس عذاب سے اپنی جان چھڑا لیں۔ مَیں نے حیرانی سے اُن کی طرف دیکھا کہ ان جیسا سنجیدہ آدمی آج ایسا مذاق، بھونڈہ مذاق کیوں کر رہا ہے،لیکن وہ بالکل سنجیدہ نظر آئے۔ مَیں نے پوچھا آپ کو کون سی بات عجیب لگتی ہے، جس کی وجہ سے آپ ایسا کہہ رہے ہیں، اس بار وہ مجھ پر برس پڑے۔ کہنے لگے آپ ایک کالم نگار ہیں، خود کو دانشور بھی کہتے ہیں کیا آپ کوکوئی ایسی انہونی نظر نہیں آ رہی۔ اتنے میں سلیم اللہ آرائیں ایڈووکیٹ بھی آ گئے، حالات کو سنجیدہ دیکھ کر وہ چونکے، جب انہیں بات کا علم ہوا تو وہ بھی وسیم شہاب کی طرف داری کرنے لگے۔ وسیم شہاب نے کہا: ’’ریان علی کے ساتھ جو کچھ ہمارا قانون کر رہا ہے، کیا ایسا تمام قیدی خواتین کے ساتھ کیا جاتا ہے، کبھی آپ نے عام قیدی خواتین کو دیکھا ہے، جب انہیں پیشی پر لایا جاتا ہے، تو اُن کی حالت کیا ہوتی ہے۔ مَیں نے کہا ہاں، مَیں ابھی اس کا مشاہدہ کر کے آ رہا ہوں۔ یہ ماڈل ریان علی جب پیشی پر آتی ہے تو کہیں سے لگتا ہے کہ وہ انہی جیلوں سے آ رہی ہے، جہاں باقی ہزاروں خواتین کسمپرسی کے عالم میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہیں، اس بار سلیم اللہ نے پوچھا، مَیں تھوڑا سا لاجواب ہو گیا۔’’آپ مان جائیں کہ ماڈل ریان علی کیس کے ذریعے یہ پورا نظام ایکسپوز ہو رہا ہے۔ پورے معاشرے کا بدنما چہرہ سامنے آ رہا ہے۔ عام قیدی عورتیں جب پیشی پر آتی ہیں، تو ان کی بُری حالت کی وجہ سے کوئی انہیں دیکھتا تک نہیں، لیکن ماڈل ریان علی پیشی پر آتی ہے، تو بڑے بڑے آنکھ جھپکنا بھول جاتے ہیں۔ جج صاحب بھی پوچھتے ہیں کہ اسے جیل میں کوئی مسئلہ تو درپیش نہیں، اگر وہ کہے کہ سکن پرابلم ہے، تو فوراً ڈاکٹر کو حکم جاری ہوتا ہے کہ اس کا علاج کیا جائے‘‘۔ وسیم شہاب اپنے جلال و جمال کے ساتھ بولے جا رہے تھے۔ مَیں نے درمیان میں ٹوکا ’’یہ تو جج صاحب کی اچھی بات ہے کہ وہ قیدی کی حالت کا خیال رکھتے ہیں‘‘۔

یہ سُن کر وسیم شہاب اور سلیم اللہ آرائیں ایڈووکیٹ دونوں ہی مزید جلال میں آ گئے۔ سلیم اللہ بولے: ’’یہاں روزانہ سینکڑوں قیدی عورتیں پیشی پر لائی جاتی ہیں، کبھی کوئی جج اُن سے نہیں پوچھتا کہ ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ جیل حکام کے خوف کی وجہ سے وہ جج صاحب کے سامنے بھی زبان نہیں کھولتیں، ان کی حالتِ زار اُن کا چیخ چیخ کر اظہار کر رہی ہوتی ہے، مگر جج صاحبان اُن پر اس طرح توجہ نہیں فرماتے، جس طرح توجہ کے قابل ریان علی کو سمجھا جاتا ہے۔ قانون دان ہوتے ہوئے ہمیں تو اس سارے منظر نامے کو دیکھ کر شرم آ رہی ہے۔ قانون کس طرح خوبصورتی اور بدصورتی کے خانوں میں تقسیم ہو چکا ہے، اس کا پتہ لگانا ہو تو صرف ریان علی کی پیشی اور باقی قیدی خواتین کی پیشی کو سامنے رکھ کر بآسانی لگایا جا سکتا ہے‘‘۔ سچی بات ہے اِن دوستوں سے اچھی خاصی مغز ماری کے بعد مَیں گھر آ گیا، لیکن اُن کے تیر نما جملوں کی کاٹ سے باہر نہ نکل سکا۔ ایک زمانے میں پاکستانی فلموں پر یہ تنقید کی جا تی تھی کہ ان میں قانون شکنوں کو اس قدر پُرکشش بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ نئی نسل بھی ان جیسا بننا چاہتی ہے۔ یہ تو خیر فلم کی باتیں تھیں اور ان کا ہدف مولا جٹ اور نوری نت ٹائپ کردار تھے، مگر اب جیتی جاگتی زندگی میں ہم سب ایک قانون شکن ماڈل کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ جب پہلی بار پیشی پر آئی تھی تو برقع پہن رکھا تھا، لیکن بعد میں اسے نجانے کس نے اور کیسے اتنی سہولتیں فراہم کیں کہ وہ اب ایک ماڈل کی طرح جو ریمپ پر کیٹ واک کرنے آتی ہے، پولیس گارڈ کے جلو میں نمودار ہوتی ہے۔ ہر بار اس کے فیشن کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ پاکستان میں نجانے وہ کون سی جیل ہے، جہاں ایک اعلیٰ درجے کے بیوٹی پارلر کی سہولتیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں، وگرنہ تو خواتین کی جیلیں عبرت کی جا ہیں، جہاں کنگھی اور شیشہ بھی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔

یہ کوئی آج کی بات نہیں کہ ہمارے ہاں قانون کے دو خانے ہیں۔ ایک امرا کے لئے دوسرا غریبوں کے لئے۔ ماڈل ریان علی کو کروڑوں روپے دے کر بیرون مُلک بار بار بھیجنے والے پورے عدالتی اور قانونی نظام کا تمسخر اُڑا رہے ہیں۔ اُن کی آشیر باد سے ماڈل گرل جیل میں بھی شاہانہ انداز سے رہ رہی ہے۔ وہ پیشی پر پرنسس آف ویلز کی طرح آتی ہے۔ اتنی شہرت تو اسے زندگی بھر ماڈلنگ کرنے کے بعد نہیں ملی جتنی گرفتار ہونے کے بعد ملی ہے۔ انہی جیلوں میں معمولی مقدمات میں گرفتار خواتین کی حالت زار دیدنی ہے۔ انہیں عدالتوں میں بھی بھیڑ بکریوں کی طرح پولیس وین میں بھر کے لایا جاتا ہے۔ ایک ماڈل گرل کا چالان پیش کرانے کے لئے کس قدر تیزی دکھائی جا رہی ہے۔ کوئی اللہ کا بندہ یہ بھی دیکھے کہ کتنی خواتین جیلوں میں بند ہیں، جن کے چالان پیش ہوتے ہیں اور نہ ضمانتیں ہو پاتی ہیں، جن کے پاس مہنگے وکیلوں کو دینے کے لئے پیسے ہیں اور نہ انہیں عدالتوں میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے، جیسے ماڈل ریان علی کو پیش کیا جا رہا ہے۔ آج نہیں تو کل ریان علی رہا ہو جائے گی، اس کے خلاف چالان میں اتنے سقم چھوڑ دیئے جائیں گے کہ وہ سب کچھ ثابت ہونے کے باوجود بریت کے پروانے کی حق دار ٹھہرے گی، تو پھر اس قدر گرد اڑانے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنے اُس نظام کو بے نقاب کریں، جو ظلم و جبر کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ کیوں اس تلخ حقیقت کو سامنے آنے دیں کہ یہاں قانون کی اپنی کوئی شکل نہیں وہ بندہ دیکھ کر اپنی صورت تبدیل کر لیتا ہے۔ بہتر ہے کہ اس پر پردہ پڑا رہے۔ ماڈل ریان علی کی ہر پیشی پر اُس کی بڑھتی ہوئی خوبصورتی اس نظام کی بد صورتیوں کو بُری طرح بے نقاب کر رہی ہے۔ حیرت ہے کہ ابھی تک اس استحصالی اور جابرانہ نظام کے رکھوالوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوا، ریان علی ابھی تک رہا نہیں ہوئی!

مزید : کالم