کسی کو بیرون ملک جانے سے سیاسی بنیادوں پر نہیں روکا جائیگا ،مسودہ قانون تیار

کسی کو بیرون ملک جانے سے سیاسی بنیادوں پر نہیں روکا جائیگا ،مسودہ قانون تیار

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ نے کچھ نئی پالیسیاں بنائی ہیں اب کسی کا بھی نام سیاسی بنیاد پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ 25 سال سے کم عمر کو اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا جبکہ بلٹ پروف گاڑیاں بھی لائسنس کے تحت جاری کی جائیں گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزارت داخلہ نے نئی پالیسیاں بنائی ہیں اور پاکستان میں ای سی ایل میں نام ڈالنے کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساڑھے 7 ہزار شہریوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے جبکہ کچھ نام گزشتہ 30 سال سے ای سی ایل میں ہیں۔ نئی پالیسیوں کا ڈرافٹ تیار ہے اور پالیسیوں کو مسودہ شکل دینے کے لیے صوبوں سے مشاورت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی کی آمد و رفت محدود کر دینا مذاق نہیں ہے اس لیے بطور وزیر داخلہ انہوں نے سیاسی بنیادوں پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نام نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ریکارڈ دیکھا ہے اور اس ریکارڈ میں ایک شخص کا نام 1988 ء سے ای سی ایل میں شامل تھا۔ یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں ہے ،ہر کام قانون اور آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ نئی پالیسیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کے مطابق کسی بھی شخص کا نام 3 سال سے زائد عرصہ کے لیے ای سی ایل میں نہیں رکھا جائے گا اور سیاسی بنیادوں پر بھی کسی نام کو اس لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف اعلیٰ عدلیہ اور حساس اداروں کے کہنے پر ہی کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے گا۔اسلحہ لائسنس کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے اسلحہ لائسنس کا قانون ایک ماہ تک بنا لیں گے جس میں لائسنس اجراء کرنے کے لیے 3 چیزوں کو مد نظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کا چارج سنبھالتے ہی انہوں نے نئے لائسنس کے اجراء پر پابندی لگائی ہے اور قانون بنایا ہے کہ نیا لائسنس جاری نہ کیا جائے۔ 3 صوبے اس قانون سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ پابندی صرف پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت 25 سال سے کم عمر افراد کو اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا اور ممنوعہ ہتھیاروں کا لائسنس صرف شدید خطرات لاحق ہونے کی صورت میں جاری کیا جائے گا جس کا ثبوت جمع کروانا ضروری ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوقیہ طور پر کسی بھی شہری کو لائسنس رکھنے اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سال کے آخر تک تمام افراد اپنے لائسنس کمپیوٹرائزڈ کروا لیں کیونکہ 31 دسمبر کے بعد تمام لائسنس منسوخ کر دئیے جائیں گے۔ بلٹ پروف گاڑیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں رکھنا فیشن بن چکا ہے لیکن اب ان گاڑیوں کا اجراء بھی لائسنس کے تحت کیا جائے گا۔ ان گاڑیوں کا مرکزی ڈیٹا ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے بھی قانون متعارف کروایا جا رہا ہے۔چودھری نثار علی خان نے کہا پچھلے چند دنوں سے کہا جا رہا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا پر پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کسی پر دباؤنہیں ڈالا۔ نادرا کی رپورٹ میں کوئی خامی ہے تو سامنے لائی جائے۔ الیکشن ٹریبونلز کے باہر تماشے لگائے جا رہے ہیں۔ این اے 122 میں 93 ہزار ووٹوں کو جعلی کہنے والے خدا کا خوف کریں، جن ووٹوں کی شناخت نہیں ہوئی وہ جعلی نہیں ہیں۔ شناخت اس لئے نہیں ہوئی کہ کاغذ یا سیاہی ٹھیک نہیں تھی۔ مجھے اس تماشے کی سمجھ نہیں آتی، ٹریبونل کے ججز تماشا لگنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟۔ ہر کوئی اپنا موقف میڈیا پردے رہا ہے۔ الیکشن ٹریبونل کے ججز سب کو شٹ اپ کال کیوں نہیں دیتے۔ ٹریبونل ہو یا اعلی عدالتیں تمام سٹیک ہولڈرز کی زبان بندی کرائیں۔ ایم کیو ایم کے مقتول رہنماء عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے بات کرتے انہوں نے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ مکمل اور میرے پاس ہے۔ آئندہ ایک دو دن میں اس حوالے سے پیش رفت ہوگی۔ اس کیس میں ہونے والی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ رکھوں گا۔

مزید : صفحہ اول