کراچی کے شہریوں کی قربانیاں ، پولیس کی شہادتیں ضائع نہیں جانے دیں گے،اکبر گجر

کراچی کے شہریوں کی قربانیاں ، پولیس کی شہادتیں ضائع نہیں جانے دیں گے،اکبر گجر

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے شہر قائد میں پولیس اہلکاروں، ڈاکٹراور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی قربانیاں اور پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ضائع نہیں جانے دی جائیں گی.کراچی کے لئے امن کو مزید توجہ کی ضرورت ہے. کراچی میں امن و امان کا مسئلہ دوبارہ سراٹھا رہا ہے. فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوششوں پر قابو نہ پایا گیا تو صوبائی حکومت کی حکمرانی کا جواز سوالیہ نشان بن جائے گا. پولیس افسران کی تارگٹ کلنگ کے واقعات کراچی آپریشن کے خلاف دہشت گرد گروہوں کا رد عمل بھی ہو سکتا ہے. پاکستان مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت سندھ کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے اور ہم کسی صورت کراچی میں بدامنی کا فروغ نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کہا ہے کہ حالات و واقعات سے ایسا لگ رہا ہے کہ سندھ حکومت کی تمام تر توجہ بدین پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے. سندھ پولیس کی بھاری نفری کی بدین میں تعیناتی اور صوبائی حکام کی تمام تر کوششیں حکمران پارٹی کے ناراض اراکین پر ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کو کراچی میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کا موقع مل گیا ہے۔

. پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کی قیادت اور کارکنان کراچی میں پولیس اہلکاروں کی تارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسردہ ہیں اور صوبائی حکومت سے اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ کراچی کے امن کے لئے سنجیدگی کامظاہرہ کرے گی اور پولیس سمیت تمام قانون نافڈ کرنے والے اداروں کو سیاسی ذمہ داریوں پر مامور کرنے کی بجائے امن و امان کی مستقبل بحالی کے لئے فری ہینڈ دے گی. کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے. شہر میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوششیں بھی نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ سندھ کے حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہیں کراچی میں فرقہ واریت کے واقعات صوبائی حکومت کے حق حکمرانی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں. علی اکبر گجر نے کہا کہ سندھ کے حالات سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ صوبے میں کہیں کوئی حکومت اپنا وجود نہیں رکھتی. سندھ کے عوام کے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں اوع عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے سندھ کی حکمران جماعت اور صوبائی حکومت نے اپنے طرز حکمرانی میں تبدیلی نہ کی تو سندھ کسی بڑے سیاسی طوفان کا شکا ر ہو سکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4