این اے 125،سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کافیصلہ معطل کردیا، ریکارڈ طلب

این اے 125،سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کافیصلہ معطل کردیا، ریکارڈ طلب
این اے 125،سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کافیصلہ معطل کردیا، ریکارڈ طلب

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے این اے 125اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 155میں مبینہ دھاندلیوں سے متعلق الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل کردیا۔جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل کی سماعت کی ۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری حکم میں الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انتخابات کا تمام ریکارڈطلب کرلیااور مزید سماعت چارہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔

درخواست گزار نے موقف اپنایاکہ اُن پر کسی قسم کا الزام نہیں لگایاگیا، الیکشن کمیشن کے عملے کی بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئیں ، پولنگ عملے کی سزااُنہیں اور ووٹرز کو کیوں دی جارہی ہے ؟ اگر پولنگ عملے کی کوتاہیوں کی سزاامیدواران یا ووٹرز کو ملناشروع ہوگئی توپھر کوئی بھی رکن اپنی نشست پر نہیں رہ سکے گا۔

درخواست میں الیکشن کمیشن ، نادرا ، حامد خان اور دیگرمتعلقہ اداروں کو فریق بنایاگیاتھا۔ فیصلہ معطل ہونے کے بعد خواجہ سعد رفیق کو عبوری ریلیف مل گیاہے اور وہ عارضی طورپر رکن تصور ہوں گے ۔

واضح رہے کہ الیکشن ٹربیونل نے حلقے میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر60روزمیں دوبارہ الیکشن کا حکم دیاتھا، اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کامیاب قرارپائے تھے جس پر پی ٹی آئی کے حامد خان نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کامیابی کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیاتھا۔ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے خواجہ سعد رفیق کی اسمبلی رکنیت بھی ختم کردی جس کے بعد خواجہ سعد رفیق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

مزید : قومی /Headlines