کم عمری کی بناءپر کسی کو پڑھنے سے نہیں روکا جاسکتا ،ہائی کورٹ نے کم عمر طالبہ کی رجسٹریشن کا حکم دے دیا

کم عمری کی بناءپر کسی کو پڑھنے سے نہیں روکا جاسکتا ،ہائی کورٹ نے کم عمر طالبہ ...
کم عمری کی بناءپر کسی کو پڑھنے سے نہیں روکا جاسکتا ،ہائی کورٹ نے کم عمر طالبہ کی رجسٹریشن کا حکم دے دیا

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے کم عمری کی بناءپرنویں جماعت میں داخلہ نہ دینے پر قرار دیا ہے کہ اگر کوئی بچہ پڑھتا ہے تو محکمہ اسے کس قانون کے تحت آگے بڑھنے سے روک رہا ہے، بادی النظر میں کم عمری کی بنیاد پر کسی کو پڑھنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔عدالت نے طالبہ کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم دیتے ہوئے 25مئی کو چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ایجوکیشن سے جواب طلب کر لیا ۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ عبوری حکم سیدہ غزل گیلانی کی درخواست پر جاری کیا ، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی عمر 11سال سے زائد لیکن 12سال سے کم ہے، لاہور ثانوی تعلیمی بورڈ درخواست گزار طالبہ کو نویں جماعت کے لئے کم عمر ہونے کی بنیاد پر رجسٹرڈ نہیں کر رہا، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 25(اے) کے تحت ہر شہری کو تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،محکمہ ایجوکیشن کو کم عمر طالبہ کی رجسٹریشن کرنے اور نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم دیا جائے، عدالت نے کم عمری کی بناءنویں جماعت میں داخلہ نہ دینے پر قرار دیا ہے کہ اگر کوئی بچہ پڑھتا ہے تو محکمہ اسے کس قانون کے تحت آگے بڑھنے سے روک رہا ہے، عدالت نے طالبہ کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم دیتے ہوئے 25مئی کو چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ایجوکیشن سے جواب طلب کر لیا ۔

مزید : لاہور