امریکی یونیورسٹی میں تعلیم کے نا م پر طالبات کو شرمنا ک کا م پر مجبور کیا جانے لگا ،والدین سراپا احتجاج

امریکی یونیورسٹی میں تعلیم کے نا م پر طالبات کو شرمنا ک کا م پر مجبور کیا جانے ...
امریکی یونیورسٹی میں تعلیم کے نا م پر طالبات کو شرمنا ک کا م پر مجبور کیا جانے لگا ،والدین سراپا احتجاج

  

سان ڈیاگو (نیوز ڈیسک) امریکہ کی مشہور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے ایک پروفیسر نے آرٹ کی تعلیم کے نام پر اپنی شیطانی خواہشات پوری کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس پر بالآخر طالبات کے والدین سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔

مقامی ٹی وی "KGTV" کے مطابق یونیورسٹی کے شعبہ بصری آرٹ کے استاد پروفیسر ریکارڈو ڈومنگیز ایک خاص کورس پڑھاتے ہیں جس کا فائنل امتحان پاس کرنے کے لئے سٹوڈنٹس کو مکمل طور پر برہنہ ہوکر پرفارم کرنا پڑتا ہے۔ بصری شعبہ کی ایک طالبہ کی والدہ نے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جب پروفیسر کے اس مطالبے کا علم ہوا تو وہ دنگ رہ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر تعلیم کے نام پر طالبات کو ہراساں کررہا ہے۔

مزیدپڑھیں:مرغا نہ رہا تو بیگم کی ضرورت نہیں ،عرب شوہر نے بیوی کو طلاق دیدی

 دوسری جانب پروفیسر ریکارڈو کا کہنا ہے کہ وہ 11سال سے یہ کورس پڑھارہے ہیں اور انہیں آج تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کورس کا مقصد انسان کے ایروٹک پہلو کو آرٹ کی شکل میں ابھارنا اور پیش کرنا ہے اور سٹوڈنٹس کو یہ اختیار ہے کہ وہ یہ کورس لیں یا نہ لیں۔ اس کورس میں شمولیت کرنے والے متعدد طلبا وطالبات نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ فائنل امتحان پاس کرنے کے لئے جسمانی برہنگی کی بجائے جذباتی یا تخیلاتی برہنگی کا مظاہرہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن عام طور پر سٹوڈنٹس جسمانی برہنگی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی سٹوڈنٹ کو برہنگی اتنی ہی ناپسند ہے تو وہ اس کورس میں داخلہ ہی کیوں لیتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس