شادی کیلئے بہترین ہمسفر کی تلاش، بھارتی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر جسم کے ایک ایسے حصے کا آپریشن کروانے کا شوق چڑھ گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

شادی کیلئے بہترین ہمسفر کی تلاش، بھارتی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر جسم کے ...
شادی کیلئے بہترین ہمسفر کی تلاش، بھارتی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر جسم کے ایک ایسے حصے کا آپریشن کروانے کا شوق چڑھ گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) لڑکوں اور لڑکیوں کو اچھے شریک حیات کی تلاش تو ہوتی ہی ہے، اور اس کے لیے وہ اپنی وضع قطع کی تراش خراش تو کر سکتے ہیں مگر قد ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ قد چھوٹا ہو تو اچھا رشتہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی لڑکوں اور لڑکیوں نے اچھے رشتے پانے کے لیے اپنی ٹانگوں کا آپریشن کروا کر اپنا قد لمبا کرنا شروع کر دیا ہے۔

زمانہ جہالت کی یاد تازہ ہوگئی، سیاستدان اور کیمروں کے سامنے نوجوان لڑکی کو شرمناک حرکت پر مجبور کردیا گیا

بھارتی ریاست راجستھان کے شہر کوٹا(Kota) میں امر سرین نامی ایک ہڈیوں کے ڈاکٹر نے کلینک بنا رکھا ہے جو لڑکوں اور لڑکیوں کو قد لمبا کرنے کی سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ 24سالہ لڑکی کومل بھی اس سے استفادہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ کومل اپنے گھروالوں کو بتائے بغیر ڈاکٹر امر کے پاس گئی اور 6ماہ تک اس کے کلینک پر ہی رہی۔ ڈاکٹر نے اس کی ٹانگوں کا آپریشن کرکے اس کے قد میں 3انچ کا اضافہ کر دیا۔ اس دوران کومل کے گھر والوں کو قطعاً علم نہیں تھا کہ ان کی بیٹی کہاں گئی۔کومل کا کہنا ہے کہ ”میرا قد صرف 4فٹ 6انچ تھا۔ لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے۔ پست قامت ہونے کی وجہ سے مجھے نوکری حاصل کرنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی اور کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ اب میں اپنے قد سے مطمئن ہوں۔ اب میری چھوٹی بہن بھی قد بڑا کرنے کے لیے ڈاکٹر امر کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔“

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر امر کے ساتھ ساتھ بھارت میں کئی دیگر ہڈیوں کے ڈاکٹر بھی یہ کام کر رہے ہیں، مگر اعضاءکی سرجری کرکے قد بڑھانے کا یہ کام بھارت میں انتہائی غیرمنظم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کئی ناتجربہ کار ڈاکٹر بھی یہ کام کر رہے ہیں جس سے لڑکوں اور لڑکیوں کے معذور ہونے کا خدشہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر امر سرین کا کہنا ہے کہ ”کاسمیٹک سرجری کی تمام اقسام میں یہ سرجری سب سے مشکل ہے ۔ بھارت میں اس کی تربیت دینے کے لیے کوئی مخصوص کالج بھی موجود نہیں ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...