انرجی ڈرنک پیتے ہی آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جواب ایسا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا

انرجی ڈرنک پیتے ہی آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جواب ایسا جو کسی نے سوچا ...
انرجی ڈرنک پیتے ہی آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ جواب ایسا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لوگ توانائی کے حصول کے لیے ریڈ بل جیسے انرجی ڈرنکس پیتے ہیں لیکن اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ انرجی ڈرنک کا ایک کین ان کے جسم میں کیسی خطرناک تبدیلیاں لاتا ہے تو یقینا یہ اس سے تائب ہو جائیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ایروین جانسن نامی ایک ماہر نے انرجی ڈرنکس کے صحت پر مرتب ہونے والے خطرناک اثرات بے نقاب کیے ہیں۔ اپنی رپورٹ میں ایروین نے لکھا ہے کہ ”انرجی ڈرنک کا ایک کین پینے کے 10منٹ بعد اس میں موجود کیفین (Caffeine) خون کے بہاﺅ میں جذب ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر انتہائی تیز ہو جاتے ہیں۔ کیفین نشہ آور چیزوں کے سے خواص رکھتی ہے اس لیے لوگ بتدریج اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور طلب آہستہ آہستہ بڑھنے پر وہ زیادہ انرجی ڈرنکس پینے لگتے ہیں۔کیفین دل اور گردوں کے لیے انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔ انرجی ڈرنک پینے کے 15سے 45منٹ کے درمیان صارف اپنے جسم میں ایک توانائی کی لہر محسوس کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہی کیفین ہوتی ہے کیونکہ یہ انسانی بدن کو تحریک دیتی ہے۔ڈرنک پینے کے 30سے 50منٹ کے درمیان جسم اس میں موجود کیفین مکمل طور پر جذب کر لیتا ہے ۔ اس دوران صارف کا جگر چینی کی اضافی مقدار بھی جذب کرتا ہے، اس کی ذمہ دار بھی کیفین ہی ہے۔اس سے خون میں گلوکوز کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور جسم خود کو توانا محسوس کرتا ہے۔لیکن اگر صارف طویل عرصے تک اس عمل سے گزرتا رہے تو اس میں ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اس سے جسم کے درمیانی حصے میں چربی بھی جمع ہو جاتی ہے۔کین پینے کے1گھنٹے بعد جسم کا بلند ہونے والا شوگر لیول تیزی سے نیچے آتا ہے اور جسم ایک بار پھر پژمردگی کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس ایک گھنٹے میں جسم کے اندر جانے والی کیفین جسم جذب کرکے ختم کر چکا ہوتا ہے اور اسے مزید درکار ہوتی ہے۔“

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں رہنے والوں کی صحت پورے ملک سے اچھی ہے، راز کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

ایروین کی رپورٹ کے مطابق ”انرجی ڈرنک پینے کے 5سے 6گھنٹے بعد خون میں جذب ہونے والی کیفین کی مقدار 50فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ 12گھنٹے بعد کیفین خون سے مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔12سے 24گھنٹوں کے دوران باقاعدگی سے انرجی ڈرنک پینے والوں میں اس کی خواہش سراٹھاتی ہے اورانہیں سردرد، چڑچڑے پن اور قبض کی شکایت ہونے لگتی ہے۔انسان کے جگر کو ایک کین میں موجود کیفین کی مقدار سے مکمل چھٹکارہ پانے میں 12گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اس دوران وہ جسم سے دیگر فاسد و زہریلے مادے خارج کرنے پر توجہ نہیں دیتا اور وہ جسم میں ہی جمع ہوتے رہتے ہیں اور انجام کار آدمی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ایک کین پینے کے 7سے 12دن کے بعد جسم کسی طور اپنی اصل حالت میں واپس آتا ہے مگر اس سے پہلے ہی کیفین کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے جسم بے خوابی اور نقاہت و کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے اور صارف اس صورتحال سے نجات کے لیے ایک اور انرجی ڈرنک پی چکا ہوتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...