اسلامی بینکاری و مالیات کے فروغ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے

اسلامی بینکاری و مالیات کے فروغ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے

لاہور (کامرس رپورٹر)اسلامی بینکاری و مالیات کے فروغ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے جس کے بغیر وسیع پیمانے پر اسلامی بینکاری کا فروغ دشوار ہے ٹیکنالوجی کا استعمال صرف اسلامی بینکاری سے وابسطہ نہیں بلکہ اسلامی مالیات کی دیگر مصنوعات مثلاً تکافل،سکوک،اسلامی فنڈ،اسلامی مائیکرو فنانس و دیگر کو بھی اس کی شدت سے ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارمحمد زبیر مغل چیف ایگزیکٹوآفیسر الہدی مرکز برائے اسلامی بینکاری و اقتصادیات(CIBE) نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منعقد افریقہ کے پہلے بینکاری و مالیاتی ٹیکنالوجی سے وابستہ فورم میں کیا۔اس فورم میں 40ممالک سے زائد500سے زائدمندوبین نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ اسلامی مالیات و بینکاری کے آئی ٹی سسٹم بنانے سے پہلے اسلامی اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے تاکہ اسلامی بینکاری و مالیات سے وابسطہ تمام سسٹم اور سافٹ وےئر شریعہ کے اصولوں کے مطابق ہوں،بہت سے بینکاری و مالیات سے وابسطہ آئی ٹی سسٹم اور سوفٹ وےئرکی بین الاقوامی کمپنیوں کی مصنوعات شریعہ کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ہیں بلکہ بعد میں اس میں تبدیلی کی جاتی ہے اگر ایسے سسٹم بنانے سے پہلے ہی شریعہ کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تو بہت بہترین آئی ٹی سسٹم بنائے جا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری و مالیات بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اس کا کل حجم 2ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جس میں 400سے زائد اسلامی بینک،300تکافل کمپنیاں،900سے زائد سکوک،400اسلامی مالیات کے اداروں سمیت اسلامی لیزنگ ،مضاربہ کمپنیاں،اسلامی اسٹاک ایکسچینج سمیت دیگرادارے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں افریقہ اسلامی مالیات کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ثابت ہو گا جس میں مشرقی افریقہ میں کینیا،تنزانیہ اور مغربی افریقہ میں سینگال،موریطانیہ ،سریبیا اورنارتھ افریقہ میں ماراکش ،تیونسیہ کو اہم مقام حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اسلامی بینکاری و مالیات میں بہت سی آسانیاں آئی ہیں جس میں جدیدGatewy ,Paymentسسٹم تصدیق ,رقم کی ترسیل,ترسیلات زر,Crowd Funding,انگوٹھے کا نشان، Eye Scanningبرانچ لیس بینکاری،موبائل بینکنگسمیت دیگر جدید سہولیات میسر ہوئی ہیں جن سے مختلف ریگولیٹری و بین الاقوامی اصولوں کو آسانی کے ساتھ نافذکیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہآئی ٹی مالیاتی شمولیت کیلئے ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس کو غربت میں کمی کیلئے اسلامی مالیات کے ساتھ ملکر استعمال کیا جا سکتا ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 18%لوگوں کو مالیاتی و بینکاری نظام تک رسائی ہے جبکہ 82%لوگ روائیتی مالیاتی نظام سے قاصر ہیں جبکہ 97%با لغ افراد موبائل استعمال کرتے ہیں لہذا موبائل ٹیکنالوجی کو اسلامی مالیات کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے بنکاری برانچ لیس متعارف کروا دیں تو یہ بہت بڑا مالیاتی شمولیت کا سبب ہو گا۔

مزید : کامرس


loading...