ڈرامہ بچانے کے لئے فحش رقص ختم کرنا ضروری ہے

ڈرامہ بچانے کے لئے فحش رقص ختم کرنا ضروری ہے

لاہور(حسن عباس زیدی )حکومت کاسٹیج ڈراموں سے فحاشی اورعریانی کے خاتمہ کیلئے مانیٹرنگ ٹیم بنانے کا فیصلہ بہت خوش آئند تھا اوراس کو بہت سراہا گیا۔ سٹیج سے وابستہ فنکاروں اورپروڈیوسروں کے علاوہ فنون لطیفہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس فیصلے کو تھیٹرکی بہتری اوربحالی کیلئے حکومت کا احسن اقدام قراردے رہے تھے۔ سٹیج ڈراموں کی مانیٹرنگ کیلئے ڈی سی اوکے ماتحت اداروں کے اہلکاروں پرمشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ان ٹیموں میں سرکاری ملازمین شامل تھے لیکن کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جوفنون لطیفہ کے شعبوں کی نزاکت کوسمجھتا ہو۔ نہ توکسی کواداکاری پر مہارت تھی اورنہ ہی کوئی رقص سے آشنا تھا۔ نہ ہی کوئی ڈرامے کی اصل شکل کوسمجھتا تھا اورنہ ہی کسی کا لائیوتھیٹرسے کوئی تعارف تھا۔ اس کے باوجود مانیٹرنگ ٹیموں کوخوش آمدید کہا گیا۔ ٹیم میں شامل اہلکاروں نے تھیٹرکا رُخ کیا اور بیہودہ رقص کرنے والی اداکاراؤں اوررقاصاؤں کے ساتھ ساتھ فُحش گوئی کرنے والے فنکاروں کووارننگ نوٹس جاری کئے۔ جبکہ کچھ کو باقاعدہ بین بھی کیا گیا اوراس طرح سے سٹیج ڈراموں کے معیارمیں کچھ وقت کیلئے بہتری دکھائی دی۔ مگرایک بات جوسمجھ سے باہرتھی کہ اگر مانیٹرنگ ٹیم کے اہلکاروں نے کسی اداکارہ کوہال میں بیٹھے کسی شخص کو اشارہ کرنے پربین کیا تو وہ کیسے اگلے ہی روز دوبارہ تھیٹرمیں پرفارم کرتیدکھائی دیتی تھی ؟۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فنکاروں نے اپنی اصلاح کی خود ہی ٹھانی اورروز روز کی ملنے والی وارننگ سے جان چھڑانے کیلئے جہاں انہوں نے اپنے ملبوسات کوبہترکیا ، وہیں رقص اورجملوں کی ادائیگی پربھی خاص توجہ دی۔ یہی نہیں سٹیج ڈراموں کے پروڈیوسروں نے بھی اس حوالے سے خاصی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اسی لئے توسٹیج ڈراموں میں جو فحش گوئی اوربیہودہ رقص دس ، پندرہ برس پہلے دیکھنے کوملتا تھا آج ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں خاصی بہتری آچکی ہے۔

ایک بات جو قابلذکر ہے کہ اداکارائیں کون سا لباس پہنیں گی اورکس طرح کا رقص کریں گی، یہ ذمہ داری اب سٹیج ڈراموں کے ڈائریکٹراورڈانس ماسٹرکے پاس نہیں رہی بلکہ یہ ذمہ داری اب ڈراموں کو سنسرکرنے کیلئے آنے والی ٹیم کے اہلکاروں نے ’’سنبھال‘‘ لی ہے۔حالانکہ اس ٹیم میں شامل لوگوں کی اکثریت کو بھی فنون لطیفہ کی ’’ الف ب‘‘ کا کوئی علم نہیں ہے۔ مگریہ لوگ اپنی پسند کا گیت اوررقص دیکھنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتے۔ اسی لئے تو اداکاراؤں اور فنکاروں کو بین کرنا سراسرغلط ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اگرکوئی فنکارسنسرسرٹیفیکٹ ملنے کے بعد فخش گوئی اوربیہودہ رقص کرتا ہے تواس کی ذمہ داروہ ٹیم ہے جوسنسرکے وقت اصل کام کرنے کی بجائے ’’چائے ، بوتل ،بکسٹ، پیزا ‘‘ کے ساتھ ساتھ اپنے پسند کے گیتوں پررقص دیکھ کر لطف اندوز ہورہی ہوتی ہے۔ ’’واضح رہے کہ ڈرامے کے سنسر کے موقع پرپروڈیوسرکوخاص ہدایت بھی کی جاتی ہے کہ میڈیا کواس موقع پرہم سے دور رکھا جائے‘‘۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کوئی اداکارہ یا اداکارسنسراورمانیٹرنگ ٹیم کو ان کی اصل ذمہ داری سے آگاہ کرتا ہے تواس کوٹارگٹ کر کے بین کیا جاتا ہے۔ پھر چاہے وہ اداکارہ یا اداکار مانیٹرنگ ٹیم کوویڈیودکھائے یا کوئی دوسرا ثبوت بھی پیش کردے ، اس کوسزا ضرور ملتی ہے۔ ماضی میں اورآج بھی اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اس وقت سٹیج سے وابستہ فنکاراورپروڈیوسر تواپنا قبلہ درست کرنا چاہتے ہیں لیکن سنسر اورمانیٹرنگ ٹیم کے اہلکاروں کے روزانہ مفت ڈرامہ دیکھنے والے مہمانوں کو خوش کرنے کیلئے ہلکی پھلکی شرارت تواب معمول ہے۔ اس صورتحال میں تھیٹرکے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ سٹیج فنکاروں کی سوچ اورکام میں بہت تبدیلی آچکی ہے، اب اگرتبدیلی لانی ہے توہمیں سنسراورمانیٹرنگ ٹیم میں لانی ہوگی۔ اگرواقعی حکومت تھیٹرکی بہتری کیلئے کوئی اقدام کرنا چاہتی ہے تو سنسراورمانیٹرنگ ٹیموں میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جائے جوفنون لطیفہ سے وابستہ ہوں ، اس کے بنا تھیٹرکی بہتری کاخواب دیکھنافضول ہے۔ فلم اور ٹیلی ویژن کے بعد پاکستان میں تھیٹر تفریح کا مقبول ذریعہ ہے جہاں شائقین کو روزانہ فنکاروں کی براہ راست پرفارمنس دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کسی زمانے میں سٹیج ڈراموں میں ڈانس نہیں ہوتا لیکن جب ڈانس کی اجازت ملی تو تھیٹر کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ شائقین کو کامیڈی کے ساتھ ساتھ اپنی من پسند اداکاراؤں کے ڈانس بھی دیکھنے کو ملتے تھے۔ اس دور کی بیشتر اداکاراؤں نے رقص کی آزادی کا غلط فائدہ اٹھانا شروع کیا تو تھیٹر پر فحاشی کا آغاز ہوا۔ایسے ڈراموں میں فنکاروں کی پرفارمنس کو کم اور ڈانسز زیادہ ہوتے تھے۔ کئی اداکارائیں تو صرف ڈانس کرنے کیلئے ہی ڈرامے میں شامل ہوتی تھیں۔ کئی تھیٹروں پر اداکاراؤں کے درمیان ڈانس مقابلے بھی ہوتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جبفحش گانوں اور نازیباڈانس کی وجہ سے ڈرامے کاسٹیج فحاشی کا گڑھ بن گیا تو حکومت کو اسے کنٹرول کرنے کا خیال آیا جس کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائی گئیں۔ مانیٹرنگ ٹیموں میں اگرچہ زیادہ تر لوگ سرکاری ہی تھے کیونکہ اس میں نہ تو کسی فنکار کو اور نہ ہی فنون طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی اور سینئر شخص کو شامل کیا گیا۔ چونکہ ان کے پاس لامحدود اختیارات تھے لہٰذا ان کی بدولت ایک مرتبہ تھیٹر سے مکمل طور پر فحاشی کا خاتمہ کردیا گیا۔ کسی بھی اداکارہ کو گندے گانے اور بے ہودہ ڈانس کی اجازت نہیں تھی۔ بہت سے فنکاروں کو بین بھی کیا گیا۔ لیکن جب سے مانیٹرنگ ہورہی ہے فنکاروں نے ہمیشہ مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے جنہیں دور نہیں کیا گیا۔ پچھلے ایک دو سالوں سے فنکاروں اور مانیٹرنگ ٹیموں کے درمیان ایک بار پھر کشمکش جاری ہے کیونکہ جیسے ہی کسی فنکار کو بین کیا جاتا ہے یا اسے وارننگ دی جاتی ہے تو وہ اپنے دفاع میں بہت کچھ کہہ جاتا ہے بعض اوقات اداکاراؤں کی طرف سے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔ بہت سے بااثر فنکار ایسے بھی ہیں جو فوری طور پر پابندی بھی ختم کرالیتے ہیں۔ دوسری طرف مانیٹرنگ ٹیموں کے اہلکار بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ پہلے ایک چیز سنسر کرلیتے ہیں اور بعد میں اسی پر اعتراض لگا دیاجاتا ہے۔ خاص طور پر سنسر ریہرسل کے وقت ان اہلکاروں کی کارکردگی قابل دید ہوتی ہے جہاں ان سے اکثر لوگ اپنے بہت سے غیر متعلقہ دوستوں کے ہمراہ بیٹے اداکاراؤں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے انہیں مختلف قسم کی ہدایات دے رہے ہوتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مانیٹرنگ ٹیمیں صرف ڈانس اور لڑکیوں کے ڈریسز کو ہی مانیٹر کرنی ہیں کبھی کسی تھیٹر میں پورا ڈرامہ نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی پورے ڈرامے کا سکرپٹ سنسر کیا گیا۔ البتہ سکرپٹ منظور ضرور ہوتا ہے لیکن بعد میں جب حقیقی ڈرامہ ہوتا ہے تو وہ اصل سکرپٹ سے بالکل ہی مختلف ہوتا ہے۔ حال ہی میں کئی اداکاراؤں کو مختلف وجوہات کی بنا پر بین کیا گیا۔ کسی پر ایک گانے کی پابندی تو کسی پر کوئی اور پابندی کی لگائی گئی۔ ’’پاکستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے تھیٹر سے وابستہ افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ پروڈیوسر ارشد چودھری نے کہا کہ مانیٹرنگ ٹیموں کی کارکردگی پر صرف انہی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے جو اپنی حدود سے باہر نکل کر کام کرتے ہیں۔ جو فنکار بھی ٹھیک کام کرے گا اسے مانیٹرنگ ٹیم کیوں تنگ کرے گی۔ فنکاروں کو چاہیے کہ وہ سنسر کے وقت اپنے ڈریسز ڈائیلاگ اور ڈانس کے بارے میں واضح کریں تاکہ بعد میں کسی کو اعتراض نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں اس وقت بہترین کام کررہی ہیں۔ اداکار طاہر انجم نے کہا کہ اگر مانیٹرنگ ٹیمیں نہ ہوں تو تھیٹر کوٹھے کا منظر پیش کرنے لگے کیونکہ مانیٹرنگ کی وجہ سے ہی منہ زور اداکاراؤں کو لگام ڈالی گئی ہے۔ ورنہ ماضی میں ڈانس کے نام پر جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے کون برداشت کرسکتا ہے۔ طاہر انجم نے کہا کہ حالیہ چند سالوں میں آنے والی بیشتر لڑکیاں اپنے نام کے ساتھ اداکارہ کا لیبل لگوانے کیلئے تھیٹر پر آتی ہیں۔ حقیقت میں تو ان سب کا کام کچھ اور ہے۔ ایسی ہی لڑکیوں نے تھیٹر کو بدنام کیا ہے۔

مزید : کلچر


loading...