ترقی کی جانب سفر

ترقی کی جانب سفر
 ترقی کی جانب سفر

  


ذہنی و جسمانی صلاحیتوں سے مالا مال افرادی قوت، قدرتی وسائل کی فراوانی، چاروں موسم اور جغرافیائی اہمیت رکھنے والی پاک سرزمین کے بسنے والے صد افسوس، ان عطا شدہ نعمتوں کے استعمال کا حق ادا کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جو کئی عشرے گزر جانے کے باوجود بے پناہ مسائل کا شکار ہیں۔ بہ نظر عمیق اگر ان مسائل، جن میں دہشت گردی، توانائی کا بحران، معاشی پسماندگی اور دیگر پیشتر شامل ہیں، کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہوگا۔دہشت گردی کی بنیادی وجوہ کا سراغ جمہوریت کی ناتوانی سے جا ملتا ہے۔ گر جمہوریت کا ننھا پودا بار بار جڑ سے اکھاڑا نہ جاتا تو آج اس کا تناور درخت برگ و ثمر سے آراستہ ہوتا اور عوام کے بنیادی مسائل خاصی حد تک حل ہو چکے ہوتے جمہوری حکومت کے قیام و دوام کے لئے عوامی حمایت بنیادی جزو ہے اس لئے حکومتیں عوامی فلاح و بہبود کے کارہائے نمایاں پر ہی توجہ مرکوز رکھتی ہیں۔ اس کے برعکس ایک آمر جو کہ عوامی نمائندہ کی نہ تو حیثیت رکھتا ہے نہ ہی اسے عوامی حمایت کی کوئی پروا ہوتی ہے اس لئے وہ منصب اقتدار پر بیٹھا ون مین شو کا ہیرو بنا رہتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ توانائی کا بحران معاشی پسماندگی اور دیگر مسائل بھی اسی ون مین شو کے آفٹر شاکس ہیں۔ پر ویزمشرف کے تقریباً ایک عشرے پر محیط دور نے ملکی مستقبل کو پس پشت ڈالا اور اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ملک توانائی کے سنگین بحران کا شکار ہے جس کے اثرات انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ یہ بحران پاکستانی معیشت کی زبوں حالی کی کلیدی وجہ ہے جس کی بناء پر نہ صرف ملکی صنعت مشکلات کا شکار ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری پر بھی یہ بحران کاری ضرب ثابت ہوا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے مد نظر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ توانائی کی پیداوار کے منصوبے بھی اسی رفتار سے چلائے جاتے لیکن گزشتہ حکومتوں کی نا اہلی نے ملک کو سنگین حالات سے دو چار کئے رکھا۔دہشت گردی کی طرح بیرونی سرمایہ کاری کی دگرگوں صورت حال ملک میں بے روز گاری اور دیگر معاشی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ ابتر امن عامہ اور توانائی کا بحران بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رہے اور ماضی قریب میں ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہی۔

دہشت گردی اور توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا سونے پر سہاگا منصبِ اقتدار پر فائز سابقہ حکومت بھی معاشی بحالی کے فرض سے نبرد آزما ہونے میں بری طرح ناکام رہی اور معاشی ڈھانچے کی کمر ٹوٹ گئی۔ ملکی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی عوامی مسائل کا بڑا حصہ تھی۔ملک کے تاریک پس منظر میں امید کی کچھ کرنیں پھوٹی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی بازگشت یہ نوید سناتی ہے کہ پاکستانی معیشت میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے بار ہا پاکستانی معیشت کی مثبت تبدیلی کی تصدیق کی ہے جو کہ ملک میں جاری معاشی ترقی کے عمل پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اب پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم ہو کر 5.3 فیصد رہ گیا ہے۔ افراط زر کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے اور اب ملک میں 4.53 فیصد افراط زر ہے۔ جی ڈی پی کی شرح بڑھ کر 4.24 فیصد اور پرکیپٹا انکم میں اسی تسلسل سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے جو کہ 21 بلین تک جا پہنچے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ بیالیس سالوں میں شرح سود سب سے کم سطح پر ہے۔

قدرتی اور مصنوعی آفات جیسا کہ سالانہ سیلاب، زلزلے، دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لئے آپریشن ضرب عضب اور ڈیٹ سروسنگ کے باوجود معاشی استحکام قابل تحسین امر ہے جس کی تائید اور تشہیر بار ہا بین الاقوامی منی لینڈنگ اداروں، ریٹنگ ایجنسیوں اور میڈیا نے بھی کی ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ اور ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو جاری کردہ کئی اقساط بھی اس امر کی تائید کرتی ہیں کہ پاکستانی معیشت اب بحالی کی جانب گامزن ہے۔معیشت کی طرح ملکی امن کی مجموعی صورت حال میں بھی خوش آئند تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری آپریشن ضرب عضب نے خاصی حد تک دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ کراچی کی روشنیاں ایک بار پھر بحال ہو رہی ہیں۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں موجود بیرونی ہاتھ کو آہنی ہاتھوں سے روکا جا رہا ہے۔ بھارتی اور افغانی جاسوسوں کی گرفتاری سے بھارتی امن پسندی کا بھانڈا پھوٹنے کا سہرا بھی اسی کے سرجاتا ہے۔ پوری عالمی برادری پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردار کو آج سراہ رہی ہے۔

پاکستانی خارجہ پالیسی میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ مسلم ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔ جن میں ترکی، افغانستان، سعودی عرب، ایران، ترکمانستان، افغانستان اور دیگر ممالک شامل ہیں، اسی طرح غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم کئے جا رہے ہیں۔ جس سے تجارتی و سفارتی سطح پر مثبت پیش رفت کی امید کی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ انڈیا کے ساتھ بھی حتی الامکان بہتر تعلقات رکھنے کی سعی جاری ہے۔ ،جو ترقی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔ یہی منصوبہ ہے جسے اگر گیم چینجر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔کیونکہ 46 بلین ڈالر کا یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا بلکہ چین سمیت جنوبی ایشیا میں بھی تجارتی عمل میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔سی پی ای سی کے ساتھ ساتھ توانائی کے منصوبوں میںTAPI منصوبہ سر فہرست ہے۔ جو کہ ترکمانستان کے تعاون سے ملک میں جاری گیس بحران کے خاتمے میں خاصی حد تک ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ایران پاکستان انڈیا گیس پائپ لائن منصوبہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ توانائی کے شعبے میں کئی منصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے جن میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کوئلہ گیس، سورج اور ہوا کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے متعدد منصوبے جاری ہیں جو کہ آئندہ چند برسوں میں توانائی کے بحران کے حل میں موثر ثابت ہوں گے۔

موثر ذرائع آمد و رفت ملکی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس جانب بھی خاصی توجہ دی ہے۔اسی سلسلے میں کراچی، حیدر آباد موٹر وے، ہوشاب بسمیہ سوراب روڈ۔ خوزدار۔ ریٹوڈیورو۔ گوادر تربت ہوشاب روڈ اور ہزارہ موٹر وے کے منصوبے جاری ہیں۔ ذرائع نقل و حمل میں جدت لائی جا رہی ہے جس میں میٹرو بس منصوبہ کی شہرت کے بعد اورنج ٹرین منصوبہ پر کام جاری ہے جس سے پاکستانیوں کے لئے سفر سہولت میں جدت آئی ہے۔غرضیکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے تین سالہ عرصہ اقتدار میں خاطر خواہ اہداف کا حصول ممکن بنایا ہے جس کی بناء پر ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے خدا کرے یہ سلسلہ جاری رہے۔ (آمین)

مزید : کالم


loading...