بارک اوباما کا اعترافِ جرم

بارک اوباما کا اعترافِ جرم
بارک اوباما کا اعترافِ جرم

  


ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے ایک طرح سے اعترافِ جرم کیا ہے کہ لیبیا میں معمر قذافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہدۂ صدارت کی بدترین غلطی تھی۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ کرنل قذافی کے قتل کے بعد لیبیا داخلی سطح پر افراتفری کا شکار ہو گیا، اقتدار پر قبضے کے خواہش مند متحارب دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہاں دو متوازی حکومتیں قائم کر لی گئیں اور اس صورت حال کی وجہ سے داعش کو لیبیا میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اوباما کی جانب سے اپنی غلطی تسلیم کرنا ان کے وسیع الظرف ہونے کا ثبوت ہو سکتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ خیال انہیں بڑی دیر سے آیا۔ لاکھوں جانیں ضائع کرنے اور اس سے زیادہ کو ایک عذاب ناک زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دینے کے بعد توبہ کی تو کیا کی۔ مشرق وسطیٰ کے مذکورہ حصے(عراق، لیبیا، شام) میں جو تبدیلیاں گزشتہ چار برسوں میں رونما ہو چکی ہیں اور جتنی تباہی پھیل چکی ہے، اس کے اثرات کم از کم چار دہائیوں تک قائم رہیں گے اور ماضی والا مشرق وسطیٰ اب کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔وہاں سب کچھ تبدیل ہو چکا، حتیٰ کہ لوگوں کی نفسیات بھی۔ کیا اتنا بڑا گناہ محض ایک معافی مانگنے سے دھل سکتا ہے؟

اوباما پہلے امریکی صدر نہیں، جنہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے پہلے صدر بش جونیئر، بھی عراق پر حملہ کرنے کی اپنی غلطی تسلیم کر چکے ہیں۔20مارچ2013ء کو جب عراق پر امریکی حملے کی دسویں سالگرہ منائی جا رہی تھی، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جونیئر نے اپنے ایک خطاب میں تسلیم کیا کہ عراق کی جنگ غیر ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورِ صدارت کی اس ’’سب سے بڑی غلطی‘‘ پر امریکی قوم سے معافی کے طلب گار ہیں۔ بش جونیئر نے اپنی اِس غلطی کا اعتراف اس کے بعد بھی کئی بار کیا۔ امریکہ سے باہر عراق پر حملے کو جائز قرار دینے والوں میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پیش پیش تھے۔ آج وہ بھی نادم پھرتے ہیں۔ لاکھوں انسانوں کا خون اپنی گردن پر لے کر عدم آباد سدھارنا آسان نہیں۔ انہیں بھی بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑا کہ عراق پر کیا گیا حملہ ناجائز اور بے بنیاد تھا۔۔۔۔ عراق پر20مارچ2003ء کو حملہ کیا گیا تھا۔ اس میں کل ایک لاکھ60ہزار فوجیوں نے حصہ لیا اور سب سے زیادہ تعداد امریکی فوجیوں کی تھی، کم و بیش130000۔ یہ بات اب تاریخ کا حصہ ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے نہ صرف عراق کی تہذیب و ثقافت کے قدیم اور تاریخی آثار ختم ہو گئے، بلکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی۔ کچھ جنگ کے دوران ہونے والی گولہ باری سے اور باقی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

ابو غرائب جیل اور گوانتانا موبے کے عقوبت خانوں میں موجود قیدیوں سے کئے گئے انسانیت سوز سلوک کی داستانیں جنگی جرائم سے زیادہ بھیانک اور دِل دہلا دینے والی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اِس جنگ میں کھربوں ڈالر جھونکنے پڑے۔ عراق اور اس کے ہمسایہ ممالک کی معیشت پر جو اثرات مرتب ہوئے، وہ اِس کے علاوہ تھے۔عالمی اقتصادیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اتنے گھناؤنے جرائم پر محض غلطی تسلیم کر لینا کافی ہے؟۔۔۔پھر اس جنگ کے بعد عراق میں اپنائی گئی امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں ہی داعش جیسی انتہا پسند تنظیم وجود میں آئی۔ اگر عراق میں ایک مسلک کے لوگوں کو اقتدار دے کر دوسرے مسالک کے لوگوں کو دبانے کی کھلی چھٹی نہ دی جا تی تو داعش جیسی خونخوار تنظیم وجود میں نہ آتی۔ یہ ایک اضافی غلطی تھی، جو صدر بش سے سرزد ہوئی اور صدر اوباما نے بھی جس کو سدھارنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔میرے خیال میں لاکھوں انسانوں کے قاتلوں کی صرف ایک معذرت قبول نہیں کی جانی چاہئے اور ان کو عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹا جانا چاہئے۔

سابق سرب لیڈر رادو وان کرازک کو اگر بوسنیا ہزیگووینیا میں قتل عام کرنے پر انٹرنیشنل ٹریبونل سے سزا مل سکتی ہے تو بش ، ٹونی بلیئر اور اوباما کو اس عدالت میں کیوں نہیں گھسیٹا جا سکتا؟ آج نہیں تو کل، اور کل نہیں تو پرسوں، اگلے سال یا اگلی دہائی میں عالمی برادری کو اِس کی ضرورت محسوس ہو گی اور پھر شاید اس سلسلے میں کچھ اقدامات کئے جا سکیں۔ اب تو عالمی طاقتوں نے ایک نیا ہتھکنڈہ اختیار کر لیا ہے کہ کسی بھی مُلک میں باغیوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کر دو اور وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے سرگرم ہو جائیں۔ مشرق وسطیٰ میں جسے عرب بہار کا نام دیا جاتا ہے، ذرا سوچئے کہ اس کی فنڈنگ کس نے کی؟ اگر شام کی حکومت بقول صدر بش برائی کا محور ہے تو پھر عراق، افغانستان، لیبیا پر حملے کرنے والوں اور وہاں کے باغیوں کو مدد فراہم کرنے والوں کو کیا نام دیا جانا چاہئے؟ اس کے باوجود یہ لوگ گلہ کرتے ہیں کہ دہشت گرد ی بڑھ رہی ہے۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ جانب دارانہ،دوغلی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے فروغ کی صورت میں ہی نکل سکتا ہے، سو نکل رہا ہے۔ یہ طے ہے کہ جب تک دُنیا کے مختلف خطوں میں انتشار پھیلا کر امن اور سکون تباہ کرنے والوں کا ہاتھ سختی سے نہیں روکا جائے گا، روئے ارض پر پائیدار امن کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ محض اعترافِ جرم اور معذرت کافی نہیں، سزا بھی ملنی چاہئے۔ کڑی سزا، تاکہ انہیں بھی معلوم اور محسوس ہو سکے کہ اذیت کیا ہوتی ہے۔

مزید : کالم


loading...