سندھ و پنجاب: ر ینگتی لاری سے میٹرو ٹرین تک

سندھ و پنجاب: ر ینگتی لاری سے میٹرو ٹرین تک
 سندھ و پنجاب: ر ینگتی لاری سے میٹرو ٹرین تک

  


بس میں رش کا یہ عالم تھا کہ پیر رکھنے کی جگہ بھی نہیں تھی اور لوگ سیڑھیوں پر بھی لٹک رہے تھے اور چھت بھی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی،خواتین کے کمپارٹمنٹ کی حالت اس سے بھی ابتر تھی جہاں خواتین تو لٹک ہی رہی تھیں لیکن مرد بھی داخل ہو رہے تھے۔آدھے پون گھنٹے سے بس سٹاپ پر کھڑے افراد کے لئے یہ بس اس وقت خدا کی سب سے بڑی غنیمت سے کم نہیں تھی اور بس سٹاپ پر کھڑے دس پندرہ افراد میں سے کوئی بھی اس غنیمت سے محروم نہیں ہونا چاہ رہا تھا،سولہ نشستوں کی اس منی بس پر ویسے تو بتیس یا زیادہ سے زیادہ چونتیس افراد سفر کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت خدا کی نعمت کی مثل پہنچنے والی منی بس پر ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر لٹک رہے تھے۔مجھ سمیت پانچ چھ افراد بس کی سیڑھی پر ہی لٹک رہے تھے، لیکن من میں ایک انجانا سا خوف بھی بسیرا کر رہا تھا، ایک گردشی سوال میرے ڈر کو اور بھی مضبوط کر رہا تھا، وہ یہ کہ : اگر بس کی سیڑھی جو بے حد کمزور تھی دھڑام سے گر گئی تو ہمارا کیا ہوگا؟ یا لوہے کے جس راڈ میں ہاتھ کھینچ رکھے تھے وہ اچانک ٹوٹ جائے تو کیا ہوگا؟دونوں صورتوں میں بس سے گرنے والوں کی زندگیاں گل ہو سکتی تھیں اور جام شہادت نوش ہو سکتا تھا۔ بس میں سوار سارے لوگ محنت کش،درمیانے طبقے کے ملازم پیشہ لوگ،یا چھوٹے موٹے کام کاج کرنے والے لوگ تھے جو تھکے ہارے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔یہ مُلک کے سب سے بڑے شہر کی سب سے بڑی شاہراہ تھی۔ صدر سے شروع ہونے والی یہ شاہراہ ایئرپورٹ سے گذر کر ملیر کے بعد نیشنل ہائی وے بن جاتی ہے۔

شاہراہ فیصل پر رینگتی ہوئی گاڑی، یعنی ہماری منی بس سے لوگوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی تھی،اور بس میں سوار لوگوں کے کپڑے،جوتے،اور پیر تو بیدردی سے روندے جا رہے تھے، لیکن خوف یہ ہو رہا تھا کہ کہیں کہنیاں لگنے سے پسلیاں نہ ٹوٹ جائیں۔ ویسے تو بس میں سوار تمام مسافر ایک دوسرے سے نا آشنا تھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بس میں ایک ٹاک شو شروع ہو چکا تھا۔ایک بزرگ نے لاہور کی تعریف میں ایک جملہ کیا بولا گویا ہر طرف سے سیاسی بیانات کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔بزرگ نے چند الفاظ ہی تو بولے تھے کہ : کراچی سے تولاہور اچھا ہے میٹرو بس میں بڑا سکون ہے اب تو بجلی والی ٹرین چلے گی : ایک شخص نے خون خوار نگاہوں سے بزرگ کی طرف دیکھا اور سخت لہجے میں کہنے لگا: ہاں بھائی لاہور تو یورپ ہے پھر یہاں کیوں آتے ہو: دیکھتے دیکھتے مذاکرہ طوالت اختیار کرتا گیا۔ : پورا پیسہ توپنجاب کھا رہا ہے: بس میں کھڑے ہوئے ایک بھاری بھرکم شخص نے بھی اپنا جواب داغ دیااور اس کے ساتھ ہی کھڑے ایک سیکیورٹی گارڈ سندھی سرائیکی مکس اُردو کے لہجے میں بول پڑے :سندھ میں تو سب کچھ وڈیرے اور حکومت والے کھا جاتے ہیں سب کرپشن کرتے ہیں غریب کو کچھ نہیں ملتا: پنجاب کے حق میں بولنے والے بزرگ نے پھر ایک تپتا ہوا جملہ آگ کے گولے کی طرح پھینکا، جس پر سب ہی آگ بگولہ ہوگئے۔ وہ بولے : بھائی کرپشن تو ہر جگہ ہے، لیکن پنجاب کے حکمران اپنے صوبے سے سچے ہیں جس کی بھی حکومت آتی ہے وہ کام کرواتی ہے کراچی میں تو بس بھی نہیں ہے:بس غریب کی شامت آچکی تھی سلیس اُردو کے لہجے میں ایک بھاری بھرکم شخص بولا: بھائی ہم لوگوں کو معاف کردیں آپ وہاں ہی اچھے ہیں: مَیں خاموش تماشائی کی طرح یہ براہ راست ٹاک شو دیکھ رہا تھا، ایک لمحے کے لئے سوچنے لگا کہ: پنجاب سے آنے والا بزرگ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن بس میں کوئی بھی اس کی بات کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے اور خود ہم صحافی بھی جب کبھی کبھار پنجاب جاتے ہیں تو واپسی پر یہ ہی تو تاثر لے کر آتے ہیں اور متاثر ہوکر کسی نا کسی اخبار میں بھی مضمون یا کوئی کالم لکھ لیتے ہیں، لیکن جب سندھ میں پنجاب کی ترقی کا سندھ سے موازنہ کرتے ہیں تو گناہ گار بن جاتے ہیں۔

پاکستان ایک ہی مُلک ہے ،ایک ہی آئین ہے اور ایک ہی پارلیمانی نظام کے تحت جمہوری دور چل رہا ہے ایک ہی قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی ) کے تحت چاروں صوبوں کے لئے وفاقی بجٹ میں رقوم مختص کی جاتی ہیں، لیکن ہم جب پنجاب گھومنے جاتے ہیں اور جب واپس کراچی پہنچتے ہیں تو احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور آج سیاست کو ذرا ایک کونے میں رکھ کر ترقی یا ترقیاتی منصوبوں پر ہی نظر ڈالیں تو بہت فرق نظر آتا ہے۔ کچھ سوال ابھرتے ہیں۔ ایک صوبے میں میٹرو بس، موٹر وے، اورنج لائن میٹرو ٹرین، غیر ملکی سرمایہ کاری،بہتر تعلیمی نظام، صحت کی قدرے بہتر سہولتیں نظر آتی ہیں، لیکن دیگر صوبوں میں ایسا کیوں نہیں؟ کراچی شہر کے کچھ ترقیاتی منصوبے تو مَیں اپنے پچیس سالہ صحافتی دور میں سنتا رہا ہوں لیکن وہ منصوبے دیکھ نہیں پایا۔ سرکلر ریلوے لائن کہاں ہے،کیا کسی نے کبھی اندرون شہر کوئی ٹرین چلتی ہوئی دیکھی؟ ایک دوسرا منصوبہ ہے ماس ٹرانزٹ،تیسرا منصوبہ ایئر کنڈیشنڈ گرین لا ئن ، گرین بس سروس،یہ سارے منصوبے رنگین کتابوں میں دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں تو صدر سے گلشن حدید تک بسوں میں لٹک کر تین گاڑیان بدل کر ہی گھر پہنچا جا سکتا ہے ہاں، مگر اٹھائیس برس کے دوران ترقی کے نام پر اربوں روپے ہضم ہوگئے،حکومت کسی کی بھی تھی یا آج کس کی ہے کوئی فرق نہیں پڑتا، ترقی کے نام پر پیسے کھانے والوں کا اندازِ محبت یکساں ہے۔

پنجاب میں ترقی کے جاری منصوبوں میں سے آج کل اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین ایک کھرب 65 ارب روپے کی لاگت کا یہ منصوبہ چین کی جانب سے لاہور کے شہریوں کے لئے تحفہ ہے،اس منصوبے کو شروع کرنے سے قبل بین الاقوامی ماہرین سے ریسرچ اور منصوبہ بندی کرانے کے بعد منصوبہ ڈیزائن کیا گیا۔بجلی پر چلنے والی یہ برقی ٹرین لاہور علی ٹاؤن رائیونڈ سے شروع ہوکر مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی ڈیرہ گجراں کے نزدیک قائداعظم انٹر چینج تک پہنچے گی۔27 کلومیٹر کے فاصلے پر چلنے والی اس جدید ٹرین کے راستے میں ٹھوکر نیاز بیگ،ملتان روڈ،سبزہ زار،سمن آباد،گلشن راوی، شالامار باغ اور اسلام پارک سمیت 26اہم علاقے آئیں گے جہا ں اسٹیشن بنائے جائیں گے۔ منصوبے کے مطابق مسافر ٹرین 45 منٹ میں اپنا سفر مکمل کرے گی اور پہلے مرحلے میں اڑھائی لاکھ پھر پانچ لاکھ افراد یومیہ اس ٹرین سے مستفید ہوں گے،اس منصوبے کے تحت 25 کلومیٹر حصہ زمین سے 12 فٹ کی بلندی پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ 2کلومیٹر حصہ زیر زمیں ہے،جس کی وجہ سے انڈر گراؤنڈ سٹیشن بھی تعمیر کئے جائیں گے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ منصوبہ 27 ماہ میں مکمل ہو گا۔اس جدید ٹرین کی پانچ بوگیاں ہوں گی اور اس قسم کی27 ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ برقی توانائی پر چلنے والی ٹرین کے لئے 12 ارب روپے کی لاگت سے 2 الگ الگ گرڈ سٹیشن تعمیر کئے جائیں گے۔ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے بارے میں عمران خان کی تقریریں سنی ہیں جس میں سب سے پُر کشش بات یہ ہے کہ : میٹرو ٹرین منصوبے کے راستے پر آنے والی تاریخی اور ثقافتی عمارتوں کا حسن بگاڑا جا رہا ہے : اس ضمن میں پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق کہ اس بات کا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ان تفصیلات کے مطابق لکشمی بلڈنگ،جی پی او،سپریم کورٹ رجسٹری، ایوان شاہ چراغ،موج دریا،،دربار مسجد اور سینٹ اینڈ ریوز چرچ کی تاریحی عمارتوں کو بچانے کے لئے ان علاقوں سے ٹرین کو زیر زمین گذارا جائے گا، جس کی وجہ سے یہان تعمیراتی لاگت میں چار گنا اضافہ ہوا ہے،لاہور زلزلہ کی فالٹ لائن کے قریب ہے اور انڈر گراؤنڈ پٹڑی کی وجہ سے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا، سرکار کا موقف ہے کہ کسی بھی تاریخی عمارت کے ایک انچ کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جب یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا تو لاہور کے عوام کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کتنی بڑی سہولت میسر ہو چکی ہوگی، لیکن ہم سندھ میں رہتے ہوئے ابھی تک تو ایسے کسی منصوبے کے لئے کوئی خواب بھی نہیں دیکھ سکتے، لہٰذا تعبیر کہاں سے لائیں گے۔

صدر سے رینگتی ہوئی منی بس میں ایک گھنٹے تک لٹکنے کے بعد بھی سیٹ میسر نہیں ہو سکی پندرہ سولہ کلومیٹر کا فاصلہ وہ بھی لٹکتے گزارنا کتنا مشکل کام ہے، یہ تجربہ کسی بھی دن کوئی بھی شاہراہ فیصل پر کر سکتا ہے، سندھ کے دل اور منی پاکستان کے نام سے مشہور پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں اگر یہ حال ہے تو تصور کریں مورو،میہڑ،دادو سے جوہی اور جیکب آباد تک،یا کراچی سے کشمور تک غریب عوام کا کیا حال ہوگا اور پھر سندھ کے لوگ رینگتی ہوئی لاری کا پنجاب کی میٹرو ٹرین سے موازنہ نا کریں تو اور کیا کریں۔

مزید : کالم


loading...