بلا امتیاز احتساب

بلا امتیاز احتساب
 بلا امتیاز احتساب

  


نیب نے بلوچستان کے سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی کے گھر چھاپہ مار کر بھاری تعداد میں ملکی اور غیر ملکی کرنسی برآمد کی۔ ہم لوگ ٹیلی ویژن پر دیکھتے رہے کہ نوٹ گننے والی تین مشینیں منگوائی گئیں جو سارا دن کرنسی نوٹ گنتی رہیں۔ ایک عجب منظر تھا کہ مشینیں اور نوٹ گننے والے تھک گئے، لیکن کرنسی نوٹ تھے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ بعد میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی کے گھرسے برآمد ہونے والی رقم ستر کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی جس میں امریکی ڈالر اور یورو شامل ہیں ، پرائز بانڈز اور جیولری سونا چاندی اور جواہرات وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ بلوچستان کے سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی کے گھر یہ چھاپہ پڑا اور بھاری تعداد میں لوٹی ہوئی رقم برآمد ہوئی تو بلوچستان کے وزیر خزانہ لانگو مستعفی ہوگئے۔ اگلے روز بلوچستان اسمبلی میں سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے ایک بہت جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری لوٹ کھسوٹ ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں ان کی ناک کے نیچے ہوتی رہی اور انہیں پتہ نہ چل سکا جس کی وجہ سے وہ بہت شرمندہ ہیں اور اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی مخلصانہ پیشکش اپنی جگہ پر مستحسن ہے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے سسٹم میں کیا نقص ہے کہ اتنی بڑی بڑی کرپشن ہو جاتی ہے لیکن صوبے کا چیف ایگزیکٹو اس سے بے خبر رہتا ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی ایک بیورو کریٹ ہیں، ہمارے ملک میں عام طور پر سیاست دانوں کو کرپٹ سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد انتہائی کرپٹ ہے ابھی پچھلے سال ہی سندھ کے ایک صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے گھر سے اربوں روپے برآمد ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ پاکستان سے مفرور ہیں۔اسی طرح ایک ماڈل ایان علی کو بھی ساری قوم جانتی ہے کہ کس طرح بار بار وہ بیرونِ ملک پھیرے لگا کر سیاست دانوں کی رقم باہر منتقل کر رہی تھی اور بھی بہت سے سیاست دان ہیں جن کی کرپشن کے قصے اس ملک کے بچے بچے کو ازبر ہیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر بالکل درست ہیں کہ سیاست دانوں کی اگر اکثریت نہیں تو بھی ایک قابل ذکر تعداد انتہائی کرپٹ ہے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا پاکستان میں سیاست دان ہی کرپٹ ہیںیا کچھ لوگ ان سے بھی زیادہ کرپٹ ہیں؟ تما م ملبہ کچھ لوگوں پر ڈالنے اور باقیوں کو نظر انداز کردینے سے کرپشن کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کرپٹ سیاست دانوں کی موجودہ لاٹ منظر سے غائب ہو جائے گی اور اس کی جگہ نئے لوگ لے لیں گے، یعنی خرابی کی جڑ وہیں رہے گی اور لوگ کرپشن کی نت نئی داستانیں سنتے رہیں گے، لیکن اس سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان کی اب تک کی کل عمر 68 سال ہے۔ ان 68 سالوں میں پاکستان میں 34 سال سویلین حکومت رہی ہے ، جبکہ 34 سال مارشل لاء یا فوجی حکومت رہی ہے، گویا اب تک پاکستان میں نصف وقت سیاست دان اور نصف وقت فوجی اس ملک کو چلاتے رہے ہیں۔ پاکستان میں عام رواج ہے کہ سب سے زیادہ تنقید سیاست دانوں پر کی جاتی ہے اور انہیں کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ اب تک چار بار ایسا ہوا ہے لیکن ہر بار فوج اقتدار میں آنے کے کچھ دیر بعد ہی غیر مقبول ہونا شروع ہو جاتی ہے اور لوگ ایک بار پھر سے جمہوریت کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں اور بعض مواقع پر تو فوج سے نجات حاصل کرنے کے لئے تحاریک بھی چلائی گئیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز میوزیکل چیئر ہے جو بدقسمتی سے پچاس ساٹھ سال سے جاری ہے اور اسی وجہ سے پاکستان میں سویلین اور فوجی اقتداردورانیہ کے اعتبار سے ففٹی ففٹی رہا ہے۔

پاکستان کے اعلیٰ کاروباری حضرات بھی کرپٹ ہیں، وہ اربوں روپیہ کمانے کے باوجود معمولی ٹیکس دیتے ہیں اور ملک کی ترقی و خوش حالی میں اپنا حصہ ڈالنے کی بجائے قوم سے دولت اکٹھی کرکے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وہیں کمپنیاں بناتے ہیں۔ پچھلے کچھ سال سے میڈیا پر بھی انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور مختلف میڈیا پرسنز کے بارے میں بھی مختلف کہانیاں گردش کرتی رہتی ہیں، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد ٹیلی ویژن ٹاک شوز کے اینکر خواتین و حضرات میں سے کچھ کے بارے میں ایسا کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام لوگوں کے علاوہ مختلف پروفیشنلز کے بارے میں بھی لوگ زیادہ اچھی رائے نہیں رکھتے۔

لوگوں کا عمومی تاثر یہ ہے کہ ڈاکٹر حضرات مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور روزانہ نوٹوں کی بوریاں بھر کر گھر لے جاتے ہیں۔وکلاء حضرات کے پاس کوئی شخص پھنس جائے تو وہ اس وقت تک اسے پھنسائے رکھتے ہیں جب تک وہ قلاش نہیں ہو جاتا۔ پروفیسر اور اساتذہ صرف اپنی پرائیویٹ ٹیوشنوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اب تو انہوں نے بڑے بڑے ٹیوشن سینٹر بنا لئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ ہماری قوم سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کی بڑی وجہ سمجھتی ہے اور باقی کی ذمہ دار ی جنرلوں، ججوں، میڈیا اور مختلف پروفیشنلزپر ڈال دیتی ہے، لیکن اس طبقے کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے جو قیام پاکستان کے پہلے دن سے تمام معاملات کا ذمہ دار ہے۔ سویلین اور فوجی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن یہ اپنی اپنی سیٹوں پر اسی طرح براجمان رہتے ہیں بلکہ ان کی مرضی کے بغیر نہ تو سیاست دان اور نہ ہی کوئی اور ایک پائی کی کرپشن کر سکتا ہے اور جتنی کرپشن سیاست دان کرتے ہیں ان سے کہیں زیادہ کرپشن یہ لوگ کرتے ہیں، کیونکہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی بھی فائل ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ پاکستان کی بیورو کریسی ہے جسے افسر شاہی بھی کہا جاتا ہے اور نوکر شاہی بھی ۔ آج تک ملک میں جو کچھ بھی ہوا اور جتنی کرپشن ہوئی ان افسران کی مرضی اور ساتھ مل کر کام کرنے سے ہوئی۔

میں ایک اور بات پر بھی حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان بننے کے ابتدائی سالوں میں لوگوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ اس زمانے میں کوٹوں، پرمٹوں اور الاٹمنٹوں کی جو لوٹ کھسوٹ ہوئی ، لوگ جانتے تھے کہ مختلف محکموں کے افسران اس لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں۔ ایوب خان ، یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں افسر شاہی کے خلاف کارروائیاں بھی ہوئیں اور بہت سے بیوروکریٹس کو برطرف بھی کیا گیا لیکن اس کے بعد سے آہستہ آہستہ عوام کی توپوں کا رخ سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں اور میڈیا کی طرف ہو گیا اور بیوروکریٹس کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔میں نے مختلف ادوار اور پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے وزراء سے بار بار پوچھا ہے کہ کیا ان کے محکموں کے سیکرٹری یا دوسرے افسران کو ساتھ ملائے بغیر کرپشن ممکن ہے اور ہربار مجھے ایک ہی جواب ملا کہ بیوروکریٹس کو شاملِ کئے بغیر کرپشن ایک فیصد بھی ممکن نہیں۔نیب کے سابق سربراہ فصیح بخاری نے اپنی سربراہی کے دوران بتایا تھا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔

سوئزر لینڈ میں موجود سوئس اکاؤنٹس میں پاکستانی سیاست دانوں، بیوروکریٹس، جرنیلوں، ججوں اور بزنس مینوں کے کئی سو ارب ڈالر جمع ہیں۔ پانامہ اور دیگر ان ممالک میں جو ٹیکس چوروں کی جنت کہلاتے ہیں وہاں بھی پاکستانیوں کے کئی سو ارب ڈالر آف شور کمپنیوں میں موجود ہیں، دبئی، لندن اور امریکہ سمیت بہت سے ممالک میں ہمارے لوگوں کی اربوں ڈالر کی جائیدادیں ہیں، یہ سب کا سب ملک کا پیسہ ہے جو واپس آنا چاہئے، کرپٹ لوگوں کو سزا ئیں ملنی چاہئیں اور تمام حقائق لوگوں کے سامنے آنے چاہئیں ۔ کمیشن غیر جانبداری سے کرپٹ عناصر کو ایکسپوز کرکے عوام کے سامنے لائے ، لیکن ایک تو کرپشن کے نام پر سیاست برائے سیاست نہیں ہونی چاہیے یعنی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی چارپائیوں کے نیچے ڈانگ ضرور پھیرنی چاہئے اور صرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے کرپٹ لیڈروں کا دفاع نہیں کرنا چاہئے اور دوسرا احتساب سو فیصد بلا امتیاز ہو نا چاہئے۔ صرف سیاست دانوں کو نامزد کرکے اور بیوروکریٹس کو نظر انداز کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ چہرے بدل جائیں گے، لیکن کرپشن وہیں کی وہیں رہے گی۔ بلوچستان کے سیکرٹری فنانس مشتاق رئیسانی کے معاملہ نے قوم کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ مزید کوئی تاخیر کئے بغیربلا امتیاز احتساب شروع کر دیاجائے۔

مزید : کالم


loading...