ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی(مرحوم)

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی(مرحوم)

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی مرحوم برصغیر پاک و ہند کے ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر محقق ، تاریخ داں اور ممتاز ماہر تعلیم شمار کئے جاتے تھے۔ ان کی خدمات کا دائرہ وسیع تر ہے۔ انہوں نے اپنے درس و تدریس سے ناصرف برصغیر بلکہ دیگر ممالک کے بھی طالبان علم کو فیض پہنچایا۔ وہ ایک فرد یا ایک ادارہ ہی نہیں تھے بلکہ اداروں کو بنانے والی شخصیت تھے۔ مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ تحریک خلافت میں نہ صرف پیش پیش رہے بلکہ ان کے با اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔ بعد ازاں تحریک پاکستان کا قافلہ رواں دواں ہوا تو اس قافلے میں بھی آپ شریک سفر رہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں علم و ادب کے فروغ کے نہ صرف داعی رہے بلکہ اپنے کام کے حوالے سے پاکستان میں نہ مٹنے والے نقوش چھوڑے ہیں۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی زندگی میں علم کے حوالے سے جو کام کئے ہیں یقیناًبہت بڑے ہیں۔ آپ نے جہاں لاتعداد کتابیں لکھ کر علم وادب کے طالبان کو فیض پہنچانے کی کوشش کی وہیں پر تحریک پاکستان کے حوالے سے اعلیٰ و تحقیقی کتب لکھ کر نہ صرف پاکستان کی نئی نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک اثاثہ کے طور پر محفوظ کردیا۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی1903ء میں پیداہوئے۔ اسلامیہ ہائی سکول اوٹاوہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1926ء میں سینٹ اسٹیفن کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد دہلی یونیورسٹی سے ایم۔ اے کرنے کے بعد 1939ء میں پی۔ ایچ ۔ ڈی کیا۔ آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز1938ء سے بحیثیت لکچرار سینٹ اسٹیفن کالج سے کیا۔ بعدازاں 1940-42ء سے دہلی یونیورسٹی میں ریڈر رہے اور 1943-47ء تک اسی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ورئیس کلیہ فنون بھی رہے۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ہجرت کر کے لاہور آگئے جہاں آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ تاریخ کے پروفیسرمقرر کئے گئے۔ بعدازاں آپ حکومتی امور میں بھی رہے۔ لیاقت علی خان کی کابینہ میں ڈپٹی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اس کے بعد وزیر تعلیم بھی رہے۔ آپ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ممبر بھی رہے۔ آپ کو لمبیا یونیورسٹی نیو یار ک امریکہ مہمان پروفیسر کے طور پر 1955-60 ء تک رہے۔23جون 1961ء کو آپ کو جامعہ کراچی کا وائس چانسلر بنایا گیا۔ جامعہ کراچی کو پروان چڑھانے میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یونیورسٹی سے تعلق ابتدائی دور سے رہا۔ جب اس جامعہ کراچی کا مسودوہ قانون بنایا جارہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جب موجودہ جامعہ کراچی کے لئے اراضی کے حصول کا مرحلہ آیا تو اس میں بھی آپ کا عمل دخل رہا۔ جامعہ کراچی کا نقشہ فرانسیسی ماہرین نے تیار کیا ان ماہر ین کو آپ ہی کے توسط سے ان کی خدمات جامعہ کراچی کو حاصل ہوئیں۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے نہ صرف جامعہ کراچی کی تعمیرات میں تیزی سے اضافہ کیا بلکہ موجود شعبوں میں توسیع بھی کی۔ اور نئے شعبوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔ 1961ء میں عمرانیات کا شعبہ سیاست سے الگ کر کے علیحدہ شعبہ بنایا گیا۔ اورلائبریری سائنس اورصحافت میں ایم۔ اے کی کلاسیں کھولی گئیں۔1962ء میں سماجی بہبود کا شعبہ بنا۔ 1962ء میں ہی بین الاقوامی تعلقات کوشعبہ تاریخ عمومی سے علیحدہ کر کے الگ شعبہ بنایا۔ 1963ء میں شماریات کا شعبہ بنوایا اور اس میں کمپیوٹر کی تعلیم کا بھی انتظام کیا۔ 1964ء میں شعبہ فارمیسی قائم کیا گیا۔ آپ ہی کے دور وائس چانسلری میں شعبہ بزنس ایذمنسٹریشن جو پہلے غیر ملکی ماہرین کے زیر نگرانی کام کرتا تھا۔ آپ کی کوششوں سے پاکستانی ماہرین کے زیر انتظام آیا اور اس کی ترقی اور توسیع میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 1968ء میں بک بینک قائم کیا۔ جنیٹکس کا شعبہ بھی قائم کیا۔ 1968ء میں تاریخ عمومی میں میوزیم قائم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شعبہ ارضیات، نباتات، عمرانیات، حیاتیات میں عجائب خانہ قائم کیا گیا۔ 1967ء میں پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری( موجودہ ایچ۔ ای ۔ جے) قائم کیا۔ 1966ء میں شعبہ تحفظ دستاویزات تحریک آزادی قائم کیا اور اس کے عملے کو ٹریننگ کے لئے برطانیہ بھیجا۔ آپ ہی کے دور وائس چانسلری میں ایم۔فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی اردو زبان میں کرنے کی اجازت دی گئی۔ آپ کے دور میں تحقیقاتی مضامین کے حوالے سے ایک رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام یونیورسٹی اسٹڈیز تھا آپ نے نہ صرف تعمیر وتوسیع کی طرف توجہ دی بلکہ جامعہ کراچی میں اعلیٰ تعلیمی معیار قائم کرنے کی کوشش کی اور اس جامعہ میں ایسے اساتذہ کو لانے کی سعی کی جو تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق کا اعلیٰ معیار قائم کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کئے۔

ڈاکٹر قریشی اپنا دس سالہ شاندار دور گزارنے کے بعد1971ء میں اپنے منصب سے سبکدوش ہوگئے۔ وائس چانسلرکا منصب بجائے خود ان کے لئے وجہ عزت نہ تھا ڈاکٹر صاحب کتنے ہی مناصب جلیلہ کو اس سے پہلے رونق بخش چکے تھے ان کی جامعہ کراچی سے وابستگی محض واجبی یا منصبی تقاضے کے تحت نہ تھی بلکہ جامعہ کراچی کو قبائے و جود عطاء کر نے والوں میں وہ شامل ہیں۔ بعدازاں1973ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے مہمان پروفیسر بھی رہے اس کے ساتھ ساتھ علمی ، ادبی اورقومی خدمت کی بنا پر1980ء میں حکومت پاکستان نے ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ آپ مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ رہے۔ آپ اکادمی ادبیات کے بھی سربراہ رہے۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ایک سچے مسلمان تھے، وائس چانسلر بننے کے فوراً بعد جامعہ کراچی کے نصاب میں اسلامی نظریہ حیات کو لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل کروایا۔ڈاکٹر صاحب کو کئی زبانوں پر عبو رحاصل تھا۔ اردو زبان و ادب سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ اردو زبان کی ترویج وترقی کے لئے ہمیشہ دل وجان سے کوشش کرتے رہے تدریس و تعلیم کے ساتھ جامعہ کی مختلف مجالس کی کارروائی کی روداد وغیرہ میں اردو کو قرار واقعی اہمیت دی گئی۔ ان کی خواہش تھی کہ اردو زبان کو عوامی اور سرکاری سطح پر رواج حاصل ہومقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین کی حیثیت سے اردو کے نفاذ اور ترقی کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔

آپ نے اردوزبان کے لئے خصوصاً جوکارہائے نمایاں انجام دیئے وہ ہمیشہ یادگاررہیں گے۔ 22جنوری 1981ء کو صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد آپ کوپولی کلینک اسلام آباد میں داخل کیا گیا جہاں آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی تدفین آپ کی وصیت کے مطابق کراچی کے ملک پلانٹ قبرستان میں کی گئی۔ آپ کی وفات کے بعد جامعہ کراچی میں آپ کے نام سے چیئرقائم کی گئی۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی چیئر جو کہ ابتداء میں شعبہ اسلامی تاریخ میں قائم کی گئی تھی۔

مزید : کالم


loading...