مولانا عبید اللہ ابن مفتی محمد حسنؒ

مولانا عبید اللہ ابن مفتی محمد حسنؒ

کشادہ پیشانی ، ہشاش چہرہ ،بشاش مکھڑا، ضاحکۃ مستبشرۃ۔چہرے پر براق داڑھی آپ کے حسن پر مستزاد تھی۔بولتے تو علم کے موتی رولتے تھے۔ہم نے ان کو سب سے پہلے 1965ء میں دیکھا، اس وقت جوانی بھر پورتھی ۔ داڑھی میں ایک بال بھی سفید نہیں تھا جو عمر کی طوالت یا بڑھاپے کی چغلی کھائے۔ مولانا محمد عبیدا للہ کے والد مفتی محمد حسن تھے۔ انہوں نے امرتسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا۔ اس سے کثیر تعداد میں اہل علم نے اپنی پیاس بجھائی۔ مفتی محمد حسن ہی کی سرپرستی میں مولانا عبیداللہ مسند تدریس پر فائز ہوئے۔ اس جگہ مفتی محمد حسن ؒ کے حوالے سے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ آپ بڑے منجھے ہوئے استاد تھے، پڑھاتے تھے۔ مفتی محمد حسن امرتسر سے ہجرت کر کے پاک سر زمین کے شہر لاہور میں آ بسے تھے اور یہاں انہوں نے حضرت مولانا اشرف علیؒ کے نام سے موسوم جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ مولانا اشرف علیؒ سے بیعت ہوئے۔ صدی پہلے کے لوگوں کو علم ہے کہ کوئی عالم اس وقت تک مسند تدریس پر قدم نہ رکھتا، جب تک کہ کسی صاحب دل کی صحبت میں سلوک کی منازل طے نہ کرے اور ظاہری ،علمی وجاہت کے ساتھ اپنے باطن کو بھی اجالنے کا سامان نہ کرے۔باطن کا اجالناکسی صاحب نظر کی راہنمائی، صحبت صالح اور ذکراللہ کے بغیر ممکن نہیں۔

مولانا عبیداللہ کے والد مولانا مفتی محمد حسن اچھے بھلے استاد تھے، پڑھاتے تھے، لیکن دل مطمئن نہ تھا۔ مفتی محمد حسن باطنی کمالات اور تطہیر باطن کے لیے کسی صاحب نظر کی تلاش میں تھے ۔ ان کی نظر خانوادۂ حاجی نور محمدجھنجانوی کے گل سرسبد اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیض یافتہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ پر جا کر ٹھہری ۔مولانا اشرف علیؒ امرتسر سے بہت دور ضلع یوپی کے شہر تھانہ بھون میں رہتے تھے ۔ طلب صادق ہو تو زمین کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں، دل کی قربتیں بڑھ جاتی ہیں ۔مفتی محمد حسن امرتسر سے تھانہ بھون پہنچے ۔ خانقاہ اشرفیہ میں حاضر ہوئے۔ مدعا عرض کیا۔ مولانا اشرف علی طبیب باطن تھے ، طبیب علاج سے قبل تشخیص کرتا ہے ۔ انہوں نے مفتی محمد حسن سے مختلف سوالات کئے پتہ چلاکہ آپ مسند تدریس پر فائز ہیں،دوبیویاں ہیں، طالبان علم کی کثیر تعداد آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوتی ہے۔ مولانا اشرف علی مرض پہچان گئے فرمانے لگے مولاناآپ بڑے عالم ہیں مدرس ہیں ۔ آپ میرے پاس تطہیر باطن کے لیے آئے اس لیے صاف کہتا ہوں آپ قرآن مجید غلط پڑھتے ہیں ۔ قواعدتجوید کا علم نہیں رکھتے۔ پہلے درجے میں آپ قرآن مجید درست کیجئے۔ دوسرے یہ کہ آپ کی سند حدیث بھی مجہول ہے۔مستند صاحب حدیث استاد سے رشتہ تلمذ استوار کیجئے، اس کے لیے آپ کو دارالعلوم دیوبند میں باقاعدہ حدیث کا درس لینا ہوگا۔ تیسری شرط یہ کہ آپ کی دو بیویاں ہیں ۔ بیویاں ایک سے زائد ہوں تو ان کے درمیان عدل قائم رکھنا ضروری ہے۔آپ نے مکتب سلوک میں داخل ہونے کاارادہ کیا ہے اس مکتب میں داخلہ لینے کے لیے متبع شریعت ہونا پہلی شرط ہے۔اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنی ازواج سے لکھوا کر لائیں کہ آپ ان دونوں کے مابین عدل قائم رکھتے ہیں۔

مولانا مفتی حسن ؒ تو کشتیاں جلا کر آئے تھے ۔ ہر چند کہ شرائط سخت تھیں، لیکن فوراً آمادہ ہو گئے۔ اپنا قرآن مجید قواعد تجوید کے مطابق درست کیا ۔ دار العلوم دیوبند سے حدیث کی سند لی ۔ پھر اپنی ازواج کے پاس تشریف لائے، ان سے مدعا بیان کیا، دونوں نے تحریر لکھ دی توآپ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں حاضرہوگئے مولانا نے اپنے ارادت مندوں میں شامل کر لیا۔ تطہیر باطن کا عمل شروع ہوا پھر اس مقام پر پہنچے کہ مولانا اشرف علی ؒ نے خرقہ خلافت عطا کیا۔ مولانا عبیداللہ اسی چشمہ صافی سے فیض یافتہ تھے اور اس طرح آپ کا تعلق میاں جی نور محمد جھنجانوی سے ہوتا ہوا خانقاہ امدادیہ سے منسلک ہو گیا۔ہمارا تعلق جامعہ اشرفیہ سے تاسیس کے وقت ہی سے قائم ہو چکا تھا، لیکن مولانا عبیداللہ سے ہماری قربت زیادہ نہیں تھی، البتہ قاری محمد طیب ؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند جامعہ اشرفیہ اکثر تشریف لاتے تھے۔میرے والد محترم قاری محمد ظریفؒ کاحضرت قاری محمد طیبؒ کے ساتھ بیعت کا تعلق تھا۔آپ جب بھی جامعہ اشرفیہ تشریف لاتے تو والد مرحوم جامعہ میں حاضر ہوتے اور جتنے روز حضرت قاری محمد طیبؒ صاحب لاہو ر میں قیام فرما رہتے، والد صاحب مرحوم و مغفور بھی لاہور میں رہتے اور زیادہ وقت حضرت قاری طیب صاحب کی خدمت میں گزارتے تھے۔ میری خوش بختی کہ والد صاحب اللہ والوں کی صحبت سے فیض یاب کرنے کے لیے مجھے بھی اپنے ہمراہ لے آتے ۔ اس طرح مجھے اکابر سے قربت کے بہت مواقع ملتے رہتے تھے۔

مولانا عبیداللہ صاحب کو میں نے دو مواقع پر خوش بلکہ بہت ہی خوش دیکھا۔ ایک پہلی ملاقات میں ، دوسرے جامعہ اشرفیہ کی تاسیس کے پچاس برس پورے ہونے پر مولانا نے اس موقع پر تمام فاضلین کو جامعہ اشرفیہ میں مدعو کیا۔بڑی خوشی سے فرماتے تھے میری خواہش ہے کہ ایک مرتبہ جامعہ سے فارغ التحصیل علماء و صلحا کو جمع کروں اور اکٹھا دیکھ لوں ۔ یہ خواہش اللہ نے پوری کر دی۔یوں تو مولانا عبیداللہ خوش طبع تھے ہمیشہ خوش رہتے ہر ایک کوخوش رکھتے اس عادت میں ان کا عمل اس فرمان رسول ؐکے مطابق تھا جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’مسلمان کوخوش روئی سے ملنا بھی صدقہ کا درجہ رکھتا ہے‘‘ مولانا عبید اللہ جس سے بھی ملتے کھِلتے اور کھلے ہوئے چہرے سے اس طرح ملتے کہ ملنے والا دیکھتے ہی خود بھی کھِل اٹھتا۔ اس کشادہ روئی میں آپ قلب و نظر کے ساتھ ہوش و خرد بھی شکار کر لیتے تھے۔ مخاطب کو پتہ ہی نہ چلتا کہ وہ ہوش و خرد سے تو بے خود ہوا ہی ہے لیکن نظر سے لے کر قلب کی دنیا کا سودا بھی کرآیا ہے، ان کے چہرے سے علمی وجاہت ٹپکتی تھی۔ دیکھنے والا مسحور و مبہوت ہوئے بغیرنہ رہتا۔ان کی خدمت میں بیٹھ کرعلمی سکون ملتا۔ اکابر کے نادر واقعا ت کا علم ہوتا اور بہت سے علمی نکات کھلتے چلے جاتے تھے۔ ا ن میں شگفتگی بھر پور تھی۔ ہم نے ان کو پہلی مرتبہ1965ء میں زیادہ قریب سے دیکھا لیکن ہم انہیں جانتے نہیں تھے۔ جب جانتے ہی نہ تھے تو پہچانتے بھی نہیں تھے۔ ہم نے اپنے ساتھی کے کان میں سرگوشی کی: ’’یہ کون بزرگ ہیں؟‘‘انہوں نے بتایا یہ مولانا عبیداللہ ہیں مفتی محمد حسن صاحب کے بڑے صاحبزادے۔پھر ہماری قربتیں بڑھتی رہیں۔ زیادہ قرب اس وقت ہوا جب ہمیں مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی قائم کردہ تنظیم عالمی رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

مولانا عبیداللہ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ دینی علوم و فنون کی ابتدائی کتب کا آغاز مولانا اشرف علی تھانویؒ سے کیا ۔دورۂ حدیث کی تکمیل کے لیے دنیا کی عظیم اسلامی درس گاہ دار العلوم دیوبند سہارن پور میں داخلہ لیا۔حدیث کی سب سے بڑی کتاب الجامع الصحیح للبخاری کا درس براہ راست مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے لیا ۔ حضرت مدنی کے درس میں بخاری کی احادیث کو طلباء کے سامنے بالجہر پڑھنے کی سعادت آپ کو حاصل ہوتی تھی۔ آپ کو جن دیگر اساتذہ سے تلمذ کا شر ف حاصل ہوا، ان میں مولانا انور شاہ کاشمیری ، مولانا اعزاز علی، مولاناابراہیم بلیاوی ، مولانا محمد نافع گل، مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی شامل ہیں ۔

یہ 1941ء تھا جب آپ نے دار العلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی، پھر اسی درس گاہ میں افتاء کی علمی منازل طے کیں ۔ اسی دوران آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی فاضل کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا اور اپنے والد مفتی محمد حسن ؒ کی سرپرستی میں مسند تدریس پر فائز ہوئے ۔ سب سے پہلے آپ نے بطور مدرس جس درس گاہ میں قدم رکھا، اس کا نام مدرسہ نعمانیہ تھا ۔مدرسہ نعمانیہ امرتسر میں مفتی محمد حسن ؒ نے قائم کیاتھا۔ تشکیل پاکستان کے بعد ہندوستان سے مسلمانوں کا انخلا شروع ہوا تو آپ اپنے والد صاحب کے ہمراہ لاہور آگئے۔ لاہور میں جامعہ اشرفیہ کا قیام عمل میں آیا تو آپ نے یہاں بھی علمی خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ اسی دوران مولانا رسول خاں سے بھی اکتساب فیض کیا ۔ مولانا رسول خاں کا مرتبہ علماء کی صف میں بہت عظیم تھا۔ مولانارسول خاں دار العلوم دیوبند میں شیخ التفسیر تھے، پھر آپ اورئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بیس برس تک طلباء کی علمی پیاس بجھاتے رہے۔ اورئنٹل کالج میں شعبہ عربی کے صدر مولوی شفیع ؒ تھے جو عربی کے بڑے فاضل تھے، آپ مولانا رسول خاں کی صلاحیتوں کے بہت معترف تھے ۔ انہی کی تحریک اور کاوش سے آپ نے اورئنٹل کالج میں تدریس کی ذمہ داریاں قبول کی تھیں۔مولانا عبیداللہ کا یہ وصف تھا کہ آپ ہر معاملے میں اعلیٰ اور ارفع مقام حاصل کرنے کے متمنی ہوتے تھے شاید اسی لئے آپ نے اپنے فرزندان کے نام تلاش کر نے میں اسم تفضیل کا صیغہ ہی استعمال کیا۔آپ کے پانچ بیٹے ہیں ۔ آپ کی علمی میراث کے وارث ہیں جن کے نام احمد عبید، ارشد عبید، امجد عبید، اسعد عبید اور اجود عبید ہیں۔مولانا عبید اللہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف آپ کی زندگی میں ہی حکومتی حلقوں میں بھی کیا گیا۔ آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، پنجاب یونیورسٹی کے ممبر ،سلیکشن بورڈ مرکزی نائب صدر وفاق المدارس پاکستان رہے۔ حکومت پاکستان نے آپ کو ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔زندگی کو آخر فنا ہے ۔ بقا صرف اللہ کو حاصل ہے قرآن نے سند دی : ’’کل من علیھا فان ویبقٰی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام‘‘ مولانا عبیداللہ دنیوی حسنات سمیٹ کر بالآخر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے:

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

مزید : کالم


loading...