انڈین ائرفورس: چند حقائق

انڈین ائرفورس: چند حقائق
 انڈین ائرفورس: چند حقائق

  


کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا بھارت کے آرمی چیف نے یہ بلند بانگ اعلان داغ کر ساری دنیا کو حیران کر دیا تھا کہ انڈیا کی مسلح افواج پاکستان اور چین کی مشترکہ افواج کا بیک وقت مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اس موضوع پر ہمارے میڈیا پر بہت لے دے ہوئی تھی اور ہم جیسے مبصروں نے الٹے سیدھے تبصرے بھی کئے تھے مگر چین حسبِ معمول چپ رہا تھا۔ یہ درست ہے کہ انڈیا نے انہی ایام میں ایک اضافی ماؤنٹین کور کھڑی کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لئے بھارتی وزارت خزانہ نے ابتدائی اخراجات بھی جو کئی ہزار کروڑ تھے، جاری کر دیئے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ’چُپ چپاں‘ سی ہو گئی۔ پاکستان میں ہم نے اس بڑھک کو ہاٹ پرسوٹ (Hot Pursuit) اور سرجیکل سٹرائک (Surgical Strike) کی طرح کی ایک اور ’بڑھک‘ جان کر خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد جوں جوں وقت گزرا، یہ خبریں آنے لگیں کہ انڈین آرمی کے پاس پاکستانی اور چینی محاذوں پر لڑنے کے لئے نہ مطلوبہ ہتھیار ہیں اور نہ گولہ بارود ہے۔ اپنی فورسز کی کم مائیگی کا یہ اعتراف بھی بھارت کے اربابِ ریاست کو سخت ناگوار گزرا کہ انہوں نے ایک پروفیشنل صداقت کو طشت ازبام کرنے کا جرم کیوں کیا ہے۔ پھر انڈین نیوی کی پروجیکشن کا بیڑا اٹھایا گیا۔ امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر بحرہند میں مشترکہ بحری مشقیں کی گئیں۔ اپنے تین طیارہ برداروں کی کاری قوتِ ضرب کا بڑھ چڑھ کر ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ اپنی ایٹمی آبدوز کی تشہیر کی گئی اور دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ اگر چین گوادر کی بندرگاہ کو ایک بین الاقوامی بحری مستقر (Naval Base) میں تبدیل کرنے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے تو بھارتی بحریہ بھی بلیوواٹر نیوی کا اعزاز پانے میں اب منزلِ مقصود کے بہت قریب پہنچ گئی ہے۔

کچھ ایسا ہی ذکر انڈین ائر فورس کا بھی فرمایا گیا۔ کہا گیا کہ فرانس سے 126 رافیل جیٹ طیارے خریدے جا رہے ہیں۔ دراصل ان طیاروں کی خریداری کا غوغا کئی برسوں سے اٹھایا اور مچایا جا رہا تھا۔ کانگریسی حکومت کے دس سالہ دور میں بھی ایک تو سوخوئی۔30 ملٹی رول طیاروں کی خریداری کا ڈول ڈالا گیا اور دوسرے فرانس سے رافیل کی خریداری کا بھی چرچا کیا گیا۔ فرانس کے صدر موسیو ہالینڈے کو دہلی تشریف لانے کی دعوت دی گئی۔ صدر امریکہ تو یوم جمہوریہ ء ہند پر پہلے ہی تشریف لا چکے تھے اور اپنی قوم کو یہ نوید سنا چکے تھے کہ : ’’میں نے انڈیا سے اپنے 50ہزار کاریگروں کے روزگار کا معاہدہ کر لیا ہے۔‘‘ مودی صاحب کی جیب چونکہ بھاری تھی اس لئے انہوں نے Make in Indiaکی رٹ لگانا شروع کر دی۔ یعنی یہ فرمایا کہ تمام بھاری عسکری سازوسامان ’’انڈیا میں بناؤ‘‘، اپنی جیبیں بھی بھرو اور بھارت ورش کی عسکری صنعت کی اساس بھی مضبوط کرو۔۔۔ لیکن پھر نجانے کیا ہوا۔ شائد فرانس نے کہاکہ انڈیا میں رافیل بنانے کے لئے وہ تکنیکی سہولیات، سمجھ بوجھ اور ماہر افرادی قوت گراؤنڈ پر موجود نہیں جو یہ بوجھ اٹھا سکے۔

انڈیا نے ایک طویل عرصے تک روس کو بھی چکمہ دیئے رکھا کہ ہم رافیل نہیں بلکہ سوخوئی خریدیں گے۔ روس پہلے ہی انڈیا میں مگ اور سوخوئی کے بعض ورشن بنانے میں بھارت کی مدد کر رہا تھا۔ لیکن دساور کے یہ سوداگر اور تاجر بھی اتنے سادہ نہیں کہ اپنے ہاتھ کاٹ کر بھارت کے ہاتھوں میں پکڑا دیتے۔ وہ بھارت کو ’’جوابی چکمہ‘‘ دے رہے تھے اور ایسے مگ اور سوخوئی بنا رہے تھے جو روس میں عشروں پہلے بنائے گئے تھے۔ کچھ جھگڑا فی کاپی قیمت کا بھی تھا۔ چنانچہ بھارت سرکار نے فیصلہ کیا کہ فرانس سے رافیل خریدے جائیں گے۔ مودی صاحب پیرس پہنچے لیکن صرف 36 عدد رافیل کی نقد قیمت ادا کرکے واپس دلی تشریف لے آئے۔۔۔ باقی 90 رافیل طیاروں کے مستقبل کے بارے میں بھی ابھی ’چُپ چپاں‘ ہے۔

لیکن آرمی اور نیوی کی طرح انڈین ائر فورس کی حالت بھی خطرناک حد تک ’پتلی‘ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ وہاں کے دفاعی مبصر لکھ رہے ہیں کہ انڈین ائر فورس اس قابل نہیں کہ کسی ’’یک محاذی جنگ‘‘ کا بھی سوچ سکے۔ پچھلے دنوں’’ دی ٹریبون‘‘ اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون میری نظر سے گزرا۔ یہ 9اپریل کے چندی گڑھ سے شائع ہونے والے اس اخبار میں دنیش کمار نے لکھا ہے۔ دنیش، ایک معروف عسکری مبصر ہیں جو بھارتی پریس میڈیا میں عسکری موضوعات پر مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ مضمون (یا کالم) ایک خوبصورت فقرے سے شروع ہوتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’انڈین ائر فورس کے کہن سال فضائی بیڑے کی ریٹائرمنٹ کی رفتار، متبادل انتظامات کرنے کے مقابلے میں کہیں تیز ہے‘‘۔۔۔ قارئین کرام سچی بات یہ ہے کہ اس جملے کے انگریزی ورشن میں جو لطف ہے، وہ ترجمے میں نہیں سمویا جا سکا۔ اس لئے انگریزی فقرہ بھی دیکھ لیجئے:

With the retirement pace fast exeeding the replacement race, the Indian Air Force faces an ageing aircraft fleet.

انگریزی کے الفاظ Pace اور Race کا ہم قافیہ ہونا اور Ratirement اور Replacement کے ہم وزن الفاظ کو جس طرح اس فقرے میں استعمال کیا گیا ہے اس کا شایانِ شان اردو ترجمہ مجھ سے نہیں ہو سکا۔اس کالم میں انہوں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ انڈین ائر فورس کی حالت زار کیا ہے۔ میں دنیش کمار کے چند پیراگرافوں کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔۔۔ وہ لکھتے ہیں:

1۔ ’’نہ صرف یہ کہ انڈین ائر فورس کے سکواڈرنوں کی تعداد کم ہے بلکہ اس کو اور بھی کئی بیماریاں لاحق ہیں جن کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ فضائیہ کی ناقص پلاننگ کی آئینہ دار ہے اور انڈیا کی فضائی قوت کی اہلیت پر بہت منفی اثرات ڈال رہی ہے‘‘۔

2۔’’انڈین ائر فورس دنیا کی چوتھی بڑی ائر فورس ہے جس کے منظورشدہ لڑاکا سکواڈرنوں کی تعداد42 ہے۔ لیکن اس وقت بھارت کے پاس 33لڑاکا سکواڈرن ہیں۔ اگر ہم اس کمی کو طیاروں کی تعداد میں تبدیل کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ ائر فورس کے پاس 144لڑاکا طیاروں کی کمی ہے اور اگر ٹریننگ دینے والے (فی سکواڈرن) دو طیاروں کا حساب بھی لگائیں تو یہ تعداد 162 بن جاتی ہے۔‘‘۔۔۔ [ ایک سکواڈرن میں 16طیارے ہوتے ہیں اور اگر دو ٹرینر طیاروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد فی سکواڈرن 18بن جاتی ہے۔ مترجم]

3۔’’اس گرتی اور کم ہوتی ہوئی تعداد کا مطلب یہ ہے کہ انڈین ائرفورس کھل کر یہ حقیقت تسلیم کر رہی ہے کہ اس کے لئے بیک وقت دو محاذوں (چین اور پاکستان) پر فضائی جنگ میں کودنا بہت مشکل ہے۔اگر بھارت نے دو محاذوں پر جنگ کرنی ہے تو اس کو 45لڑاکا سکواڈرن درکار ہوں گے۔ لیکن صورتِ حال اس سے بھی بدتر ہونے والی ہے، کیونکہ 2022ء تک ان سکواڈرنوں کی تعداد گھٹ کر 33کی بجائے 25 رہ جائے گی۔ اور یہ حدِ عمر صرف چھ سال دور ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو مَیں نے اپنے مضمون کے آغاز میں ایک فقرے میں بیان کر دی تھی کہ : ’’ہمارے عمر رسیدہ فضائی بیڑے کی ریٹائرمنٹ کی رفتار، متبادل انتظامات کرنے کی موجودہ شرح سے کہیں تیز ہے!‘‘۔۔۔ [ہر طیارے کی ایک شیلف اور آپریشنل لائف ہوتی ہے۔ جب کوئی لڑاکا یا ٹرانسپورٹ یا ریکی طیارہ وہ مدتِ زندگی پوری کر لیتا ہے تو اسے ریٹائر کر دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اُڑنے اُڑانے کے قابل نہیں رہتا۔ اگر کوئی فضائیہ اس حد کو کراس کرنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اپنے پائلٹوں کی جانوں سے کھیلنے کا گویا سودا کرتی ہے۔ مترجم]

4۔ ’’ایک اور بات جو مزید پریشانی کا باعث ہے وہ لڑاکا پائلٹوں کا بمقابلہ کاک پٹ باہمی تناسب ہے جو گھٹ کر 0.84 رہ گیا ہے جبکہ انڈین ائر فورس میں منظور شدہ شرح 1.25 ہے۔ پاکستان ائرفورس میں یہ شرح 2.5 ہے‘‘۔۔۔ [اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کے لڑاکا طیاروں میں پائلٹوں کی دستیابی کی شرح، دستیاب طیاروں کے مقابلے میں ایک پائلٹ فی طیارہ سے بھی کم ہے۔ یعنی اگر بھارت کے پاس اس وقت 33لڑاکا سکواڈرن ہیں تو اس میں طیاروں کی تعداد 528 (33x16)ہے جبکہ ان 528 طیاروں کے لئے 443 پائلٹ موجود ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں لڑاکا سکواڈرنوں کی تعداد اگر 20ہے تو اس میں کل لڑاکا طیاروں کو ملا کر 320 (20x16) طیارے بنتے ہیں جن کے لئے پاکستان کے پاس 800 لڑاکا پائلٹ (2.5x320) موجود ہیں،الحمدللہ ۔۔۔ مترجم]

5۔’’مزید یہ کہ انڈین ائر فورس میں نہ صرف یہ کہ مطلوبہ لڑاکا طیاروں کی تعداد کم ہے بلکہ ان کو اُڑانے والے پائلٹوں کی بھی قلت ہے۔۔۔ انڈین ائرفورس کے پاس جو جدید ترین طیارے ہیں وہ روس کے بنائے ہوئے سوخوئی۔30 ملٹی رول فائٹر ہیں جو آج سے تقریباً 20سال پہلے جون 1997ء میں فضائیہ میں انڈکٹ کئے گئے تھے۔ ان کے علاوہ دوسرے لڑاکا طیارے بھی 26سے لے کر 40برس تک پرانے ہیں۔ روس سے جو معاہدہ کیا گیا تھا اس کی رو سے 272عدد ایس یو۔ 30 انڈکٹ کئے جانے تھے یعنی 15 لڑاکا سکواڈرن۔ لیکن مارچ 2015ء تک صرف 204 طیارے ہی انڈکٹ کئے جا سکے۔ ان ایس یو۔30 کا حال بھی یہ ہے کہ 2007ء سے 2009ء تک کے دو برسوں میں 31عدد ایس یو۔30 گراؤنڈ کرنے پڑے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے ’’فلائی بائی وائر سسٹم‘‘ (Fly by Wire) میں خرابیاں پیدا ہو گئیں تھیں‘‘۔[فلائی بائی وائر سسٹم کا مطلب وہ سسٹم ہے جو طیارے کی پرواز وغیرہ کو الیکٹرانک ذرائع سے کنٹرول کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں اسے آپ انسٹرومینٹل فلائنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فلائی بائی وائر سسٹم اور انسٹرومینٹل فلائنگ سسٹم میں ٹیکنیکل پیمانوں کا کچھ فرق ہے جو عام قاری کے لئے جاننا کچھ ایسا ضروری نہیں۔ مترجم]

قارئین کرام! میں نے دنیش کمار کے کالم کے درج بالا پانچ پیراگرافوں کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ چونکہ ائر فورس ایک جدید اور ٹیکنیکل آرم (شعبہ) ہے اس لئے اس کو اردو زبان میں بیان کرنا ایک مشکل کام ہے۔۔۔ بھارت نہ صرف یہ بلکہ تین آواکس (AWACS) بھی اپنے ترکش میں رکھتا ہے جو اسرائیل سے (2009ء سے 2012ء کے درمیانی عرصے میں) خریدے گئے تھے، ان کی مشکلات الگ ہیں۔ جس کے لئے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ انڈیا کا اپنا تیار کردہ ہلکا لڑاکا طیارہ تیجا (Teja) ہے۔ یہ ’’تیجا سنگھ‘‘ اس نے 33سال پہلے 1983ء میں بنانا شروع کیا تھا لیکن ابھی تک انڈین فورس نے اسے شرفِ انڈکشن نہیں بخشا کیونکہ وہ ہنوز اس قابل ہی نہیں ہو سکا کہ اسے فضائیہ میں شامل کیا جائے۔ دوسری طرف ماشا اللہ پاکستان کے JF-17 تھنڈر کو دیکھیں!۔۔۔ حاصل کلام یہ کہ انڈین فضائی بھینسے کی فربہ اندامی دیکھ کر پاکستانی چیتے کی ’’پتلی کمریا‘‘ کا غم نہیں کرنا چاہیے!

مزید : کالم


loading...