گرمی کی شدت اور لوڈشیڈنگ

گرمی کی شدت اور لوڈشیڈنگ

  



یہ درست ہے کہ گرمی بڑھے گی تو بجلی کے استعمال میں اضافہ ہو گا کہ صاحبِ حیثیت حضرات کے زیادہ ائر کنڈیشنر چلیں گے، نچلے متوسط طبقے والوں کو بھی کل تک محسوس ہونے والی ائر کنڈیشنر کی عیاشی اب ضرور ت محسوس ہو گی اور عام شہری بھی پنکھے کی ہوا لے لیتے ہیں، اب یہ عام فہم سی بات ہے، جس کا محکمہ والوں کو پہلے سے علم ہوتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ڈیموں سے کتنا پانی خارج ہو گا اور اس سے کتنی پن بجلی پیدا ہو گی، ان حکام کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس موسم میں پن بجلی کے علاوہ تھرمل اور دوسرے ذرائع سے کتنی بجلی مل سکے گی۔ یوں یہ حساب کتاب کا مسئلہ بن جاتا ہے اور جب یہ اندازہ اور حساب موجود ہے تو پھر پیداوار اور استعمال کے فرق کو کم کرنا ہی فرض بنتا ہے افسوس کا مقام ہے کہ ان حکام نے یہ حساب ہی نہیں لگایا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کمی کو پورا کرنے کے لئے تھرمل کی پیداوار میں اضافہ کر لیا جاتا، اب تو فرنس آئل بھی سستا ہے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایسا بھی نہیں ہو رہا ہے اور کمی سات ہزار میگاواٹ سے بڑھ گئی، جس کی بنا پر لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافہ کیا گیا، حتیٰ کہ مرمت کے نام پر ایک ہی وقت میں کئی کئی فیڈر بند کئے گئے۔ یوں عوام کو پریشان ہونا پڑا، دیہات میں تو دورانیہ12 گھنٹے سے بھی بڑھ گیا اور پھر شہر بھی متاثر ہوئے، جن میں دس گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، مرمت کے لئے بجلی بند کر دینے کے علاوہ ایک دلچسپ طریقہ ایجاد کیا گیا، جو یوں ہے کہ ایک گھنٹے والی لوڈشیڈنگ کو10سے15منٹ زیادہ کر دیا جاتا ہے۔ اس سے مجموعی طور پر کافی بچت ہوتی ہے، گرمی کی شدت اور بجلی کی قلت نے عوام کو پریشان کیا تو حکومت مخالف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، اب تو وزیر پانی و بجلی کے علاوہ خود وزیراعظم کو نوٹس لینا ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...