چیف جسٹس کی عدالت میں وکلا کی نعرے بازی

چیف جسٹس کی عدالت میں وکلا کی نعرے بازی

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے وکیل کا لائسنس معطل کرنے کے خلاف درجنوں وکلا چیف جسٹس اعجاز الحسن کے کمرۂ عدالت میں پہنچ گئے اور وہاں شدید نعرے بازی کی۔ جسٹس شمیم احمد خان نے گزشتہ روز عمران رضا چدھڑ ایڈووکیٹ کا لائسنس معطل کر دیا تھا،اُن پر نامناسب رویہ اپنانے کا الزام تھا۔کمرۂ عدالت میں نعرے بازی کے بعد وکلا کی بڑی تعداد صدر ہائی کورٹ بار رانا ضیاء الرحمن اور سیکرٹری انس غازی کی قیادت میں چیف جسٹس اعجاز الحسن کے پاس پہنچ گئی اور لائسنس کی معطلی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔وکلا نے ججوں کے رویئے کے خلاف احتجاج کیا۔ چیف جسٹس نے وکلا سے کہا کہ وہ سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کوٹ اپیل دائر کریں، جس پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

ویسے تو وکلا، ججوں کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں، اُن کے خلاف نامناسب رویہ بھی اختیار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ عدالتوں کو تالے بھی لگا دیئے جاتے ہیں، لیکن یہ وبا ابھی تک اعلیٰ عدالتوں میں نہیں پہنچی تھی، عموماً ماضی میں وکلا کا احتجاج لوئر جوڈیشری کے ججوں تک محدود رہتا تھا، لیکن ایسے لگتا ہے کہ اب یہ وائرس پھیل رہا ہے اور احتجاج کا سلسلہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے، ویسے تو برسرِ عدالت بعض اوقات وکلا کی ججوں سے تلخ کلامی بھی ہو جاتی ہے اور جہاں تک کسی وکیل کے لائسنس کی معطلی کا تعلق ہے تو یہ بھی کبھی کبھار ہو جاتی ہے، لیکن چیف جسٹس کے کمرۂ عدالت میں جس کا احترام وکلا سمیت ہر کسی پر لازم ہے اور جہاں اونچی آواز میں بات کرنے کو بھی نامناسب سمجھا جاتا ہے وہاں پہنچ کر وکلا کا باقاعدہ نعرے بازی کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے، جس وکیل کا لائسنس معطل کیا گیا تھا اسے اِس کے خلاف قانونی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے تھا اور اِسی بات کا مشورہ جنابِ چیف جسٹس نے وکلا کو بھی دیا،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے وکلا حضرات فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے وکلا کی طاقت کا شارٹ کٹ اختیار کر کے مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے اِسی لئے انہوں نے کمرۂ عدالت کو عوامی انداز کی نعرے بازی کا میدان بنا لیا۔ یہ درست ہے کہ بار ایسوسی ایشنیں وکلا کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں، لیکن اِن کا مقصد یہ بھی نہیں کہ فاضل ججوں کے فیصلوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے ’’راست اقدام‘‘ کی طرح کا سیاسی راستہ اختیار کر لیا جائے۔

ماضی میں بہت سے چیف جسٹس اور جج حضرات وکلا کو تلقین کرتے رہے ہیں کہ وہ ہڑتالوں اور مظاہروں سے گریز کریں اور اپنی تمام تر توانائیاں قانونی لڑائی لڑنے پر مرکوز رکھیں، لیکن وکلا کے تازہ مظاہرے سے لگتا ہے کہ انہوں نے قانونی لڑائی لڑنے کے بجائے سیاسی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہم اس بحث میں پڑے بغیر کہ وکیل کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ درست ہے یا نادرست،یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ بہرحال دفعہ30 کے کسی مجسٹریٹ کا نہیں، ہائی کورٹ کے فاضل جج کا فیصلہ تھا اور انہوں نے اگر وکیل کو یہ سزا دی تو سوچ سمجھ کر ہی دی ہو گی، اِس وقت یہ مقدمہ اور اِس ضمن میں وکیل کا طرزِ عمل ہمارا موضوع بحث نہیں، ہم تو وکلا کے اس ردعمل پر بات کر رہے ہیں جو بہرحال قانون دان برادری کے شائستہ طرزِ عمل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالتوں میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی کے خلاف ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کے حق میں جاتے ہیں، اب جس کے خلاف جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اس سے خوش تو نہیں ہو گا چاہے فیصلہ سو فیصد درست، زمینی حقائق اور قانون کے عین مطابق ہو، حتیٰ کہ جن قاتلوں کو یہ امید ہوتی ہے کہ اُن کے نامور وکیل اپنی قانونی مہارت سے ان کو پھانسی کے پھندے پر جھولنے سے بچا لیں گے، اُنہیں بھی اگر سزا ہو جائے تو وہ بھی اس پر خوشی تو محسوس نہیں کرتے، ایسے فیصلوں میں اُن کا ردعمل بھی سامنے آ جاتا ہے، لیکن وکلا نے جس طرح اپنے وکیل ساتھی کے لائسنس کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ اگر کل کلاں کسی وکیل کا موکل بھی اپنے خلاف فیصلہ سُن کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چیف جسٹس کے کمرۂ عدالت میں آ کر نعرہ بازی کرنے لگے تو اُنہیں کیسا لگے گا؟ اور اگر یہ سلسلہ چل نکلے تو کہاں رُکے گا؟ اِس پر وکلا برادری کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پچھلے دِنوں یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ بعض وکلا کی ڈگریاں جعلی ہیں اور وہ ان کی بنیاد پر نہ صرف کالا کوٹ پہن کر بار کی رکنیت حاصل کر لیتے،بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے ہیں اب فرض کریں ایسے وکلا کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے اور اُن کے خلاف ایکشن لیا جانے لگے تو کیا وکلاء اُن کی حمایت میں بھی میدان میں کود پڑیں گے؟وکلا کو اپنے ساتھیوں کی حمایت میں بلا سوچے سمجھے کودنے کی بجائے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ جس وکیل کی حمایت میں میدان میں نکلے ہیں کیا اس کا اپنا رویہ وکالت کے پیشے کے شایان شان تھا؟عدالتوں میں جن لوگوں کے خلاف فیصلے ہوتے ہیں وہ بھی اگر وکلا کی طرح غیر شائستہ ردعمل ظاہر کرنے لگیں تو پھر پورا عدالتی نظام کٹہرے میں کھڑا ہو جائے گا اور معلوم نہیں معاشرہ نراجیت کے راستے پر چل کر کسی گہرے کنوئیں میں گر جائے۔ فاضل چیف جسٹس نے وکلاء کو زیر بحث مقدمے میں اپیل کرنے کا جو مشورہ دیا ہے وکلاء کو اِسی پر چل کر قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور نعرے بازی کے کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہئے۔ وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کے لئے بھی اگر ممکن ہو تو وہ اپنے ساتھیوں کو اپنی اصلاح پر مائل کریں، لیکن بار کے عہدیدار بھی ایسے مواقع پر اپنی طاقت کے اظہار کو ترجیح دیتے ہیں اِس لئے ہمیں خدشہ ہے کہ عدالتی وقار کے منافی ایسی سرگرمیوں کا سلسلہ اگر دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا تو اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔

مزید : اداریہ


loading...