پانامالیکس، سینٹ اور قومی اسمبلی میں ہنگامہ، اپوزیشن کا بائیکاٹ

پانامالیکس، سینٹ اور قومی اسمبلی میں ہنگامہ، اپوزیشن کا بائیکاٹ

اسلام آباد سے ملک الیاس

پاناما لیکس کی ابھی پہلی قسط کی ہنگامہ خیزیاں ختم نہ ہوپائی تھیں کہ دوسری قسط نے ایک بار پھر سیاست کے میدان میں نئی کھلبلی مچا دی ہے مزید کئی اہم شخصیات کے ہیں،آف شور کمپنیوں والے مزید 400پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں جن میں پاکستانی سیاست دان ، تاجر اور دیگر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں ۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے دوست سید ذوالفقار عباس بخاری اپنی بہنوں کے ساتھ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ،اس خاندان کی ملکیت میں 6کمپنیاں ہیں ، پاناما لیکس کی جاری کی گئی دوسری فہرست میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان بھی شامل ہیں ۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں وزیر صحت نصیر خان کے بیٹے محمد جبران اور بھائی ظفر اللہ خان کی نشاندہی ایک آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈرز کی حیثیت سے ہوئی ہے ۔بینظیر بھٹو کے کزن طارق اسلام کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔ سابق صدرآصف زرداری اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے قریب سمجھے جانے والے تاجر عرفان اقبال پوری کی اپنے بیٹے کے ساتھ تین کمپنیاں ہیں ۔ پانامہ لیکس کی دوسری قسط نے سیاست میں مزیدہلچل مچادی ہے ابھی ایک اور قسط آنے کی بھی شنید ہے ۔

ایک طرف پانامہ لیکس کی قسطیں چل رہی ہیں تودوسری طرف پارلیمنٹ ہاس اسلام آبادمیں اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ٹی او آرز کے معاملے پر جو خط لکھا ہے اس کے جواب کا انتظار ہے۔ پارلیمنٹ ہی ایک فورم ہے جس کیلئے پیپلز پارٹی نے لڑائیاں لڑیں۔ وزیراعظم پارلیمنٹ آ کر پاناما لیکس معاملے کی وضاحت کریں، وزیراعظم اپنے اثاثوں اور ٹیکس کی تفصیلات پارلیمنٹ میں آ کر دیں۔ اپوزیشن کی حکومت سے کوئی لڑائی نہیں وزیراعظم خود کہتے ہیں ایشوز پر پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے،اس کے ساتھ ہی ساتھ متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پانامہ لیکس کے معاملے پر ہنگامہ دیکھنے میں آیا، وزیر اعظم کی جانب سے پارلیمنٹ میں آکر وضاحت دینے تک دونوں ایوانوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیاگیا،قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک دوسرے پر کاٹ دار لفظوں کے وارکیے، ساتھ ہی اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کردیا اور دھمکی بھی دیدی کہ جب تک وزیراعظم ایوان میں نہیں آئیں گے بائیکاٹ جاری رہے گا، اجلاس میں شیخ رشید نے پاناما لیکس پر تقریر شروع کی تو حکومتی ارکان نے ہوٹنگ شروع کر دی اسی دوران شیخ رشیداور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ میں جھڑپ بھی ہوئی ،اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ملک میں پاناما لیکس کی آگ لگی ہوئی ہے وزیراعظم ایوان میں موجود نہیں ہیں،وزیراعظم اپنے اثاثوں اور ٹیکس کی تفصیلات پارلیمنٹ میں آکر دیں۔ سپیکر نے پاناما پیپرز پر تحریک التوا قواعد کے مطابق لانے پر زور دیا تو اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ۔ اسپیکر نے اپوزیشن کو منانے کیلئے چار وزرا ، پرویز رشید ، ریاض پیر زادہ ، برجیس طاہر اور زاہد حامد کو بھیجا مگر وہ مشن میں ناکام ہو گئے ۔

اسی طرح کی صورتحال سینٹ میں بھی دیکھنے میں آئی جہاں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاناما لیکس پر ایوان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے جب تک وہ الزامات کا پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیتے واک آٹ کرتے رہیں گے ، اعتزاز احسن کی تقریر کے بعد متحدہ اپوزیشن ارکان نشستوں سے اٹھے اور قائد کے ہمراہ واک آٹ کر گئے ، تاہم کچھ دیر بعد وہ ایوان میں واپس آ گئے

ایک طرف اپوزیشن ایوان کے اندر اور باہر حکومت کیخلاف محاذ کھولے ہوئے ہے تو دوسری طرف حکومتی اراکین اسمبلی بھی اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں، پشاور میں پی ٹی آئی جلسہ پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ سینیٹرپرویزرشید کاکہنا تھا کہ مشرف کے ساتھیوں کو گنتے ہوئے عمران اپنا آپ بھول جاتے ہیں،خان صاحب کی مزید اے ٹی ایم مشینیں منظر عام پر آ گئی ہیں،کپتان نے صوبائی حکومت کے وسائل استعمال کرکے انتخابی جلسہ کیا وہ اپنے ناکام جلسے چھپانے کیلئے رات کا سہارا لیتے ہیں۔ عمران خان جس احتساب کی مثال دے رہے ہیں اس کمیشن کا ڈی جی خود انصاف مانگ رہا ہے،خیبرپختونخواہ کے عوام کو تین سال میں نیا پختونخوا نظر نہیں آیا، عمران خان تین سال میں کنٹینر سے نہیں اترے اس لئے وزیراعظم محمد نواز شریف کو ان کی خدمت کیلئے نکلنا پڑاہے، دوسری طرف ن لیگی رہنما طلال چودھری کاکہنا تھا کہ حکومتی ٹی او آرز سے بلاتفریق احتساب ہو گا ، عمران کرپٹ لوگوں کو بچانا چاہتے ہیں، لیگی رہنما دانیال عزیز کاکہنا تھا کہ دبئی لیکس اور تازہ لیکس میں اپوزیشن کے نام سامنے آ گئے ہیں، حکومت احتساب چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن احتساب سے بھاگ رہی ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ نیا خیبرپختونخوا بنانے کے نعروں اور دعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے، عوام ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے،

جماعت اسلامی نے بھی اپنے احتجاج کے دائرہ کار بڑھاتے ہوئے 23مئی سے خیبر سے کراچی تک ٹرین مارچ کرنیکا اعلان کردیا ہے،ساتھ ہی ساتھ امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ میں بل بھی لائیں گے ،23مئی کو خیبرسے کراچی تک ٹرین مارچ کا مقصد عوام میں کرپشن کیخلاف آگاہی پیدا کرنا ہے ، کرپشن کی وجہ سے ہر بچہ آئی ایم ایف کا مقروض ہے، کچھ خاندان سرکاری اور سیاسی عہدے کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح خون چوس رہے ہیں، اشرافیہ کا کمال ہے کہ تھر کے بچے مررہے تھے تو لاڑکانہ میں 1ارب روپے کا جشن منایا گیا،اس وقت پاکستان میں کرپشن کرنے والوں کیلئے علیحدہ علاقہ، سکول، ہسپتال اور قانون سب کچھ الگ ہے اور کرپشن میں ملوث حکومتی اور اپوزیشن ارکان سبھی شامل ہیں، انکا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی صرف وزیراعظم کا احتساب نہیں حکومتی اور اپوزیشن ارکان سمیت سب کا بلاامتیاز احتساب چاہتی ہے تاہم اس حوالہ سے کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی احتساب کے نام پر سسٹم ڈی ریل ہونا چاہیئے، پانامہ لیکس میں جن لوگوں کے پیسے ہیں وہ بچنے کی کوشش کررہے ہیں،دنیا بھر میں پانامہ لیکس پر تحقیقات بھی ہوئیں اور باضمیر لوگوں نے استعفا بھی دیا ،نیب ماضی کی طرح پلی بارگین کرکے چوروں کو جانے نہ دے ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...