ماضی میں ہلاکتوں کے باوجود ، نہر میں نہانے کا سلسلہ پھر شروع انتظامیہ خاموش

ماضی میں ہلاکتوں کے باوجود ، نہر میں نہانے کا سلسلہ پھر شروع انتظامیہ خاموش

 لاہور(بلال چودھری)گرمی سے ستائے شہریوں کو نگلنے والی لاہور کی خونی نہر میں گرمی آتے ہی نہانے کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے جبکہ پولیس،ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی تینوں نہانے والوں کو روکنے سے کترا تے نظر آ رہے ہیں ،شہریوں کو نہر میں نہانے سے روکنے کے لیے محکمہ آبپاشی کے کینال مجسٹریٹ کی طرف سے محض تنبیہی بورڈ آویزاں کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے27 کلومیٹر طویل نہر میں روزانہ نہانے کے لیے آنے والے تقریبا 20 ہزار سے زائد شہریوں کی حفاظت سے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کینال میں روز بروز بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے نہانے کے لیے آنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی نہر میں لوگوں کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا جا رہا ہے ۔ محکمہ آبپاشی کی جانب سے نہر کے کچھ حصوں پر اس حوالے سے چھوٹے چھوٹے بورڈ کئی سالوں سے آویزاں ہیں جو اتنے اونچے ہیں کہ قریب جانے پر ہی ان پر لکھی ہوئی تحریر نظرآتی ہے۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی نہانے والوں کو روکنے کے کوئی انتظامات نظر نہیں آ رہے ہیں اور حسب روایت ان کا کام صرف ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکالنے تک ہی محدود ہو جائے گا اس حوالے سے جب سب ڈویڑنل کینال آفیسر(کینال مجسٹریٹ)سے ان کے دفتر میں ملاقات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ لاہور کینال میں نہانے پرمحکمہ آبپاشی کی جانب سے پابندی عائد ہے اور جہاں زیادہ افراد نہاتے ہیں وہاں ہم نے بورڈز بھی آویزاں کر رکھے ہیں اگر کوئی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہاتا ہے تو ان کو پکڑنا ہماری نہیں بلکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینال ایکٹ 1975کے سیکشن 70کے تحت اگر کوئی شخص نہری پانی کے بہاؤ کوروکے یا اس کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے کوئی کام کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ سالوں میں پنجاب بھر میں نہروں میں نہاتے ہوئے 2374افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد کم سن بچوں اور نوجوانوں کی ہے ۔ان میں گوجرانوالہ میں 198اور سیالکوٹ میں 192افراد کی ہلاکت وہئی جبکہ صوبائی دارالحکومت تیسرے نمبر پر آتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...