سکھر میں وزیراعظم کی تقریر اور لب و لہجہ کا تاثر اچھا نہیں

سکھر میں وزیراعظم کی تقریر اور لب و لہجہ کا تاثر اچھا نہیں

(کراچی سے نصیر احمد سلیمی )

سکھرسے ملتان موٹروے کی تعمیر کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کی تقریر کو سنجیدہ حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا، اس تقریب میں موجود سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو نظر انداز کر کے اپنی جماعت کے صدر اور سیکرٹری سے خطاب کروانے کا عمل بھی اچھا نہیں تھا، ان حلقوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری تقریب کو اپنی پارٹی کے لوگوں کی رونمائی کا ذریعہ کیوں بنایا گیا بلکہ سنجیدہ حلقے تو اس سے بھی زیادہ وزیراعظم کے الفاظ اور ان کے لب و لہجہ کو ان کے منصب کے تقاضوں کے منافی خیال کر رہے ہیں اور ان کے ان الفاظ کو بھی ناپسند ہی کیا گیا کہ انہوں نے اپنے مخالفوں سے کہا میں تمہارے حلقوں میں موٹر وے بنا رہا ہوں اور تم میرے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہو۔ وزیراعظم کو اس طرح کے طنز سے اجتناب کرنا چاہئے تھا اور اس سے بھی اہم سوال یہ کہ گورنر وفاق کے نمائندہ ہونے کے باوجود کیوں موجود نہیں تھے۔؟

سیاسی اور صحافتی حلقوں نے حکومتی ترجمان کے اس اعلان کو کہ وزیراعظم جمعہ کے روز ایوان میں آئیں گے۔ درست سمت میں مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم کو جس نے بھی پارلیمینٹ میں آکر وضاحت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اس نے ’’نادان دوست اور دانا دشمن ‘‘کے محاورہ کی حقیقت کو دکھایا ہے۔ وزیراعظم کی تو طاقت ہی پارلیمینٹ کے سامنے جواب دہ ہونے اور آئین کی بالا دستی تسلیم کرنے میں ہے۔ پانامہ لیکس پر اٹھائے جانے والے ہنگامہ سے تو اس کا امکان کم تھا کہ اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ کوئی ایسی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی جس سے حکومت کے دباؤ میں آنے کا تاثر مستحکم ہوتا یا حکومت کے چل چلاؤ کا وقت قریب آنے کا تاثر ابھرتا کیونکہ آزادانہ نقطہ نظر رکھنے والے ماہرین معیشت پانامہ لیکس کے حوالہ سے پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ آف شور کمپنیاں جن ممالک میں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے تو اپنے ممالک میں آف شور کمپنیوں کے ذریعہ ٹیکس میں چھوٹ اور کالے دھن کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے قوانین بنا رکھے ہیں اور پاکستان میں موجود قوانین نے بھی ہماری طاقت ور کرپٹ اور بد عنوان اشرافیہ کو کرپشن اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے سرکاری وسائل کی لوٹ مار کے ذریعے اکٹھی کی جانے والی دولت کو دنیا کے ’’سیف ہیون‘‘ میں رکھنے اور ملک کے اندر کالے دھن کو سفید کرنے کے اتنے محفوظ ’’لوپ ہول‘‘ فراہم کر رکھے ہیں کہ ان کی موجودگی میں قانون کی عدالتوں میں ثابت کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔ البتہ وزیراعظم اور حکومت کے میڈیا مینجرز نے اپنی پیشہ ورانہ نا اہلی اور سیاسی نا پختگی کا مظاہرہ کرکے سارے معاملہ کو جس بری طرح مس ہینڈل کر دیا تھا ممکن ہے کہ وزیراعظم کے پارلیمینٹ میں آ کر وضاحت سے اس نقصان کا کچھ ازالہ ہو جائے جو خراب حکمت عملی سے بچ چکا ہے آئین کے تحت منتخب حکومتیں پارلیمینٹ میں جتنی بھاری عوامی اکثریت بھی رکھتی ہوں اور قانون کے تحت ان کی پوزیشن جتنی بھی مضبوط ہو اس کے باوجود اگر ان کی اخلاقی ساکھ برقرار نہ رہے تو حکومت کا سربراہ اور اس کی پوری حکومت اپنا اعتبار اور اعتماد کھو بیٹھتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کے حکمران کئی عشروں سے اس بحران سے دو چار ہیں۔ جس کی وجہ سے قومی مفاد کے منصوبوں پر سوالیہ نشانات اٹھنا ہماری سیاست کا معمول بن گیا ہے۔ جناب نوازشریف کی حکومت کے شاہانہ انداز حکمرانی نے ان کے ذاتی اوصاف کو بھی پر عیب بنا دیا ہے۔

ان کو اس معاملہ میں سنجیدگی سے خود احتسابی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے سکھر کی تقریب میں یہی نہیں ہوا کہ انہوں نے سیاست دانوں کی حکومت مخالف تحریک اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کو ایک قرار دے کر آمرانہ سوچ رکھنے والے ان حکمرانوں کی یاد تازہ کر دی ہے کہ جب وہ کمزور ہوتے ہیں تو وہ اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف اس طرح کی زبان اور ترش و تلخ لب و لہجہ استعمال کرتے رہے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ حکومت مخالف سیاست دان بھی اخلاق و شرافت کی تمام حدود کو بھلا کر ایک منتخب وزیراعظم کو ان القابات سے مخاطب کر رہے ہیں جن سے میاں نواز شریف سے زیادہ منتخب با وقار اور با عزت منصب کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں اور یہ وہ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے لیڈر کو بچانے کے لئے صدر مملکت کے منصب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے زیر سماعت مقدمات سے ٹائم بار کرایا اور عدالتوں سے بری کرایا تھا۔ ہماری طاقت ور اشرافیہ اور حزب اختلاف کی صفوں میں شامل اشرافیہ بھی اور سول اور فوجی برادری اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو اب اس حقیقت کا ادراک کرنا پڑے گا کہ کرپشن کی لعنت اور لوٹ مار کی سیاست کا قلع قمع کئے بغیر وطن عزیز کی قومی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ ممکن نہیں رہا ہے، آئین کی پاسداری منتخب وزیراعظم کو اپنے انداز حکمرانی میں بھی ملحوظ رکھنا پڑے گی اور ان کی جگہ لینے کے خواہشمند سیاست دانوں کو بھی تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب بھی کسی ریاست کی فوج کمزور ہوتی ہے تو اسے ریاست کے خارجی دشمنوں نے اور ریاست کے داخلی دشمنوں کے گماشتوں نے خاص حکمت عملی اور سازش کے ذریعے قوم کی نظر میں متنازعہ بنانے کے لئے اسے ایسے کاموں میں الجھا دیا ہوتا ہے جو اس کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھا کرتے ہیں ۔

کرپشن ختم کرنا انتظامی مشینری اور قرارواقعی سزا دینا عدالتوں کا کام ہے ہمیں عدالتوں کو مضبوط اور انتظامی مشینری کو سیاست سے پاک کرنا پڑے گا تب ہی ہماری ریاست کے ہر ادارے کا وقار بحال ہو گا۔ آج اگر پاکستان کی بہادر مسلح افواج دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے مشن میں کامیابیاں حاصل کرتی نظر آ رہی ہیں تو اس کی بنیادی اور اہم وجہ قوم کے تمام طبقات میں اس کا غیر متنازعہ ہونا ہے۔ ریاست کے اس مقدس اور باوقار ادارے کو ہر صورت میں غیر متنازعہ رکھنے کی ذمہ داری جہاں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی ہے، وہاں عسکری قیادت کو ان تمام کو شٹ اپ کال دینا بھی ضروری ہو گیا جو اپنے گروہی مفادات، ذاتی خواہشات اور تعصبات کے اسیر ہو کر یہ تاثر دینے میں طلاقتِ لسانی صرف کر رہے ہیں کہ ملک کو بچانے کے لئے حالات کا جبر ایک بار پھر ماورائے آئین اقدام کا تقاضا کر رہا ہے۔ یہی وہ طائفہ ہے جو پانچ عشروں سے پہلے ماورائے آئین اقدام کی دہائی دیتا ہے اور پھر اپنی دکان چمکانے کے لئے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا علمبردار بن بیٹھتا ہے۔

سب سے زیادہ ذمہ داری آزاد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور ملازمین کی ہے کہ وہ عامل صحافیوں کی عملی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں اور ان کے لئے وہ تمام سہولیات اور وسائل بھی فراہم کریں اور ادارتی ڈسپلن بھی قائم کریں جس کی عدم موجودگی میں اس پیشہ میں ذمہ دارانہ صحت مند مسابقت کے بجائے غیر ذمہ دارانہ مقابلہ بازی کا عمل فروغ پا رہا ہے جس کے آگے بند نہ باندھے گئے تو ملک میں ذمہ دارانہ آزاد صحافت کا تصور ہی ناپید ہوجائے گا۔پانامالیکس کا معاملہ ہو یا کرپشن کے خلاف مہم جوئی ، ہم حقائق سے زیادہ اس پر زور دیتے نظر آ رہے ہیں اس کی زد کس پر پڑ رہی ہے، جس نے معاشرے کو نت نئے ذہنی امراض کا شکار بنا دیا ہے، ہم ایک ایشو پر طوفان اٹھاتے ہیں اور پھر اگلے دن اسے بھول بھال کر ایک نیا ایشو اٹھا دیتے ہیں۔ آج جس کو دیکھئے وہ پاناما لیکس اور بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے برآمد ہونے والی ستر کروڑ روپے کی رقم برآمد ہونے کی خبر ایسے دے رہے ہیں، جیسے اس طرح کا واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔ بلوچستان میں یہ مرض پرانا ہے،(اس سے پہلے ڈاکٹر مالک کے عہد میں بھی اتنا ہی مال پکڑا گیا، نتیجہ نامعلوم) اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخاب میں بلوچستان کے قلعہ نصیرآباد کے علاقے جھٹ پٹ کی تحصیل سے جناب ظفر اللہ خان جمالی کے گروپ سے ایک نوجوان اقبال کھوسہ ایم پی اے منتخب ہوا تھا۔اس نے بلوچستان میں بیورو کریسی میں روپے پیسے کی ریل پیل دیکھی تو 1988ء کا الیکشن لڑنے کے بجائے حکمرانوں سے صوبائی سول سروس میں جانے کے لئے سودا بازی کر لی تھی۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد مرکز پنجاب اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو سندھ کے ایک سول افسر ہوا کرتے تھے۔ تعلق ان کا شکار پور کی ایک برادری سے تھا سول سروس میں آنے سے پہلے پرائمری سکول میں ٹیچر تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو وارے نیارے ہو گئے۔1977ء میں بھٹو حکومت ختم ہوئی تو ان کے گھر سے نوٹوں سے بھری کئی درجن بوریاں برآمد ہوئی تھیں، گرفتار بھی ہوئے، مگر 1988ء میں پیپلزپارٹی کی دوبارہ حکومت آئی تو بے نظیر حکومت میں وہ پہلے سے بھی زیادہ بااختیار منصب دار مقرر ہو گئے۔ دوسرا واقعہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد 1997ء میں محترمہ کے شوہر نامدار جناب آصف علی زرداری کے ایک دوست جنہیں ان کی سفارش پر پاکستان اسٹیل ملز کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا ان کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز میں کرپشن کی ہوش ربا کہانیاں پاکستان کے میڈیا میں کیا عالمی شہرت کے حامل میڈیا کی بھی زینت بنی تھیں، بے نظیر بھٹو حکومت ختم ہونے کے بعد موصوف گرفتار ہوئے تو ان کے اپنے گھر کے تہہ خانے سے ایف آئی اے نے بہت بڑی رقم نوٹوں کی شکل میں برآمد کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے ایک قریبی عزیز کے نام پر بنکوں کے لاکرز سے پچاس کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم برآمد ہوئی تھی۔ جس کے بارے میں ان کے عزیز نے باقاعدہ بیان ریکارڈ کرایا تھا کہ یہ رقم میری نہیں بلکہ میرے ماموں۔۔۔ چیئرمین پاکستان اسٹیل کی ہے نیب میں مقدمے چلے مگر پاکستان اسٹیل کے پرنسپل وزارت تجارت کے عدم تعاون کی وجہ سے موصوف عدالت سے بری ہو گئے تھے اگر وہ بری ہو گئے تھے تو مشتاق رئیسانی کیوں بری نہیں ہو جائیں گے؟ اور ڈاکٹر عاصم حسین پر عائد فرد جرم عدالتوں سے ثابت ہو گی؟ملک کے ممتاز ماہر معیشت اور تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تو یہ ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کی دولت کا بڑا حصہ ملک سے باہر نہیں اب بھی ملک کے اندر ہے اور جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا احتساب کریں یہ سب ان کے علم میں بھی ہے اور اسٹیٹ بینک کے علم میں بھی اور عدالتوں میں برسوں سے اس حوالہ سے کیس پڑا ہوا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...