وزیراعظم کی لاہور آمد، وزیراعلیٰ کی ملاقات، تبادلہ خیال

وزیراعظم کی لاہور آمد، وزیراعلیٰ کی ملاقات، تبادلہ خیال

لاہور سے چودھری خادم حسین

ملک میں پاناما لیکس کے حوالے سے سیاسی ماحول تو بہت گرم ہے تاہم اس کی تمام تر شدت اور سرگرمی اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے البتہ بیانات کی حد تک دوسرے شہروں کو بھی شرف حاصل ہو جاتا ہے لاہور میں تو عمران خان والے جلسے اور وہاں خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک زیر بحث چلا آ رہا ہے اور محافل میںیہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں کہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا اگر کوئی اکا دکا واقعہ ہوتا ہے تو روکنے اور شرارت کرنے والے کا مواخذہ بھی موقع پر ہو جاتا تھا لیکن یہاں تو مقدمہ درج ہو چکا، فوٹیج سے بہت سے چہرے سامنے آئے ہیں، مقدمہ درج ہے تو تفتیش بھی ہوگی۔ عمران خان نے بھی نادرا سے رجوع کرکے ذمہ دار حضرات کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا لیکن نتیجہ کسی طرف سے سامنے نہیں آیا، فوٹیج سے شناخت واضح ہے اس کے باوجود ابھی تک کوئی بھی ذمہ دار گرفت میں نہیں آیا،صرف ایک ٹی وی چینل یہ ذمہ داری نبھا رہا ہے، یہ صرف اسی چینل کا کام تو نہیں ہے یہ ایک معاشرتی برائی پیدا ہوئی اسے ٹھیک کرنا ضروری ہے اور باہمی تعاون سے نادرا کے ذریعے ان حضرات کو قابو کرنا چاہیے کہ مستقبل میں ایسا واقع پیش نہ آئے۔

پاناما لیکس کی ایک اور قسط منظر عام پر آ گئی اس میں بھی پاکستانیوں کے نام ہیں اور بعض اہم شخصیات کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں، ان میں تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان کے علاوہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے کزن طارق اور سیٹھ عابد بھی شامل ہیں اور عمران خان کے ایک اور دوست کا نام بھی ہے۔ مونس الٰہی بھی مالک نکلے۔اس پر اب مزید بحث ہونے لگے گی ابھی پہلا معاملہ ہی طے نہیں پایا، اسے طول دینے کی بجائے جلد حل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ ویک اینڈ پر لاہور آ جاتے اور والدہ کی قدم بوسی کرتے ہیں، گزشتہ دنوں اس میں وقفہ آیا کہ بیرونی دوروں کے علاوہ پاناما لیکس پر اپوزیشن سے پھڈا ہوا، یہ ابھی تک جاری ہے۔ بہرحال اس ویک اینڈ پر وہ آئے اور اپنی رہائش گاہ پر دن گزارا، ان کی آمد اور رائے ونڈ قیام ہو تو وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف بھی ان سے ملنے چلے جاتے ہیں، دونوں بھائی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ہیں ایک جماعت کے قائد ہیں اس لئے یہ ملاقات ملکی امور کے حوالے سے بات چیت پر مبنی بھی ہوتی ہے، اس مرتبہ بھی وزیراعلیٰ گئے اور دونوں بھائیوں کے درمیان بہت سے امور پر گفتگو ہوئی اس میں یقیناًپاناما لیکس، اپوزیشن کا رویہ اور جوابی طور پر مسلم لیگ (ن) اور حکومت کے طرز عمل کے بارے میں بھی مشورہ ہوا ہو گا، یہاں دونوں قائدین کے جو میڈیا منیجرز ہیں وہ بھی اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں برتتے ۔ مثبت بات کہی گئی کہ اس مسئلہ (پاناما لیکس، جوڈیشل کمشن) کے حوالے سے بات چیت سے گریز نہیں ہو سکتا لیکن ’’ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی‘‘ یہ شہ سرخی بن گئی، تاہم میڈیا منیجرز شائد یہ بھول گئے کہ اس فقرہ سے پرانی یاد بھی وابستہ ہے اور تب بھی یہ شہ سرخی بنی تھی۔ جب وزیراعظم نے کہا ’’ڈکٹیشن قبول نہیں کروں گا‘‘ لیکن ہوا یہ کہ پھر محمد نوازشریف اور غلام اسحاق کے درمیان طے ہو گیا اور دونوں ہی مستعفی ہو گئے ،حالیہ ملاقات اور گزشتہ روز کی شہ سرخی نے لوگوں کو وہ دور بھی یاد دلا دیا۔اللہ کی شان جب سب کچھ ہو گیا،اداریئے بھی لکھے گئے تو پی آئی او نے تردید کر دی۔ یہ بھی دلچسپ ہے۔ کہا گیا ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ اسی تردید میں معمول کا بھی ذکر ہے کہ وزیراعظم آئیں تو دونوں بھائی ملتے خاندانی امور پر بات کرتے ہیں، واہ رے تردید؟، ملبہ میڈیا پر!

پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں دنیا گول کی طرح چکرا رہی ہیں، کراچی میں قائم ہونے والی ’’سنی تحریک‘‘ نے لاہور کا رخ کیا۔ سربراہ تحریک ثروت قادری نے لاہور میں کانفرنس کی۔ قیام کیا، ملاقاتیں کیں اور پھر شان پاکستان کے نام سے ریلی بھی نکالی جو داتا دربار سے شروع ہو کر فیصل چوک تک گئی اس میں حکومت مخالف رویے کا مظاہرہ کیا گیا، پلے کارڈ اور بینرز کرپشن مخالف تھے۔ثروت قادری نے خطاب بھی کرپشن ہی کے حوالے سے کیا، تاہم میڈیا سے بات چیت کے دوران ان کے موقف نے بہت سے حضرات کو سوچنے پر مجبور کر دیا، انہوں نے یہاں ایک محفل میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’’پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) حکومت کرتی رہی ہیں، لوگ ان سے مایوس ہوئے، اب اگر عمران خان کو موقع دے دیا جائے تو کیا حرج ہے، انہوں نے حیدرآباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں بھی کرپشن مخالف بڑے بڑے جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا۔

جماعت اسلامی نے یکم مئی سے باقاعدہ کرپشن مخالف تحریک شروع کر رکھی ہے، امیر جماعت اسلامی سراج الحق مسلسل جلسوں سے خطاب کررہے تھے اور کرپشن کے خلاف عوامی رائے عامہ کو بیدار کر رہے ہیں، ان کی طرف سے تازہ ترین تقریر دلچسپ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کی صفائی ہو رہی ہے ان کرپٹ لوگوں کو جلد ہی وہاں جانا ہو گا، سراج الحق تسلسل سے دورے کر رہے ہیں اور لاہور میں بھی ہفتہ وار میٹنگ کرتے ہیں، جماعت اسلامی متحدہ اپوزیشن کا بھی حصہ ہے جس کی طرف سے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا اور مشترکہ طورپر ٹی او آرز بنا کر بھیجے گئے۔امیر جماعت نے اعلان کیا کہ 23 مئی سے ٹرین مارچ ہو گا جو کراچی سے شروع کیا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ کتاب سے قاری کا رشتہ کمزور ہوا ہے اور آج کا انسان/ طالب علم کتاب کی بجائے انٹرنیٹ سے استفادہ کرتا یا کھیلتا ہے اور پڑھنے کی طرف سے رجحان کم ہوا، اسی حوالے سے کتاب میلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، کراچی اور لاہور میں بھی ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی نے 5سے 7مئی تک سہ روزہ کتاب میلہ منعقد کیا، توقع کے برعکس یہاں رونق اور توجہ رہی، طلباء اور طالبات کی کثیر تعداد نے بھی استفادہ کیا، اس میلے میں ہر نوع کی کتب رکھی گئی تھیں اور یہ فروخت بھی ہوئیں حتیٰ کہ ادب سے تعلق رکھنے والی کتابیں بھی خریدی گئیں یہ ایک کامیاب کوشش تھی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...