ملتان، میٹرو بس کا بمشکل60فیصد کام ہوا، باقی تاخیر کا شکار ہو گیا

ملتان، میٹرو بس کا بمشکل60فیصد کام ہوا، باقی تاخیر کا شکار ہو گیا

شوکت اشفاق

ملتان،بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام توقع کر رہے تھے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ان علاقوں کا کوئی چھوٹا موٹا دورہ کریں گے، لیکن شاید اس علاقے والوں کی قسمت میں کچھ ایسا لکھا ہے کہ وزیراعظم تو کیا وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بھی کم از کم ملتان خصوصی طو رپر نہیں آئے ہاں البتہ کسی اور شہر جانے کیلئے ملتان ائر پورٹ پر جہاز سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے تک ان کے قدم سر زمین ملتان پر ضرور رہے یا پھر کمال مہربانی کرتے ہوئے انہوں نے ملتان میٹرو بس کی تعمیر کا فضائی جائزہ لیا، لیکن کوئی رد عمل سامنے نہیں آ سکا یہی وجہ ہے ملتان میٹرو منصوبہ جسے ایک سال میں مکمل ہونا تھا بوجوہ اب تک صرف 60فیصد تکمیل ہوا ہے، جبکہ جو 40فیصد کام بچ رہا ہے وہ بنیادی کام ہے جس کے لئے میٹرو منصوبہ کے منصوبہ ساز اور کرتا دھرتا جو وقت دے رہے ہیں اس میں تو 20فیصد کام بھی مشکل نظر آ رہا ہے، کیونکہ اس کام کی رفتار کو کم کر دیا گیا،حالانکہ اب تک کم از کم ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت تو کر دی جاتی جہاں میٹرو روٹ اونچائی، یعنی پلرز پر تعمیر ہوا ہے اور اس کے نیچے اب جگہ خالی ہو چکی ہے تا کہ ٹریفک کا نظام کچھ بہتر ہو سکے، لیکن یہ منصوبہ ساز اپنی من مانی کے علاوہ کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں اب یہ منصوبہ کب تک مکمل ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ بات واضع ہے منصوبہ سازوں اور ذمہ داروں کی لا پرواہی اور عدم توجہی سے اس منصوبے پر 12قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جس سے سرکار تو کیا ٹھیکیداروں تک نے کچھ نہیں کیا، حالانکہ اس منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں کے پاس تعمیرات کے حوالے سے جو بھی مشینری ہے اس میں 80فیصد سمگل شدہ اور نان کسٹم پیڈ ہے، لیکن اس پر محکمہ کسٹم اور کسٹم انٹیلی جنس والے بھی خاموش ہیں اور یہ خاموشیاں یہیں تک نہیں ہیں۔

پوری پنجاب حکومت کی خاموشی سے اس وقت گندم کاشت کرنے والا انتہائی پریشان ہے کہ شاید وہ اگلے سال کے لئے گندم کا شت نہ کرنے کی قسم بھی کھا لے، کیونکہ گندم کی سرکار کو فروختگی کے لئے انہیں باردانہ نہیں مل رہا جس کے لئے کم از کم جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں سمیت چھوٹے چھوٹے علاقوں میں کاشت کار اور کسان منتیں ترلے کر رہے ہیں کہ انہیں بار دانہ دیا جائے جس کے لئے انہو ں نے مظاہرے اور جلوس بھی نکالے ہیں، لیکن اس پر بھی حکومت پنجاب کی خاموشی پراسرار ہے اور ہو یہ رہا ہے کہ آڑھتی اور کچھ فلور ملز مالکان ان کسانوں سے اونے پونے، یعنی 1000روپے فی من تک بھی گندم حرید کر رہے ہیں اب کسان پیچارہ کیا کرے اور کہاں جائے فریاد کس سے کرے مقامی ضلعی انتظامیہ اور ان کا ماتحت عملہ تو اس شدید گرمی میں اگر باہر نکلے تو شاید ویسے ہی پگھل جائیں،لہٰذا ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے معلوم نہیں کہ خادم اعلیٰ بھی ان کی آواز سنتے ہیں کہ نہیں اگر نہیں تو پھر انہیں سیاسی نقصان کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

پانامہ لیکس کا ایسا شورشرابا اٹھا ہے کہ اس کے وزن میں کئی چھوٹے چھوٹے لیکس اپنی موت آپ مر رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کا بھی ’’مک مکا‘‘ ہو جائے گا، حالانکہ یہ ایسے ایشوز ہیں جو مقامی سطح پر نہ صرف ایک بڑی اہمیت رکھتے ہیں،بلکہ اس میں عام شہریوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اس میں سرفہرست تو ملتان میں اناؤنس ہونے والا واپڈا اپمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کا فیز تھری سر فہرست ہے جبکہ پرل اسٹیٹ ہولڈنگ‘ رائل آرچڑ ہاؤسنگ سکیم اور اس قسم کے متعدد رئیل اسٹیٹ کے منصوبے عوام کا اربوں روپیہ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے کیس نیب نے ٹیک اوور تو کر لئے ہیں، لیکن عوامی خدشات ہیں کہ صرف واپڈا ٹاؤن فیز تھری میں 5ارب سے زیادہ کا فراڈ کرنے والا سابق سیکرٹری اس وقت جوڈیشل ،یعنی جیل ہو چکا ہے اور نیب نے اس سے تحقیقات شاید مکمل کر لی ہیں، لیکن اس کیس میں سیکرٹری کے علاوہ کسی کو بھی کچھ نہیں کہاگیا اور نہ ہی ملتان ترقیاتی ادارے سے کوئی ریکارڈ لیا گیا ہے، کیونکہ اس منصوبے کے بارے زبان زد عام ہے اس کے مطابق واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی نے اس فیز میں اتنے رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں فروحت کر دی ہیں جس کے لئے زمین وہاں موقع پر موجود ہی نہیں ہے صرف کمرشل پلاٹوں کی مد میں چار سے پانچ ہزار فائلیں عوام الناس کو اپنی گڈ ول پر بیچی گئی ہیں اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے تو شاید پریشان نہ ہوں کیونکہ وہ پہلے ہی فائلیں بیچ کر نکل چکے ہیں، لیکن جن لوگوں نے یہ فائلیں خریدی ہیں اب ان کی فروخت تقریباً بند ہو چکی ہے معاملات صرف فیز تھری تک ہی محدود نہیں ہیں، مگر اس سے قبل متعارف کرائے جانے والے فیز ون اور ٹومیں بھی گھپلوں اور لوٹ مار کی انتہا کر دی گئی تھی اور پھر چائنا کٹنگ کا فارمولا کراچی کے بعد ملتان میں بھی پہنچ گیا اور دیدہ دانستہ خریدار کو پلاٹ کا سائز کم دیا جا رہا ہے حالانکہ پیسے پورے وصول کئے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت پنجاب کے لینڈ ایکٹ کے مطابق لاہور کے علاوہ پورے پنجاب میں اگر کوئی رہائشی کالونی بنائے گا یا پھر لینڈ سب ڈویژن کرے گا تو ایک مرلہ 270 فٹ کا ہو گا جبکہ زرعی زمین کے لئے یہ 271فٹ ہے، لیکن متذکرہ کالونیوں میں مرلہ 225فٹ کا دیا جا رہا ہے، یعنی قیمت اگر 10مرلے کی لیں گے تو خریدار کو زمین 8مرلے ملے گی ،لیکن حیرت کی بات یہ ہے اس پر نہ صرف خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف خود خاموش ہیں، بلکہ اہم صوبائی ادارے جن کا کام ہی انہیں مانیٹر کرنا ہے ان کی خاموشی بھی مجرمانہ حد تک پہنچ چکی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام الناس کو ان سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر لوٹا جا رہا ہے جس پر وزارت اور وزیراعلیٰ بالکل خاموش ہیں، حالانکہ اس حوالے سے شہر میں کافی بے چینی بھی پائی جا رہی ہے، ان متاثرین کو توقع تھی کہ نیب ان کے لئے امید کی کرن ثابت ہو گا لیکن ادھر بھی پر سرار خاموشی ہے جو مشکوک شہبات پیدا کر رہی ہے اور ان افواہوں کو سچ میں تبدیل کر رہی ہے کہ کم از کم واپڈا ٹاؤن فیز تھری کا کام نہ صرف کلیئر ہو جائے گا،بلکہ سوسائٹی کے پابند سلاسل سیکرٹری سعید خان بھی جلد باہر ہوں گے اب یہ دعویٰ کیسے سچ ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات پکی ہے کہ اس اتنے بڑے ایشو پر حکومت کی خاموشی متاثرین سمیت عوامی میں بے چینی اور بد اعتمادی پیدا کر رہی ہے جس کے لئے حکومت کو فوری طور پر اقدام کرنا ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...