وزیر اعظم نواز شریف کی مولانا برادرن کے ہمراہ خیبر پختونخوا پر چڑھائی

وزیر اعظم نواز شریف کی مولانا برادرن کے ہمراہ خیبر پختونخوا پر چڑھائی

بابا گل سے

پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑے بڑے جلسے منعقد کرنا اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کرنے کے کانٹے دار مقابلے عروج پر پہنچ چکے ہیں گزشتہ ہفتے کے اوائل میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بنوں میں جلسہ س خطا ب کرتے ہوئے تحریک انصاف کو خوب جھاڑ پلائی وزیر اعظم کے خطاب سے پہلے جمعی علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور وفاقی کابینہ کے رکن سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے بھی اپنا اپنا جوش خطابت دکھایا جمعیت کے دوران رہنماؤں کی تقاریر سن کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ بہت جلد خیبر پختونخوا میں سیاسی آگ لگنے والی ہے جمعیت کے دونوں رہنما اپنے جوش خطابت میں اخلاقیات کی تمام حدود پار کرگئے عمران خان اور انکی صوبائی حکومت کو یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے اس بات کی اجازت مانگی کہ اگر وہ حکم کریں تو ہم خیبر پختونخوا حکومت کو ایک ماہ کے اندر گراسکتے ہیں بنوں کے جلسے کی تقاریر پر میڈیا اور عوامی حلقوں میں خوب بحث ہوئی ابھی یہ بحث جاری تھی کہ عمران خان نے اپنا فیصل آباد کا جلسہ منسوخ کرکے پشاور میں جلسہ منعقد کیا عمران خان نے اپنے جلسے میں میاں محمدنواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو ان کے ساتھیوں سمیت عنوان کلام بنائے رکھا عمران خان نے ان تمام الزامات اور دھمکیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جو کہ بنوں کے جلسے میں دھاڑ دھاڑ کر بولی گئیں عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں کبھی خدا نخواستہ یہودیوں کی حکومت بنی تو مولانا فضل الرحمن ان کے بھی وزیر ہونگے عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کی تمام باتوں کاگن گن کر جواب دیا اور کہا کہ بنی گالا کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دینے والے موصوف بنی گالا کی پہاڑی بھی نہیں چڑھ سکتے۔ عمران خان نے اکرم درانی کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اکثریت ہے اس اکثریتی حکومت کا گرانے کیلئے تمہارے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تم ہمارے ایم پی ایز کو بھاری رشوتوں کے عوض خرید لو عمران خان نے اکرم درانی سے کہا کہ ’’ کیا یہی تمہاری شریعت اور اسلام ہے ؟ عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالا کی اینٹ سے اینٹ بجائے والو سن لو میں کل تمہارے آبائی شہر بنوںآرہا ہوں ۔

عمران خان نے اپنا اگل جلسہ فوری طور پر بنوں میں منعقد کرنے کااعلان کیا تو مولانا فضل الرحمن نے 24 گھنٹوں کے اندر پشاور میں اپنا جلسہ منعقد کر لیا اور اس جلسے میں کوئی اور بات نہیں کی گئی صرف تحریک انصاف اورخصوصا عمران خان کو ہی لتاڑتے رہے انہوں نے تحریک انصاف پر نہ صرف تنقید کی بلکہ انکا انداز خطابت اور الفاظ کا چناؤ پہلے سے بھی زیادہ جارحانہ تھا توقع ہے کہ عمران خان اپنے بنوں کے جلسہ میں مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی کے تازہ الزامات اور دھمکیوں کا بھرپور جواب دینگے جلسہ بازی کے مقابلوں میں میں وزیراعظم نوازشریف نے بھی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے جلسے کا اعلان کررکھا ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا خیبر پختونخوا میں یہ تیسرا جلسہ ہو گا جو انتہائی مختصر وقفے سے منعقد کیا جارہا ہے۔

پانامہ لیکس کے تنازع پر تحریک انصاف نے جب پنجاب کو اپنے جلسوں کا مرکز بنایا اور وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے حلقہ نیابت (لاہور )کو اپنا ہدف بنایا تو اس کے جواب میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خیبر پختونخوا کو اپنا اکھاڑہ بنا لیا اور مانسہرہ میں جلسہ کرنے کے کامیاب تجربے کے بعد بنوں میں مولانا فضل الرحمن کے کاندھے پر بندوق رکھ کر خوب ہوائی فائرنگ کی وزیر اعظم اب ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے بھی زیادہ سخت رویہ رکھنے کیلئے سخت بے تاب ہیں وزیر اعظم نواز شریف پہلی مرتبہ اپنی کسی سیاسی حکمت عملی میں کامیاب نظر آئے انہوں نے عمران خان کے جلسوں کو پنجاب سے خیبر پختونخوا میں دھکیل دیا عمران خان بے شک فیصل آباد میں جلسہ کرنے جارہے ہیں مگر در حقیقت انکی ساری توجہ خیبرپختونخوا پر مرکوز ہے جہاں وہ حکمران اتحادی جماعتوں کے جلسوں کے جواب میں انہی کی گراؤنڈ پر اپنے جلسے منعقد کررہے ہیں اور اب پشاور کے بعد عمران خان بنوں میں جلسہ کرنا جارہے ہیں اس طرح اب عمران کی توجہ پنجاب کے ساتھ خیبر پختونخوا پر مرکوز ہوگئی ہے یہ بات طے ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ہونے والے تمام جلسے وہ ہیں جو پنجاب کے کسی نہ کسی ضلع میں ہونے چاہئیں تھے مگر نواز شریف کی حکمت عملی ان جلسوں کو پنجاب سے اٹھا کر خیبر پختونخوا لے آئی خیبر پختونخوا میں گرمی اور حبس کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھتا جارہا ہے اور آنے والا دن گزرئے دن کے مقابلے میں تلخی بڑھا رہاہے عوامی حلقوں کایہ خیال ہے کہ دھمکیوں اور الزام تراشیوں کا بازار گرم رہے گا اور معاملہ اس سے آگئے نہیں بڑھے گا دونوں پارٹیاں شدید گرمی میں اپنے ووٹروں اور سرکاری اہلکاروں کو کڑی دھوپ میں کھڑا کرکے کسی جرم کی سزا دیتے رہیں گے سابق اور حسب روایت کوئی نتیجہ نکلے نہ نکلے سلسلہ جاری رہے گا۔ تحریک انصاف کے پشاور جلسے کی تیاریوں میں وزیر اعلی اور بعض صوبائی قائد ین کو اسوقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے حلقے کے ناظمین ڈسٹرکٹ ممبران اور کونسلروں نے بغاوت کرتے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کردی حالات اسقدر سنگین ہوگئے کہ وزیر اعلی کو اجلاس چھوڑ کر جانا پڑ گیا منتخب بلدیاتی نمائندے شاہ فرمان کی نافرمانیوں سے د لبرداشتہ اور نالاں تھے وزیر اعلی ہاؤس میں اس بد نظمی کے چند گھنٹوں بعد ہنگو میں تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے احتجاجا جی ٹی روڈ بلاک کردیا یہ بلدیاتی نمائندے اپنی ہی صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے تھے مظاہرین کامطالبہ تھا کہ بلدیاتی نمائندو کو اختیارات دیئے جائیں اور فنڈز میں کٹوتی کافیصلہ واپس لیاجائے ۔

اس ماحول میں خیبر پختونخوا کے 700 سے زائد پی ای سی اور پی ایم ایس افسران نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کردی خیبر پختونخواکی تاریخ کا یہ دلچسپ پہلو ہے کہ مذکورہ افسران عوامی حلقوں کے احتجاج وہڑتال جا کر بقین دہانی کرکے ان کی ہڑتال واحتجاج وغیر ہ ختم کراتے تھے مگر آج وہ خود احتجاج پر ہیں مگر ان کو یقین دہانی کرانے والاکوئی نہیں یہ ہڑتال ایسے وقت میں شروع کی گئی جب بیوروکریسی کی اکثریت بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے بیوروکریسی کی اکثریت بجٹ بنانے کے لئے تجاویز اور سمریوں کو حتمی شکل دینا چاہتی ہے جبکہ چیف سیکرٹری نے ایک ہفتہ قبل احتجاجی افسران کو مطالبات حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد کوئی پیش رفت نہ ہونے پر افسران نے اپنی قلم چھوڑ ہڑتال کا دورانیہ 2گھنٹوں سے بڑھا کر چار گھنٹے کردیا وزیراعلی خیبرپخوتنخوا پشاور کے جلسے کے دوران سی پیک کے تنازعہ کے حل کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے اسلام آباد چلے گئے سکندرشیر پاؤ عنایت اللہ خان شہرام ترکئی اورعاطف بھی وزیراعلی کے ساتھ اسلام آباد جانے والوں میں شامل ہیں وفد سی پیک کے مغربی روٹ پروفاقی وزیر احسن اقبال سے مذاکرات کرے گا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...