جنگ آزادی 1857میں ناکامی کے بعد مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے،رفیق تارڑ

جنگ آزادی 1857میں ناکامی کے بعد مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے،رفیق تارڑ

لاہور(پ ر) 1857ء کی جنگ آزادی تحریک پاکستان کی خشتِ اوّل ہے۔ جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو بڑے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ۔ نئی نسل اپنی تاریخ کا مطالعہ اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کرے ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ، سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں برصغیر میں برطانوی تسلط کیخلاف لڑی گئی جنگ آزادی 1857ء کی اہمیت ، پس منظر ،واقعات اور اسکے نتائج بارے آگہی دینے کیلئے منعقدہ خصوصی نشست کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد،ممتاز سیاسی رہنما چوہدری نعیم حسین چٹھہ، نظریۂ پاکستان فورم آزادکشمیر کے صدر مولانا محمد شفیع جوش ، صدر شعبۂ تاریخ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ سلیمان،بیگم صفیہ اسحاق، بیگم اقبال نسیم، سید اسد اللہ خان، اساتذۂ کرام اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ مئی 1857ء کو میرٹھ کی فوجی چھاؤنی میں بھڑکنے والی چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی آگ میں تبدیل ہوگئی جو دہلی اور اس کے قرب و جوار تک جاپہنچی۔ حریت پسندوں کی جانب سے عَلمِ بغاوت بلند کئے جانے کے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ جنگ مستقبل میں تحریک قیامِ پاکستان کی بنیاد ثابت ہوگی۔ انگریزوں نے چونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی‘ لہٰذا دیگر اقوام کی نسبت مسلمانوں بالخصوص علمائے کرام نے ہی اس جنگِ آزادی میں زیادہ جوش و جذبے سے حصہ لیا اور زیادہ نقصان بھی انہیں ہی اٹھانا پڑا ۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل ہماری حالت بہت پسماندہ تھی ۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران حریت و بہادری کی کئی داستانیں رقم ہوئیں۔اس جنگ میں ناکامی کے بعد مسلمانوں سے بہت امتیازی سلوک کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ سلیمان نے کہا کہ محمد بن قاسم کی اس خطہ میں آمد اسلام کا آفاقی پیغام بھی اپنے ساتھ لائی اور لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ شاہد رشید نے کہا کہ 1857ء کی جنگ آزادی نے مسلمانانِ ہند کے دل و دماغ میں انگریز استعمار اور ہندو تسلط کے خلاف جہد مسلسل کا عزم نو پیدا کردیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...