قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی بلوچستان میں ملک دشمن این جی اوز کیخلاف کارروائی کی سفارش

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی بلوچستان میں ملک دشمن این جی اوز کیخلاف کارروائی ...

لاہور ( سپیشل رپورٹر)قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کہا ہے کہ کچھ این جی اوز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں پیش پیش ہیں جوبلوچستان میں موجود غیرملکی آلہ کاروں میں رقوم تقسیم کررہی ہیں، حکومت اورقانون نافذ کرنیوالے ادارے ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کریں۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سلیم ایچ مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہونیو الے اجلا س میں سینیٹر سعید غنی کی طرف سے مسلم کمرشل بینک کی نجکاری کی نیب انکوائری رپورٹ کی منظوری کے علاوہ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ذمہ داریوں اور کردار کے علاوہ پشاور ڈرائی پورٹ پر پچھلے تین سالوں سے روکی گئی 386 ایمپورٹیڈ گاڑیوں اور نیشنل بنک آف پاکستان میں MTO کی ترقیوں اور معذور افراد کی عرضد اشتوں پر غور کیا گیا ۔چیئرمین کمیٹی سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ کارپوریٹ ری ہیلی پٹیشن بل 2015 پچھلے کئی ماہ سے زیر التواء ہے ذاتی طورپر وزارت اور وزیر خزانہ کو خط لکھ چکا ہوں اگر وزارت ترمیم کرنا چاہتی ہے یا بل لانا چاہتی تو وہ بھی نہیں لایا گیا ۔بل کوارکان کی بحث اور رائے کے بعد منظور کر لیا گیا ۔ایچ ای سی کی ذیلی رپورٹ سے لفظ مجرمانہ اور دوسرے سخت فقروں کو بھی رپورٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوا ۔چیئرمین ایف بی آر کی دوبئی میں موجودگی کی وجہ سے آف شور کمپنیوں کے معاملے کو موخر کر دیا گیا ۔سینیٹر نثار محمد کی طرف سے پشاور ڈارئی پورٹ پر روکی گئی 386 ایمپورٹیڈ گاڑیوں کے حوالے سے محرک سینیٹر نثار خان نے کہا کہ سمند ر پار پاکستانیوں نے یہ گاڑیاں منگوائیں لوگ تین سال سے خوار ہو رہے ہیں قیمتی سرمایہ ڈوب گیا ہے گاڑیاں تباہ ہو گئیں ازالہ کے لئے حکومت ریلیف دے ایک طرف حکومت سمگل شدہ گاڑیوں کو ایمنسٹی دے رہی ہے اور دوسری طرف ایمپورٹ پالیسی کے تحت آنے والے گاڑیاں روک لی گئی ہیں ۔کمیٹی چیئرمین سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر یکساں پالیسی کے ذریعے پورے ملک میں ایک جیسا قانون بنائے اور روکی ہوئی گاڑیوں کو معاملہ حل کیا جائے ۔کمیٹی ارکان نے متفقہ طور پر کہا کہ کلیٹریٹ کمشنر ، ٹربیونل اور وفاقی محتسب کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے کمیٹی کی رائے تھی کی معاملہ کمیٹی میں آنے پر ایف بی آر کی طرف سے عدالت میں جانا غیر قانونی ہے کمیٹی نے سفارش کی کہ متاثرین کو ریلیف دیا جائے ۔معذور افراد کے حوالے سے کہاگیا کہ کمیٹی خود یورپین یونین، ولڈ بنک اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے معذروں کی امداد کیلئے جامع تجاویز بنائے اور کہا کہ اگر پارلیمنٹ اور حکومت معذروں کی مدد نہیں کر سکتی تو کون کرے گا قانون بھی بنانے پڑے تو بنائیں گے۔ گردشی قرضوں اور یورو بانڈ کے معاملات کو بھی کمیٹی اجلاس میں اگلی بار زیر بحث لایا جائے گا۔ این جی او سرگرمیوں کے حوالے سے سینیٹر فتح حسنی نے کہا کہ کچھ این جی او باقاعدہ لوگوں میں رقوم تقسیم کر رہی ہے خصوصی طور پر بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی رقوم سے بیرونی آلہ کار پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ، حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ان کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے، نیشنل بنک میں ایم ٹی اور ک ترقیوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ 35 فیصد اہل ٹرینی آفسیر ز کو ترقیاں دے دی گئی ہیں۔ کمیٹی اجلاس میں فنانشنل انسٹی ٹیشونز ترمیمی بل 2016 جو قومی اسمبلی سے پاس ہوا ، ہوا ہے کارپویٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز بل 2016 جو قومی اسمبلی سے پاس شدہ ہے بھی کمیٹی اجلاس میں پیش کیے گئے ۔سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ اجلاس میں رولز اور ریگولیشن پر مکمل عمل درآمد کے فیصلے ہونے چاہیے ۔کمیٹی اجلا س میں سینیٹر الیاس احمد بلور، محسن خان لغاری، عائشہ رضا فاروق، کامل علی آغا، مشاہد اللہ خان ، سعود مجید ، فتح محمد حسنی، اسلام الدین شیخ ، نثار محمد ، وزارت خزانہ ، ایف بی آر ، ایس ای سی پی کے علاوہ نیشنل بنک کے افسران نے شرکت کی ۔

مزید : علاقائی


loading...