اوبامہ کا دورہ جاپان کے دوران ہیرو شیما جانے کا فیصلہ ،معافی نہیں مانگیں گے

اوبامہ کا دورہ جاپان کے دوران ہیرو شیما جانے کا فیصلہ ،معافی نہیں مانگیں گے

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر بارک اوبامہ نے کچھ تاخیر کے بعد با لآخر جاپان کے دورے میں ہیروشیما جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے شیڈول فائنل کردیا ہے ۔ صدر اوبامہ پہلے ویت نام جائیں گے جو ان کا اس ملک کا پہلا دورہ ہوگا جس کے دوران وہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع شراکت کے معاہدے پر بات چیت کریں گے۔ امریکی صدر بعد میں جاپان جائیں گے جہاں وہ ’’گروپ آف سیون‘‘ یا جی سیون کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے جو 21 مئی سے 28 مئی تک جاری رہے گا۔ 1945ء میں ہیرو شیما پر امریکی ایٹم بم گرانے کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاری کے بعد پہلی مرتبہ کوئی امریکی صدر اپنے عہد صدارت میں سرکاری طور پر اس شہر میں جائے گا۔ قبل ازیں جمی کارٹر نے عہد صدارت سے اترنے کے بعد ہیروشیما کا دورہ کیا تھا۔ ہیروشیما کے دورے کے موقع پر جاپانی وزیراعظم شنزوا بے ان کے ہمراہ ہوں گے۔ امریکہ نے 6 اگست 1945ء میں دنیا کا پہلا ایٹم بم ہیرو شیما پر گرایا تھا جس میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے تین دن بعد امریکہ نے ناگاساکی کے ساحلی شہر پر پلوٹونیم بم گرایا تھا جس میں 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جاپان طویل عرصہ تک عالمی رہنماؤں پر زور دیتا رہا تھا کہ وہ ہیرو شیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم کے اثرات کا جائزہ لیں اور ایٹمی دوڑ ختم کرنے کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس مجوزہ دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دورہ صدر کے اس عہد کا مظہر ہوگا کہ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرکے پرامن اور محفوظ بنایا جائے‘‘۔ گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی ہیرو شیما کا دورہ کیا تھا۔ اوبامہ کی آبائی ریاست ہوائی میں پیرل ہاربر پر جاپان کے حملے کی دسمبر میں 75 ویں برسی منائی جا رہی ہے جس کے جواب میں امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا تھا۔ امریکی ترجمان جوش ارنسٹ نے اپنی بریفنگ میں واضح کہا کہ صدر اوبامہ سمجھتے ہیں کہ انہیں جاپان سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید : علاقائی


loading...