طبی تعلیم کیلئے قائم نجی اداروں کو من مانی کرنے اور طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی :لاہور ہائیکورٹ

طبی تعلیم کیلئے قائم نجی اداروں کو من مانی کرنے اور طلباء کے مستقبل سے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی انسپکشن کے اقدام کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی،مسٹرجسٹس شمس محمود مرزا نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ طبی تعلیم کے لئے قائم نجی تعلیمی اداروں کو من مانی کرنے اور طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالتی سماعت کے موقع پر رہبر میڈیکل کالج کی جانب سے موقف ختیار کیا گیا کہ کہ کالج میں زیر تعلیم طالب علموں کی کلینیکل کلاسوں کے لئے ہسپتال خرید لیا گیا ہے مگر پی ایم ڈی سی کی انسپکشن ٹیم نے قبل از وقت انسپکشن کی جو بے بنیاد ہے،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل نوشاب اے خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نجی کالج میں ایک برس گزرنے کے باوجود ایم بی بی ایس تیسرے سال کے زیر تعلیم طلباء کو ہسپتال نہ ہونے کہ وجہ سے ابھی تک تھیوری کے ساتھ کلینیکل کلاس نہیں پڑھائی جا رہیں،انہوں نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی انسپکشن ٹیم نے طالب علموں کی شکائت پر میڈیکل کالج کی انسپکشن کی ، فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ طبی تعلیم کے لئے قائم نجی تعلیمی اداروں کو من مانی کرنے اور طلباء کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،فاضل جج نے مزیدکہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل کو انسپکشن کرنے اور ہدایات جاری کرنے کا مکمل اختیارحاصل ہے، عدالت نے میڈیکل کالج کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی۔

مزید : علاقائی


loading...