مشتاق رئیسانی ایک چھوٹی مچھلی ہے۔آگے کچھ نہیں؟

مشتاق رئیسانی ایک چھوٹی مچھلی ہے۔آگے کچھ نہیں؟
 مشتاق رئیسانی ایک چھوٹی مچھلی ہے۔آگے کچھ نہیں؟

  


بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کے گھر سے کروڑوں روپے نیب نے برآمد کر لئے۔ایک دوست نے اس پر زبردست تبصرہ کیا کہ اس ملک میں تو قائد اعظم سے محبت کرنا بھی ایک جرم بن گیا۔ محترم مشتاق رئیسانی نے قائد اعظم کی زیادہ تصاویر کیا جمع کر لیں۔ انہیں اپنے اس شوق کی وجہ سے پکڑ لیا گیا ہے۔ حالانکہ بانی پاکستان کی تصاویر جمع کرنا کوئی جرم تو نہیں ہونا چاہئے۔ اس تبصرہ کو یہیں تک محدود کرتے ہوئے اس معاملہ کو دیکھیں تو یہ اس رفتار سے آگے نہیں بڑھا جس کی توقع تھی۔ اب اس ضمن میں جو نام سامنے آرہے ہیں۔ وہ اتنے سنسنی خیز نہیں جس کی توقع تھی۔

بلوچستان کے حوالے سے گزشتہ روز بہت لوگوں سے بات ہوئی۔ابتدائی طور پر میرا خیال تھا کہ مشتاق رئیسانی سے اتنی بڑی رقم کی برآمدگی کی وجہ سے بلوچستان کی ایک بڑی مچھلی پکڑی گئی ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ مشتاق رئیسانی کوئی بڑی مچھلی ہے۔ سب کی متفقہ رائے تھی کہ وہ ایک چھوٹی مچھلی ہے۔ آپ جس رقم کو بڑی رقم سمجھ رہے ہیں۔ وہ بھی بلوچستان میں ہونے والی کرپشن کے تناظر میں کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر مشتاق رئیسانی بلوچستان میں ہونے والی کرپشن کے تناظر میں ایک چھوٹی مچھلی ہیں تو بڑی مچھلیاں کون ہیں؟ اس ضمن میں رائے یہ ہے کہ مشتاق رئیسانی چونکہ بلوچستان کے کافی عرصہ سے سیکرٹری خزانہ تھے۔ اور ان کے پاس بلوچستا ن میں ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا اختیار تھا۔ اس لئے وہ وہی فنڈز جاری کرتے تھے جن میں ان کا حصہ ہوتا تھا۔ باقی فائلوں پر جن میں ان کا کمیشن نہیں ہو تا تھا اعتراض لگا دیتے تھے۔ اس طرح وہ ترقیاتی فنڈز اور دیگر ٹھیکیداروں کے فنڈز جاری کرتے اور ایمانداری سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔لیکن جو لوگ بلوچستان کو جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کرپشن کی کئی مدیں ہیں بلکہ بلوچستان میں ہر مد میں کر پشن ہے۔ اور کرپشن کی سب سے بڑی شرح سمگلنگ ہے۔ بلوچستان کا ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل بارڈر ہے۔ اور دونوں ممالک سے سمگلنگ عروج پر ہے۔ ایران سے ڈیزل کی سمگلنگ کرپشن کا سب سے بڑا اکاؤنٹ ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں ایران کی سرحد کے ساتھ اضلاع میں تعیناتی سب سے پر کشش تعیناتی سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح افغانستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان واپس سمگل ہو کر پاکستان آتا ہے ۔ اور اس سامان کی سمگلنگ بھی کرپشن کا ایک بڑ ااکاؤنٹ ہے۔ لیکن ڈیزل کی سمگلنگ پھر بھی سب سے زیادہ منافع بخش کام ہے۔ اس حوالہ سے لسبیلہ کی بہت اہمیت ہے کہ وہاں سے کراچی چالیس منٹ کا راستہ ہے۔ا س لئے کہا جا تا ہے کہ وہاں سے سمگلنگ سب سے منافع بخش ہے۔

یہ بھی مانا جا تا ہے کہ سملنگ میں بڑا حصہ ایف سی کا ہے لیکن سول افسران کو بھی حصہ ملتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سرحدی ضلع سے روزانہ دوکروڑ روپے سمگلنگ سے کرپشن کا پیسہ جمع ہو تا ہے۔ جہاں روزانہ دو کروڑ جمع ہو رہا ہو۔ وہاں کل ستر کروڑ کی کیا اہمیت ہے ۔ یہ تو ایک ماہ کی کرپشن کی رقم کے برابر ہے۔ اسی طرح افغانستان سے ملحقہ سرحدی اضلاع بھی روزانہ ایک کروڑ تک آمدنی کے اضلاع سمجھے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں بیچارے مشتاق رئیسانی بلا شبہ ایک چھوٹی مچھلی ہیں۔

مشتاق رئیسانی کے ساتھ جو نام اب تک جڑے ہیں وہ ٹھیکیدار اور دیگر ایسے لوگ ہیں جو بڑے نام نہیں ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ رقم ہنڈی سے باہر جانی تھی۔ اور مشتاق رئیسانی خود ہنڈی کا کام کرتا ہے۔ اس لئے اس کے پاس مختلف لوگوں نے رقم جمع کروائی ہوئی تھی۔ لیکن بلوچستان میں اقتدار کے ایوانوں کو جاننے والے افراد اس کہانی کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ مشتاق رئیسانی کوئی ہنڈی کا کام کرتے تھے۔ البتہ یہ بات مانی جا رہی ہے کہ ان کے ساتھ کرپشن میں ٹھیکدار شامل ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت خوف ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی رائے ہے کہ مشتاق رئیسانی کا پکڑا جانا کوئی نیب کی بڑی کارروائی نہیں ہے۔ بلکہ یہ مخبری مشتاق رئیسانی کے کسی قریبی ساتھی نے کی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ پکڑے گئے ہیں۔ اگر نیب کے پاس مکمل معلومات ہوتیں تو وہ ساتھ ہی باقی لوگوں کو بھی پکڑ لیتی۔ بہر حال بلوچستان میں سابقہ حکومت کے وزراء خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ لینے والے تو موجود ہ قائد حزب اختلاف مولانا واسع کا بھی نام لے رہے ہیں۔

بلوچستان میں کرپشن کے خلاف کوئی بڑا کریک ڈاؤن نہیں ہو رہا۔ مشتاق رئیسانی کا واقعہ ایک حادثاتی واقعہ ہے۔اس کے ساتھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کا معاملہ بھی پرانامعاملہ تھا۔ ورنہ بلوچستان میں کرپشن کی شرح انتہائی خطرناک حد تک رہی ہے۔ لیکن وہاں کے مخصوص حالات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ سرداروں کو تنگ نہیں کرنا چاہتی۔ کیونکہ پہلے ہی چند ناراض سرداروں نے بہت مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے۔ ہر سردار نے سمگلنگ کے لئے ایک اپنی فورس اور نیٹ ورک بنا یا ہوا ہے جس کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی۔ اسی طرح ترقیاتی سکیموں میں ستر فیصد تک کمیشن چل رہی ہے۔ ہر محکمہ ہر سطح پر کمیشن طے ہے۔ ہر منصوبہ کمیشن کی کھلی کتاب ہے۔ لیکن شائد نیب مزید آگے نہیں بڑھنا چاہتا۔یہ ایک اتفاقیہ حادثاتی کارروائی تھی ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

مزید : کالم


loading...