پاکستان سے محبت کی سزا ،امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دیدی گئی

پاکستان سے محبت کی سزا ،امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو ...

  



ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومت نے امیر جماعت اسلامی 72سالہ مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دیدی ۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر قانون کا کہناتھا کہ مطیع الرحمان نظامی کو 1971کی جنگ میں بغاوت کے الزامات کے تحت تختہ دار پر لٹکایا گیاہے ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق مطیع الر حمان نظامی کی پھانسی کی جگہ تبدیل کردی گئی تھی اور انہیں کشمیر پور جیل سے ڈھا کہ جیل منتقل کردیا گیاتھا۔اس سے قبل اتوار کی رات 8بجے قاسم پور جیل میں امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمان نظامی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنا یا گیا۔ضابطے کے مطابق سپریٹنڈنٹ جہانگیر کبیر نے فیصلے کا پورا متن سنا کر مطیع الرحمان سے تصدیقی دستخط کروائے۔اس کے بعد اہل خانہ نے مطیع الرحمان سے آخری ملاقات کی۔پیر کی صبح مطیع الرحمان کو ڈھاکہ جیل کے پھانسی گھاٹ منتقل کردیا گیا اور اٹارنی جنرل محب عالم کی جانب سے انہیں سرکاری طور پر مطلع کیا گیا کہ سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی ہے وہ چاہیں تو صدر سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں جس پر مطیع الرحمان نے کہا کہ میرے لیے اللہ کا رحم کافی ہے ،اللہ کے سوا کسی سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا۔پیر کی شام ان کے وکیل تاج السلام نے مطیع الرحمان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔روزنامہ ڈیلی سٹار کے مطابق ملاقات کے بعد تاج السلام نے اس بات کی تصدیق کردی کہ نظامی صاحب کے اہل خانہ بھی رحم کی اپیل نہیں کریں گے۔مطیع الرحمان نے کارکنوں کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کے بجائے استقامت کی دعا کی جائے ،ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری موت کے وقت میرا رب مجھ سے راضی ہو۔

لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مولانا نظامی کی شہادت کو بے گناہ انسانیت کا خون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا نظامی کا اکلوتا گناہ متحدہ پاکستان کی حمایت تھا۔حکومت پاکستان اور عالمی برادری اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہی۔عالم اسلام اور انصاف کے عالمی اداروں سے رابطہ کرکے خون نا حق بہنے سے بچایا جاسکتا تھا۔بنگلا دیش میں بے گناہ بہائے جانے والے خون میں حسینہ واجد اور مودی برابر کے شریک ہیں ،جبکہ حکومت پاکستان بے حسی کا شکار ہے۔حکومت کا یہی وطیرہ رہا تو بنگلا دیش میں جاری مظالم کا دائرہ پورے خطے تک پھیل جائے گا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بنگلا دیش میں مولانا نظامی کی شہادت جنوبی ایشیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کرے گی۔بنگلا دیشی حکومت نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے طے شدہ سازش کے مطابق نام نہاد وار ٹربیونلز کے ذریعے مولانا نظامی کو سزا سنائی اور بین الاقوامی برادری کی مذمت کے باوجود مولانا نظامی کو پھانسی دے کر بھارت کو خوش کیا۔انہوں نے کہا کہ اس شہادت پر اہل بنگلا دیش اور امت مسلمہ شدید رنج و غم میں مبتلاہے۔سینیٹر سراج الحق نے مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ امت مسلمہ کے قابل فخر قائد اور امت کا درد رکھنے عظیم عالم دین تھے۔انہوں نے زندگی بھر اسلام کی سربلندی کے لئے جدوجہد کی۔وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ،جماعت اسلامی کی شوریٰ کے رکن رہے اورانہوں نے بنگلا دیش میں تحریک اسلامی کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ان سے محبت اور عقید ت رکھنے والے موجود ہیں۔مولانا مطیع الرحمن نظامی ظالم کے آگے سرنہ جھکانے والے ٹھوس کردار کے مالک تھے۔مولانا نظامی بنگلا دیش حکومت میں وزیر بھی رہے۔سینیٹر سراج الحق نے حسینہ واجد حکومت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1974کے سہ فریقی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔سیاسی مخالفین کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ ختم نہ کیا تو ان کی اپنی حکومت قائم نہیں رہے گی۔ عالمی برادری اس سلسلہ میں اپنا موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں شہید قائد کی غائبانہ نماز جنازہ کے ذریعے ان کی شہادت کو خراج تحسین پیش کرے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...