یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر افغانستان سے بازیاب

یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر افغانستان سے بازیاب

کابل/ملتان/اسلام آباد( اے این این )پیپلزپارٹی کے رہنماء اورسابق وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی کے مغوی صاحبزادے علی حیدر گیلانی کوتین برس بعدافغانستان کے صوبے پکتیکا سے بازیاب کرالیاگیا، ان کی بازیابی افغان اورامریکی افواج کی مشترکہ کارروائی کے دوران عمل میں آئی،(آج)بدھ کوخصوصی طیارے میں پاکستان لایاجائے گا،وزیراعظم نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علی حیدرگیلانی کی بازیابی پریوسف رضاگیلانی کومبارکباد، ملک بھرمیں پیپلزپارٹی کے جیالوں کاجشن،ٹھول کی تھاپ پررقص،منوں مٹھائی تقسیم کی گئی ۔ گزشتہ روزدفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان قومی سلامتی کے مشیرمحمدحنیف اتمارنے مشیرخارجہ سرتاج عزیزکوٹیلی فون کرکے بتایاکہ علی حیدر گیلانی کوبازیاب کرالیاگیاہے۔ سرتاج عزیزکے مطابق علی حیدرگیلانی کو(آج)بدھ کولاہورپہنچادیاجائے گا۔علی حیدرگیلانی کے گھرکے کچھ افرادانہیں لینے کابل جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ میراخیال ہے کہ حیدرگیلانی بگرام میں امریکی حکام کے پاس ہیں، کابل پہنچنے پروہ پاکستانی سفارتخانے میں ہوں گے ۔جیسے ہی افغان حکومتی ترجمان کہیں گے ہم ان کی واپسی کیلئے طیارہ بھیج دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ بگرام ائیربیس پرعلی حیدرگیلانی کاطبی معائنہ کیاگیاان کی طبیعت ٹھیک ہے ۔ اسلام آباد میں افغان سفیرعمرزخیوال نے یوسف رضا گیلانی کو فون کرکے ان کے بیٹے کی بازیابی کی نویدسنائی ۔یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسی گیلانی کا علی حیدر گیلانی سے ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں علی حیدر کا کہنا تھا کہ وہ صحت یاب ہیں۔برطانوی میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کی رہائی گزشتہ روزصبح عمل میں آئی اور وہ القاعدہ سے منسلک گروپ کی قید میں تھے۔ابتداء میں علی حیدرگیلانی کوصوبہ غزنی سے بازیاب کرانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم افغانستان میں تعینات انٹرنیشنل اسسٹنس سکیورٹی فورس کے حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ گیلانی کو غزنی سے نہیں بلکہ گیان کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری ،شریک چیئرمین آصف زرداری اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یوسف رضا گیلانی کو بیٹے کی بازیابی پر مبارک باد دی۔ انہوں نے علی حیدر کی بازیابی پر اظہار مسرت کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ گیلانی خاندان نے تین سال صبر اور حوصلے سے گزارے ہیں، جبکہ علی حیدر گیلانی کے خاندان کا صبر اور حوصلہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کی بازیابی میرے لئے مسرت کا باعث ہے۔ یوسف رضاگیلانی سے ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ خوشی ہے کہ آپ کا بیٹا صحیح سلامت گھر واپس آئے ہیں۔ یوسف رضاگیلانی نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے پاک فوج کی کوششوں پرآرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ دریں اثناء علی حیدرگیلانی کی بازیابی کی خبرملنے کے بعد ملتان میں یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جشن منایا گیلانی ہاؤس کے باہر جیالوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور ٹھول کی تھاپ رقص کیاگیاجبکہ مٹھائی بھی تقسیم کی گئی ۔ واضح رہے کہ علی حیدر گیلانی کو نو مئی 2013 کو اِنتخابی مہم کے دوران صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔ اپریل 2014 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے نہیں بلکہ ایک اور گروہ نے اغوا کیا۔ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے بعد کئی بار میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کہ یوسف رضا گیلانی کو ان کے بیٹے کی خیریت کے حوالے آگاہ رکھا جاتا ہے۔ گذشتہ برس مئی میں علی حیدر گیلانی کی ایک نامعلوم مقام سے اپنے والد سے آٹھ منٹ تک فون پر بات بھی کروائی گئی تھی۔ علی حیدر گیلانی رواں برس بازیاب ہونے والی دوسری اہم شخصیت ہیں۔اس سے قبل سابق گورنر پنجاب کے بیٹے شہباز تاثیر بھی ساڑھے چار برس اغوا کاروں کی قید میں رہنے کے بعد آٹھ مارچ کو صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک سے برآمد ہوئے تھے۔

مزید : صفحہ اول


loading...